fbpx

دینی مدارس کے بچوں کو لیپ ٹاپ دینے کے حوالے سے طریقہ کار بنانے کی ہدایت

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریاستی و سرحدی امورنے فاٹا ہاؤس اسلام آباد پر وزارت داخلہ کے قبضے پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے وزارت داخلہ کو فاٹا ہاؤس اسلام آباد صوبہ خیبر پختونخوا کے حوالے کرنے کی ہدایت کردی۔

کمیٹی نے ایچ ای سی کو وفاق المدارس کے ساتھ مل کر دینی مدارس کے بچوں کو بھی لیپ ٹاپ دینے کے حوالے سے طریقہ کار بنانے کی ہدایت کردی ۔ قائمہ کمیٹیوں میں ارکان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے کورم کا سنگین مسائل پید اہونا شروع ہوگئے کورم نہ ہونے کی وجہ سے سیفران کمیٹی 45منٹ تاخیر سے شروع ہوئی ۔حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ شمالی وزیرستان کے متاثرہ دکاندارروں کو معاضہ دینے کے لیے فنڈز ہی نہیں ہیں فنڈز ملیں گے تو تقسیم کردیں گے ۔چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار نے کہاکہ مدارس والے بھی ہمارے بچے ہیں ان کو مین سٹریم میں لانا چاہئے، ان کے لئے لیپ ٹاپ کے لیے اگلے مالی سال میں علیحدہ پراجیکٹ بناتے ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریاستی و سرحدی امور( سیفران) کااجلاس چیئرمین محمد جمال الدین کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس کے مقرہ وقت پر صرف ایک رکن محمدافضل کھوکھر اجلاس میں آئے ۔ کورم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس شروع کرنے میں 45منٹ کی تاخیر ہوئی ۔ اجلاس میں سیکرٹری سیفران، ای ڈی ایچ ای سی، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، کے پی کے حکام نے شرکت کی ۔پہلے ایجنڈے کے محرک محسن داوڑ کمیٹی میں آئے تو کورم نہیں تھا جس پر انہوں نے کہاکہ آدھی پارلیمنٹ باہر بیٹھی ہوئی ہے اور باقی آدھے وزیر بن گئے ہیں کمیٹی میں شرکت کے لیے کوئی نہیں بچا ہے۔ وفاقی سیکرٹری سیفران نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیر سیفران عمرے پر گئے ہوئے ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی جمال الدین نے کہا کہ عمرے کے پیسے ہمارے اوپر تقسیم کرتے تو زیادہ ثواب ہوتا۔اس دوران رکن آفرین خان کمیٹی میں آئے جس کے بعد 11 بج کر 15منٹ پر رکن نصیبہ چنا،چوہدری محمداشرف اور نوید عامر جیو آئے تو کورم مکمل ہوا اور اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی اس دوران اجلاس تاخیر سے شروع کرنے پر رکن کمیٹی محمدافضل کھوکھر کمیٹی سے چلے گئے ۔

کمیٹی میں محسن داوڑ کا شمالی وزیرستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران متاثر ہونے والی تاجر برادری میں فنڈز کی تقسیم کا معاملہ زیر بحث آیا۔پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا حکام نے بتایا کہ دکانیں تباہ ہونے والوں کو معاوضہ دینے کے لیے 6.7 ارب روپے کی درخواست بھیجی ہوئی ہے،فاٹا کے لئے 17 ارب روپے سالانہ مختص ہوتے تھے، گزشتہ سال 17 ارب مختص ہوئے لیکن12 ارب ریلیز ہوئے، اس سال وہ پیسے مختص ہی نہیں ہوئے، تو کس طرح معاوضہ دے سکتے ہیں ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں اس لئے معاوضوں کی ادائیگی روکی ہوئی ہے۔ایجنڈے کے محرک محسن داوڑ نے کہا کہ ہمارا ایجنڈا پیسوں کی تقسیم کے حوالے سے ہے اگر پیسے ہی نہیں تو تقسیم کے طریقہ کار پر بات کرنا وقت کا ضائع ہے اس لیے جب تک پیسے نہیں ملتے اس وقت تک یہ ایجنڈا موخر کیاجائے ۔ کمیٹی نے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ موخر کردیا۔

