fbpx

وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کے ٹیکس کی تفصیلات سامنے آ گئیں-

باغی ٹی وی تفصیلات کے مطابق کے مطابق ایف بی آر نے پارلیمنٹرینز کی سال2019کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کردی ہے، جس کے مطابق 80 سینیٹرز اور 312 اراکان اسمبلی نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے وزیراعظم عمران خان نے98لاکھ 54 ہزار959 روپے ٹیکس ادا کیا وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس ائیر 2019 میں 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے ٹیکس جمع کرایا، وزیراعظم نے ٹیکس ائیر 2019 میں 82 لاکھ 81 ہزار830 سو روپے کی پریزمٹو آمدنی اور 23 لاکھ 64 ہزار150 روپے کی زرعی آمدنی ظاہر کی ہے۔

سیالکوٹ سے دبئی، پی آئی اے پروازوں کا آغاز

وزیرخزانہ شوکت ترین نے 2 کروڑ 66 لاکھ 27 ہزار 737 روپے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 8 لاکھ 51 ہزار 955 روپے اور پی ٹی آئی کے نجیب ہارون نے 14 کروڑ 7 لاکھ 49 ہزار روپے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےصرف 2 ہزارروپے،سینیٹر فیصل واوڈا نے 11 لاکھ 62 ہزار روپے ٹیکس دیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے 66 ہزار 258 روپے، سابق وزیراعلیٰ جام کمال نےایک کروڑ 17 لاکھ 50 ہزار 799 روپے، موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے 10 لاکھ 61 ہزار 777 روپے،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے 5 لاکھ 55 ہزار 794 روپے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایک کروڑ 39 لاکھ 9 ہزار327 روپے، وفاقی وزیر اسد عمر نے 42 لاکھ 72 ہزار 426 روپے، وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے ایک لاکھ 36 ہزار 808 روپے، ٹیکس جمع کرایا-

ناظم جوکھیو کیس:خاندان قاتلوں سے صلح کرتا ہے تو وفاقی حکومت اس کیس کو آگے بڑھائے گی

جبکہ وزیر مملکت فرخ حبیب نے 4 لاکھ 5 ہزار 477 روپے، وفاقی وزیر مراد سعید نے 86 ہزار 606 روپے، سینیٹر رضا ربانی نے ایک کروڑ 55 لاکھ 5 ہزار 493 روپے، سینیٹر طلحہ محمود نے 3 کروڑ 22 لاکھ 80 ہزار 549 روپے،سینیٹر ذیشان خانزادہ نے 1 ہزار روپے، اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالٰہی نے 9 لاکھ 32 ہزار 835 روپے اور وفاقی وزیرعلی زیدی نے10 لاکھ 47 ہزار 808 روپے ٹیکس دیا۔

وفاقی وزیر حماد اظہر نے 29 ہزار 25 روپے ، وزیر داخلہ شیخ رشید نے 5 لاکھ 57 ہزار 450 روپے، پی ٹی آئی نو ر عالم خان نے 82 ہزار 311 روپے ٹیکس دیا سندھ اسمبلی کے رکن علی غلام نے انکم ٹیکس کی مد میں صرف ڈھائی سو (250) روپے ادا کیے ہیں ایم کیو ایم پاکستان کی سینیٹر خالدہ اطیب نے ٹیکس کے ذریعے قومی خزانے میں 315 روپے جمع کرائے ہیں۔ اس طرح سب سے کم ٹیکس ادا کرنے والے پارلیمنٹیرینز میں وہ دوسرے نمبر پر آئی ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے 82 لاکھ 42 ہزار 662 روپےٹیکس دیا جبکہ ان کی قابل ٹیکس آمدن 3 کروڑ پچاس لاکھ ہے ،شاہدخاقان عباسی نے48لاکھ 71 ہزار277 روپے،خواجہ آصف نے 2 لاکھ 30 ہزار 386 روپے، وزیر غلام سرور خان نے 12 لاکھ 11 ہزار 661 روپے،خواجہ سعد رفیق نے 2 لاکھ 69 ہزار 414 روپے جبکہ خرم دستگیر نے روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ یوسف رضا گیلانی کے کوئی ٹیکس نہیں دیا-

عثمان بزدار کو بڑی یقین دہانی کروا دی گئی

آصف زرداری نے 22 لاکھ 18 ہزار 229 روپے، اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے 5 لاکھ 35 ہزار243 روپےٹیکس دیا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 19 لاکھ 21 ہزار 914 روپے، شیری رحمان نے 9 لاکھ 40 ہزار رواپے، سینیٹر مشاہد حسین سید نے 76 ہزار روپے، سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے 49 لاکھ روپے ،سینیٹر فیصل جاوید نے 66 ہزار روپے، وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے 7 لاکھ 84 ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کیا-

ڈپٹی چئیرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے چالیس ہزار نو سو تیرہ روپے، وزیر قانون فروغ نسیم نے بیالیس لاکھ پچاسی ہزار دو سو ایک روپے، وفاقی وزیر مونس الہی نے پینسٹھ لاکھ چونتیس ہزار دو سو اکیاون روپے، وزیر دفاع پرویز خٹک نے بارہ لاکھ ستاون ہزار چار سو اکسٹھ روپے، وفاقی وزیر نورالحق قادری نے باسٹھ ہزار دو سو پچاس روپے ٹیکس دیا-

کراچی میں کورونا کیسز میں اضافہ، وزیراعلیٰ سندھ نے اہم ہدایت جاری کردی

شہریار آفریدی نے ترپن ہزار آٹھ سو چھیتر روپے،وفاقی وزیر سائنس ٹیکنالوجی شبلی فراز نے آٹھ لاکھ پچاسی ہزار روپے ،سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے 89 ہزار 479 روپے، شیریں مزاری نے تین لاکھ اکہتر ہزار تینتیس روپے عامر ڈوگر نے بائیس لاکھ اٹھانوے ہزار سات سو نوے روپے وفاقی وزیر خسرو بختیار نے ایک لاکھ اٹھاون ہزار ایک سو روپے ٹیکس ادا کیا-

احسن اقبال نے پچپن ہزار چھ سو چھپن روپے اعظم نذیر تارڑ نے پچیس لاکھ چالیس ہزار ایک سو چھبیس روپے سینیٹر احمد خان تئیس لاکھ اٹھا سی ہزار تین سو باسٹھ روپے ملیکہ علی بخاری نے اڑتیس ہزار تین سو ترتالیس ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے انتالیس ہزار سات سو اکسٹھ روپے انکم ٹیکس ادا کیا-

23 مارچ کو مارچ کا اعلان کرنے والوں کو شیخ رشید نے دیا پیغام

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے مالی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرنے والے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمںٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے 331 ارکان نے تاحال تفصیلات جمع نہیں کرائیں، 15 جنوری تک اثاثوں کی تفصیلات موصول نہ ہوئیں تو رکنیت معطل کر دی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کے 17، قومی اسمبلی کے 102، پنجاب اسمبلی کے 127، سندھ اسمبلی کے 31 ، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 40 اور بلوچستان اسمبلی کے 14 ارکان نے تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔

راولپنڈی:4 مریضوں میں اومی کرون کی تصدیق

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!