fbpx

پیسوں کی وجہ سے پی ایس ایل 7 سے دستبردار نہیں ہوا، کامران اکمل

لاہور: کامران اکمل کا کہنا ہے کہ پیسوں کی وجہ سے پی ایس ایل 7 سے دستبردار نہیں ہوا-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق لاہورپریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کے سابق کرکٹر کامران اکمل نے کہا کہ پیسوں کی وجہ سے پی ایس ایل 7 سے دستبردار نہیں ہوا عزت اوروقار کے ساتھ دو سے تین سال مزید کھیلنا چاہتا ہوں پی ایس ایل کی ڈرافتٹنگ میں پلاٹنیم سے گولڈ اور پھر سلور میں پک ہونے کا بہت افسوس ہوا کیٹگریز میں تبدیلی کی وجہ بورڈ ہی بتا سکتا ہے۔

کامران اکمل کا کہنا تھا کہ اپنے موقف پر قائم ہوں کہ سلور کیٹگری میں مجھے جیسے سینئر کھلاڑی کو نہیں کھیلنا چاہیے۔ سہیل تنویر سمیت جو بھی لڑکے اس کیٹگری میں کھیل رہےہیں وہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔

پاکستان او ویسٹ انڈٰیز کا دوسراٹی ٹوئنٹی آج کراچی میں کھیلا جائے گا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ رمیز راجہ کی طرف سے عمر کو جواز بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کامران اکمل کا موقف تھا کہ اس معاملے کو عمر کے لحاظ سے دیکھنا ٹھیک نہیں کیٹگریز پرفارمنس، سنیارٹی، فٹنس اور پرفارمنس کی بنیاد پر بنتی ہیں عمر کا اس سے کوئی تعلق نہیں-

اس سے قبل کامران اکمل نے کہا تھا کہ انہیں پشاور زلمی کی ہمدردی نہیں چاہیے کامران اکمل نے کہا تھا کہ پشاور زلمی کی انتظامیہ میرے ساتھ اس وجہ سے ہمدردی نہ کرے کہ میں ان کے لیے 6 ایڈیشن کھیلے جب چھٹے ایڈیشن کے لیے مجھے پلاٹینیم سے گولڈ کیٹگری میں شامل کیا گیا تو یہ میرے لیے حیران کن تھا۔ میرا ٹریک ریکارڈ شاندار تھا لیکن پھر بھی میری تنزلی کی گئی میں نے اس پر صبر کیا اور پوری دلجمعی سے کھیلا۔ اب گولڈ سے مزید تنزلی کرتے ہوئے سلور کیٹگری میں شامل کرنا قابل قبول نہیں۔ یہ جونیئر کرکٹرز کی کیٹیگری ہے۔ بہتر ہے کہ اس میں جونیئرز کو ہی شامل کیا جائے میں نے پشاور زلمی سے کہا کہ پلیز مجھے ریلیز کر دیں، میں اس کیٹیگری میں کھیلنا ڈیزرو نہیں کرتا، کسی اور کو کھلا لیں وہ زیادہ بہتر ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ: پاکستان کا نیشنل اسٹیڈیم میں منفرد ریکارڈ

واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی کامران اکمل نے پشاور زلمی کے طرف سے سلور کیٹیگری میں منتخب کیے جانے پر پی ایس ایل کے 7 ویں ایڈیشن سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا اسٹار کرکٹر رنز کے اعتبار سے چھٹے ایڈیشن میں9ویں اور 5ویں ایڈیشن میں 12ویں نمبر پر رہے۔

کامران اکمل اگرچہ پی ایس ایل کے 6 ایڈیشنز میں رنز کے اعتبار سے بابر اعظم کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں لیکن گزشتہ دو ایڈیشنز میں ان کی اوسط درجے کی کارکردگی انہیں سلور کیٹیگری میں شامل کرنے کی وجہ بنی پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں تو کامران اکمل رنز بنانے کے اعتبار سے 9ویں نمبر پر رہے انہوں نے 13 میچ کھیلے اور 283 رنز بنا سکے ان کی بیٹنگ اوسط 21 رنز فی اننگز سے کچھ زائد رہی۔ 13 میچوں میں وہ صرف دو بار چلے اور ففٹی پلس رنز بنائے۔ اپنی ہارڈ ہٹنگ کے لیے مشہور کامران اکمل 13 میچوں میں صرف 7 چھکے لگا پائے۔

پاکستان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف شان دار بیٹنگ اور باؤلنگ،پہلا ٹی ٹوئنٹی 65 رنز سےجیت…

اس سے قبل پی ایس ایل کے 5ویں ایڈیشن میں بھی وہ زیادہ اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے اور زیادہ رنز کے اعتبار سے 12ویں نمبر پر رہے۔ انہوں نے 5ویں ایڈیشن میں 9 میچ کھیلے اور ان میچوں میں 251 رنز بنا سکےاس ایڈیشن میں ان کی بیٹنگ اوسط 27 رنز رہی۔ انہوں نے ایک سنچری بنائی جب کہ کوئی ففٹی نہ بنا سکے اگر تمام 6 ایڈیشنز میں کارکردگی کی بات کی جائے تو انہوں نے 69 میچ کھیل رکھے ہیں اور رنز بنانے میں بابر اعظم کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے 27 کی اوسط سے 1820 رنز بنائے۔ ان کے پاس پی ایس ایل میں سب سے زیادہ 3 سنچریز کا اعزاز ہے جب کہ وہ 11 ففٹیز بنا چکے ہیں۔

کشمیر کاز اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے ہمیشہ کوشاں رہوں گا ، شاہد آفریدی