اجلاس میں فاٹا ہاؤس اسلام آباد پر وزارت داخلہ کے قبضے سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا ۔ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کوبتایاکہ فاٹا ہاوس میں ہمارے دفاتر بنے ہوئے ہیں وہاں کام ہورہا ہے ہم نے بھی فاٹا ہاوس میں 6 ملین روپے خرچ کئے ہیں فاٹا ہاوس کے حوالے سے جو کمیٹی فیصلہ کرے گی ہم اس کو مانیں گے،فاٹا ہاوس ہمارے زیر استعمال ہے ۔محسن داوڑ نے کہا کہ آپ نے 6ملین خرچ کرکے اربوں کی جائیداد پر قبضہ کرلیا ہے فاٹا کے پی کے میں ضم ہوگیا ہے تو فاٹا ہاؤس بھی کے پی کے کو دیا جانا چاہیے آپ نے بلڈنگ ہڑپ کر لی ہے، پوری بلڈنگ پر قبضہ کر لیا ہے، کس قانون کے تحت یہ عمارت آپ نے قبضے میں لی ہے کس نے لکھ کر دیا ہے کہ آپ نے اس پر قبضہ کرلیا ہے ۔صوبہ کے پی کے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فاٹا ہاوس کا قبضہ واپس لینے کے لیے ہم نے باقاعدہ خط لکھا ہے مگر ابھی تک اس کا جواب وزارت داخلہ نے نہیں دیاہے ۔ چیئرمین کمیٹی جمال الدین نے کہاکہ آپ فاٹا ہاؤس صوبے کو واپس کریں، اسے کے پے کے ہاؤس 2 ٹو کا نام دیا جائے، آدھا اسلام آباد انہی لوگوں کے پاس ہے، ہمیں فاٹا ہاؤس واپس کریں ۔محسن داوڑ نے کہاکہ کمیٹی کی جانب سے وزارت داخلہ کو ایک خط بھی بھیجا جائے،کہ فوری طورپر فاٹاہاؤس کو واپس کیاجائے ۔کمیٹی نے وزارت داخلہ کو فاٹا ہاؤس اسلام آباد صوبہ خیبر پختونخوا کے حوالے کرنے کی ہدایت کردی ۔

دینی مدارس کے طلباء کو وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم میں شامل نہ کئے جانے کا معاملہ زیر بحث آیا۔چیئرمین کمیٹی نے ایچ ای سی حکام کو کہاکہ سابقہ فاٹا اوردینی مدارس کو لیپ ٹاپ دینے کے حوالے سے بتائیں۔چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ 9500 لیپ ٹاپ پہلے بھی سابقہ فاٹا کے طلبہ کو ملے ہیں اب بھی سابقہ فاٹا کے بچوں کو ملیں گے۔دینی مدارس کا مینڈیٹ ہمارا نہیں ہے ۔ہم ان کو بھی لیپ ٹاپ دینے کے حق میں ہیں ۔مدارس کے طلبا کا ڈیٹا ایچ ای سی کے پاس نہیں ہے مدارس کے بچوں کو بھی مین سٹریم میں لایا جائے ۔اس وقت جو لیپ ٹاپس آرہے ہیں وہ پورے پاکستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لئے ہیں،ہم نے کوشش کی کہ دینی مدارس کا ڈیٹا مل جائے،ہم سپورٹ کرتے ہیں کہ ان کو بھی آن بورڈ کیا جائے،وہ ہمارے بچے ہیں ان کو مین سٹریم میں لانا چاہئے، ان کے لئے اگلے مالی سال میں علیحدہ پراجیکٹ بناتے ہیں، اس وقت سکیم صرف یونیورسٹیوں کے بچوں کے لئے ہے، میرٹ پر لیپ ٹاپس دیئے جائیں گے۔ کمیٹی نے چیئرمین ایچ ای سی کو ہدایت کی کہ وفاق المدارس کے ساتھ مل کر دینی مدارس کے بچوں کو بھی لیپ ٹاپ دینے کے حوالے سے طریقہ کار بنایا جائے ۔

(محمداویس)

 پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

مذہبی رہنماوں کا ردعمل

طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

وفاقی حکومت نے مدارس کے اتحاد ،اتحاد تنظیمات المدارس دینیہ کے مطالبات تسلیم کر لیے،