fbpx

طوطوں کی سب سے بڑی کالونی دریافت

ارجنٹینا کے جنوبی ریگستان پیٹاگونیا کے پہاڑ پر طوطوں کی سب سے بڑی کالونی دریافت ہوئی ہے۔

باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ال کونڈو نامی پہاڑی پر سبز پروں اورآنکھوں کے گرد سفید حلقوں والے طوطوں کے 37 ہزار گھونسلے پائے جاتے ہیں۔

سائنسدانوں نے ان طوطوں کو باروئنگ پیرٹس کا نام دیا ہے ہے کیونکہ یہ طوطے سرنگ کھود کر اپنا گھونسلہ بناتے ہیں، یہ یہ سرنگیں 9.8 فٹ (تقریباً 3 میٹر) تک گہری ہو سکتی ہیں۔

ایل کونڈور کی چٹانیں ایک ایسی انواع کے لیے گھونسلے کے طور پر کام کرتی ہیں جو کبھی پورے جنوبی امریکہ میں نمودار ہوتی تھی، لیکن طوطے کی آبادی اب کم ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق طوطے جب اپنے پنکھ پھیلا کر اڑتے ہیں تو نیلا آسمان ان سے ڈھک جاتاہے اور دلفریب منظر پیش کرتا ہے۔

تشویش کی بات یہ ہے کہ باروئنگ پیرٹس کی نسل میں مسلسل کمی آ رہی ہے، سائنسدانوں کے مطابق خوراک میں کمی کے باعث ان طوطوں کو میلوں سفر کرنا پڑتا ہے جو ان کی نسل میں کمی کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔

اس کے علاوہ سیاحتی مقامات میں اضافہ اور انسانی عمل دخل بھی ان طوطوں کی کالونی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

یوکرینی مسلمانوں کی نمازِعید کےاجتماعات میں روس کا قبضہ ختم ہونےکی دعائیں

ارجنٹائن مونٹی میں طوطوں کی خوراک کا ذریعہ ایمیزون کے بارشی جنگل سے زیادہ تیزی سے غائب ہو رہا ہے۔ صحرائی گھاس کے میدانوں اور جھاڑیوں کا یہ کمزور علاقہ، جسے طوطے ترجیح دیتے ہیں، جنگلات کی کٹائی کا شکار ہے۔

طوطوں کو اپنے گھونسلوں سے تین گھنٹے کی دوری پر اڑنا پڑتا ہے تاکہ وہ بیج اور بیر تلاش کر سکیں تاکہ وہ چٹان کے گھونسلوں میں اپنے بچوں کو واپس لے سکیں۔

جرمنی کی جسٹس لیبیگ یونیورسٹی گیسن کے سائنسدانوں کے مطابق، ہر سال، پرندوں کو کھانے کے لیے کچھ تلاش کرنے کے لیے دور تک سفر کرنا پڑتا ہے، اور یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ بالغ افراد روزانہ 164 میل (264 کلومیٹر) تک پرواز کرتے ہیں۔

گیارہ ذی الحج ایام تشریق کا آغاز ،ایام تشریق کیا ہیں؟