fbpx

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کا اعلان

طوفانی بادل بورس جانسن کے لیے جمع ہو رہے ہیں کیونکہ ٹوری ایم پیز جوبلی ویک اینڈ پر ان کی قسمت پر غور کر رہے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کو کنزرویٹو پارٹی کے سینیئر عہدے داران نے خبردار کیا ہے کے ان کے لاک ڈاؤن کی قانون شکنی پر مبنی پارٹی گیٹ سکینڈل کی وجہ سے ان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

اس حوالے سے برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ لارڈ ہے ووڈ نے ویسٹ منسٹر میں اپنی ٹوری پارٹی کے ساتھیوں سے بات چیت کے بعد میڈیا کو ایک انٹرویو میں بتایا ، کہ برطانوی“وزیراعظم بورس جانسن کی حمایت میں واضح کمی آئی ہے مجھے توقع ہے کہ ان کی قیادت کو چیلنج درپیش ہوگا

۔ انہوں نے مزید کہا یہ کہانی ختم ہونے والی نہیں ہےاب تو بورس جانسن کو گھر جانا ہی ہوگا اور ویسے بھی اپوزیشن صرف اس کے بارے میں تنقید کرتی رہے گی اس صورتحال سے لیبر پارٹی کے رہنما سر کیئر اسٹارمر کو اور ان کی پارٹی کو الیکشن میں فائدہ پہنچے گا ٹوری پارٹی کے ایک رہنما ڈاکٹر انتھونی مولن نے کہا، ” مسٹر جانسن پارٹی کے لئے شرمندگی بن گئے ہیں لہذا نیا لیڈر ناگزیر ہے کیونکہ اب برطانوی عوام کے پاس قانون شکن وزیراعظم نہیں ہو سکتا۔”

اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کو متحرک کرنے کے لیۓ 54 خطوط جو کنزرویٹو پارٹی کے بیک بینچرز کمیٹی کے ارکان کو بھیجے جائیں گے، جو کہ کنزرویٹو پارٹی کے کل 180 پارلیمنٹ ممبران کی اکثریت ہیں، ان بیک بینچرز ممبران کو مسٹر جانسن کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ان کے خلاف ووٹ کو متحرک کریں گے ۔ سابق ٹوری چیف وہپ مارک ہارپر جنہوں نے بورس کو استعفٰی دینے کا مطالبہ کیا ہے ،

شاید یہی وجہ ہے کہ ویسٹ منسٹر میں قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ ملکہ کی پلاٹینم جوبلی کی تقریبات ختم ہونے کے بعد بہت جلد یعنی اگلے ہفتے عدم اعتماد کا ووٹ ہو سکتا ہے۔ڈپٹی پی ایم ڈومینک رااب نے آج اصرار کیا کہ کرنچ بیلٹ نہیں ہوگا اور مسٹر جانسن اگلے انتخابات میں ٹوریز کی قیادت کریں گے۔

بورس جانسن کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اب بھی اقتدار پر قائم رہ سکتے ہیں یہاں تک کہ اگر عدم اعتماد کا ووٹ بھی لیا جائے۔

کنزرویٹو عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے قرار داد پیش کرسکتے ہیں اگر 15% ایم پیز ٹوری بیک بینچرز کی 1922 کی کمیٹی کے چیئرمین سر گراہم بریڈی کو خط لکھیں۔کنزرویٹو ارکان کی تعداد 359 ہے، یعنی صرف 54 کو خط بھیجنے کی ضرورت ہے۔

1922 کمیٹی کا باس اس وقت ایک اعلان کرے گا جب خطوط دہلیز پر پہنچیں گے، جس سے اراکین پارلیمنٹ کی خفیہ رائے شماری ہو گی۔جس کے بعد بورس جانسن کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا کہ کیا وہ اپنا اعتماد کھو چکےہیں یا وہ اپوزیشن کوشکست دینے میں کامیاب ہوتے ہیں ، لیکن امکان یہی ہے کہ بورس جانسن کو اپنی وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے گا

پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک