پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

ورلڈ کالمسٹ کلب اور انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز کے اشتراک سے یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلہ میں قومی سیمینار ”آزادی کیلئے بیدارکشمیراورمردہ عالمی ضمیر” سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں لیکن جنگ کی تیاری کے بغیر مسائل حل بھی نہیں ہوتے، پاکستانی قوم کا ہرفرداورطبقہ اپنے کشمیری بھائی بہنوں کے ساتھ ہے، کشمیر میں چھ ماہ سے جاری بدترین لاک ڈاﺅن کے بعد عالمی ضمیر کہیں نظر نہیں آیا، مودی سرکار کی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا میں بے نقاب ہو چکی ہیں۔کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، پاکستان کشمیرکاز کی وکالت کا حق ادا کر رہا ہے، سفارتی سطح پر پاکستان کو کبھی اتنی کامیابی نہیں ملی تھی جتنی اب ملی،قلم قبیلے کے لوگ کشمیریوں کی تحریک آزاد ی میں شانہ بشانہ ان کے ساتھ ہیں اور ا س بات کا عزم کرتے ہیںکہ کشمیر کی آزاد ی تک کالم نگار کشمیریوں کے ساتھ رہیں گے۔ورلڈ کالمسٹ کلب کے کالم نگاروں کا قلم تحریک آزادی کاعلم ہے۔سیمینار کی صدارت ورلڈکالمسٹ کلب کے مرکزی چیئرمین محمددلاورچوہدری نے کی جبکہ صوبائی وزیرصنعت وتجارت میاں اسلم اقبال مہمان خصوصی تھے ۔مہمانان گرامی میں لیفٹیننٹ جنرل (ر)غلام مصطفی ، سابق سینیٹر اورممتازقانون دان ڈاکٹرخالد رانجھا ،ملک پرویزاختر ،جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل امیرالعظیم ،سٹی42کے گروپ وسینئر کالم نگار ایڈیٹر نویدچوہدری ،گروپ ایڈیٹر الشرق وسینئر کالم نگار میاں حبیب ،سابق ڈائریکٹر آئی ایس پی آرکوئٹہ بریگیڈئیر (ر)محمدندیم انور،ڈاکٹرراناتنویرقاسم،محمدناصراقبال خان، سلمان پرویز،میاں محمداشرف عاصمی ،کاشف سلیمان ،ناصف اعوان، ممتاز اعوان  ،ناصرچوہان ،،ڈاکٹر نبیلہ طارق ایڈووکیٹ،رقیہ غزل ،ثناءآغاخان ،رجسٹرارکاشف ندیم ، عاصمہ نعیم ،پروفیسر مسعود اخترہزاروی،محمداویس سکندر ، حریت رہنماﺅں راجاابراراور انجینئر مشتاق محمود شریک ہوئے ۔

پنجاب کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہاکر دی گئی ہے، وزیراعظم عمران خان نے مودی کا چہرہ دنیا بھر میں ہرفورم پر بے نقاب کیا،طلبہ وطالبات سوشل میڈیا پر کشمیر کے بارے میں آواز اٹھائیں ، پاکستان کا ہرجوان تحریک آزادی کشمیر کا روح رواں اورترجمان ہے، سیاسی پارٹیوں کے نظریات مختلف ہوسکتے ہیں لیکن کشمیر کاز کے معاملے میں پاکستان کی سبھی پارٹیاں ایک پیج پر ہیں، کشمیریوں کی قربانیاں ر ائیگاں نہیں جائیں گی اور انہیں آزادی مل کر رہے گی۔ میاں اسلم اقبال نے مزید کہا کہ آج پانچ فروری کو ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا ہم کشمیریوں کو پیغام دیں گے کہ آزادی کی تحریک میں وہ تنہا نہیں۔

ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین محمد دلاور چودھری نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کشمیر کے مسئلہ کو بڑے اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہے،میں نے دیکھا ہے کشمیر ہماری ڈپلومیسی میں ہے، سیمینارز میں ہے، خون میں ہے دل میں ہے لیکن ہماری روزمرہ کی سوچ میں نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو روزمرہ کی سو چ کا حصہ بنایاجائے ، اس کیلئے کوئی کوشش کرنی ہے، پھر زبردست قسم کی تحریک اٹھے گی اور اس کو دبایا نہیں جا سکے گا، عالمی ضمیر کبھی زندہ نہیں ہوا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کشمیر میں ہو رہی ہیں، کشمیر کولاک ڈاﺅن کیا گیا، کہیں عالمی ضمیر نظر نہیں آیا، تنظیموں کی سطح پر بات ہوئی لیکن حکومتوں کی سطح پر نہیں، پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے اور ہمیشہ رہے گی،ہم اپنے آپ کو کشمیریوں سے الگ نہیں کر سکتے ،جب تک ہم متحد و منظم نہیں ہوکر آگے نہیں بڑھیں گے تو فائدہ نہیں ہو گا۔

ممتاز قانون دان اورسابق سینیٹرڈاکٹر خالد رانجھانے کہا کہ جب تک کشمیر کی تحریک کو سوچ میں نہیں بدلا جاتا کچھ نہیں ہونا، کشمیر کی تحریک کو مضبوط کرنے کیلئے اسے نوجوانوں کی سوچ میں سرائیت کرناہو گا، اصل بات یہ ہے کہ ہمارا لکھاری ایک بار کشمیر پر لکھتا ہے اور پھر بس کر دیتا ہے، کشمیر پر بار بار لکھنا چاہئے اور آواز بلند کرتے رہنا چاہئے ، کشمیریوں کی تحریک کی طویل داستان ہے، بھارت کے چہرے سے نام نہاد جمہوریت کا نقاب اتر چکا ہے، بھارت نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں اچھا خطاب کیا وہاں پر جو بات کی اس کو مسلسل کرنے کی ضرورت ہے۔

دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل( ر) غلام مصطفی نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ کے تناظر پر آج تک ہم نے صحیح بات نہیں کی۔ گرداسپور پاکستان کو ملنا چاہئے تھا لیکن بھارت کو دے دیا گیا اسکی وجہ یہ تھی کہ کشمیر بھارت کو دینا تھا اگر قبائلی لوگوں نے جنگ نہ لڑی ہوتی تو اندازہ کریں کہ بھارت اسوقت کہاں کھڑا ہوتا۔ بھارت پاکستان کو ختم کرنے کے درپے تھا اور ہے۔کشمیر کو پاکستان سے علیحدہ کیا گیا ہم صرف افسوس کرتے رہ گئے۔ 5 اگست کو بھارتی اقدام کے بعد 187 دن لاک ڈاﺅن کو ہو گئے ہیں کشمیری پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔70 سے 75 ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور مزاحمت سے پیچھے ہٹنے کیلئے پیسے آفر کیے جا رہے ہیں۔بھارت کشمیر میں جعلی الیکشن کروائے گا اب آزاد کشمیر اور گلگت بھارت کے نشانے پر ہے۔جنگ مسائل کا حل نہیں لیکن جب تک جنگ کیلئے تیار نہ ہوں مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ جنگ کس طرح کرے گا اپنے فیصلے کے مطابق یا جب مسلط کر دی جائے گی۔ جنگ کے بہت سے طریقے ہیں،بطور قوم ہمیں تیار رہنا ہو گا۔

جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے کہا کہ ہم شکوہ کرتے ہیں کہ کشمیر ایشوپر سعودی عرب سمیت چند دوسرے اسلامی ملک ہمارا ساتھ نہیں دیتے لیکن جب ہم کشمیریوں کے قاتل کو رائیونڈ بغیر ویزے کے بلاتے ہیں، بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن کا سٹیٹس دینے کی کوشش کرتے ہیں، واجپائی کو پاکستان لاتے ہیں تو پھر ہمیں عالمی دنیا پر اعتراض کرنے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے، ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں، ہمارا کیس مضبوط تھا لیکن جان بوجھ کر کمزور کیا گیا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کشمیری پاکستان کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں ، ان کی قربانیاں ثمرآور ہوں گی،ضرور ت اس امر کی ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ عملی طور پر میدان میں کھڑا ہو۔

سٹی 42کے گروپ ایڈیٹراورسینئر کالم نگار نوید چودھری نے کہا کہ قائد ؒ نے کشمیرکومادروطن کی شہہ رگ کہا وہ صدی کے عظیم لیڈر تھے۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ عالمی ضمیر مردہ ہے ہم عالمی ضمیر کو سمجھانے میں ناکام رہے کہ مسئلہ کشمیر پر ہمارا موقف کیا ہے۔ 48 کے بعد ہم نے کیا کیا۔قائد ؒکے حکم پر قبائلی لشکر کشمیر گیا تھا اسکے بعد معاملات الجھے اور حکومتی سطح پر کچھ نہیں کیا گیا۔65 کی جنگ لڑی اور شملہ معاہدہ ہو گیا۔پرویز مشرف دور میں پیشرفت ہونے لگی تو کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں متروک ہو چکی ہیں۔ مودی جب اقتدار میں آیا تو اس نے کشمیر سے اقوام متحدہ کے مبصرین کو کشمیر سے نکال دیا تھا۔

میاں حبیب نے کہا کہ ہم کہتے ہیں حکومت ناکام ہے لیکن کشمیر پر حکومت نے جتنا سٹینڈ لیا شاید ماضی کی کسی حکومت نے ایسا لیا ہو، عمران خان نے پوری دنیا کے سامنے ثابت کیا کہ مودی ہٹلر ہے، اب مودی کو پوری دنیا ہٹلر کہنا شروع ہو گئی ہے، مودی نے فیصلہ کیا تھا کہ الیکشن جیت کر ہم نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنی ہے اب ہمیں ۵ اگست کے واقعہ کے بعد اپنا کام کرنا ہے، بھارتی معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے وہاں احتجاج ہو رہا ہے ،انسانی حقوق کے علمبردار کشمیر کی آواز اٹھا رہے ہیں یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

حریت رہنما انجینئر مشتاق محمود نے کہا کہ ورلڈ کالمسٹ کلب اور انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز کے باہمی اشتراک سے کشمیر کاز کے حق میں قومی سیمینار کا انعقاد مستحسن اقدام ہے، کشمیری ایک کاز کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔کشمیریوں کو مودی سرکار نے خریدنے کی کوشش کی لیکن وہ ڈٹ گئے، آج بھی کشمیری تکمیل پاکستان اور استحکام پاکستان کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.