وزیراعظم عمران خان سے افغان طالبان سیاسی کمیشن کے وفد کی ملاقات

0
33

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے افغان طالبان سیاسی کمیشن کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر کی قیادت میں وفد نے وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات میں افغان امن عمل میں اب تک ہونےو الی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں،افغانستان میں تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں ہے ،انٹرا افغان مذاکرات پائیدار امن اور استحکام کے حصول کیلئے تاریخی موقع ہے

وزیر اعظم عمران خان نے افغان طالبان کے سیاسی نمائندوں سے ملاقات میں تشدد کی کمی پر زور دیا ہے تاکہ جنگ بندی کے لئے راستہ ہموار ہوجائے،امن کی بحالی سے خطے میں ترقی اور خوشحالی کا دور واپس لوٹ رہا ہے ، افغانستان میں امن اور خوشحالی سےخطے میں روابط کو فروغ ملے گا،وزیراعظم عمران خان نے امن عمل خراب کرنے والوں کے کردار سے محتاط رہنے پر زوردیا

واضح رہے کہ افغان طالبان کے سیاسی دفتر کا وفد ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں اسلام آباد پہنچا تھا، افغان طالبان کا وفد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر پاکستان آیا تھا۔ وفد نے افغان دھڑوں کے درمیان مفاہمتی عمل کے حوالے سے پاکستانی قیادت سے بات چیت کی تھی

ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں افغان طالبان کے وفد نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تھی جس میں افغانستان امن عمل میں حالیہ پیشرفت،بین الافغان مذاکرات کے جلد انعقاد سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔افغان طالبان کے وفد نے وزیر خارجہ کو طالبان اور امریکہ کے مابین طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا،

‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

مغربی اور مشرقی سرحد پر فوج مستعد ،قوم کا دفاع ہر صورت کریں گے، ترجمان پاک فوج

بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہے، وزیراعظم کا دنیا کو انتباہ

مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

قبل ازیں گزشتہ برس ماہ اکتوبر میں بھی افغان طالبان کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا،واضح رہے کہ پاکستان کے  وزیراعظم عمران خان نے نیویارک میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ افغان طالبان کا وفد مجھ سے ملنا چاہتا تھا لیکن افغان حکومت کو اعتراض تھا،افغانستان میں خانہ جنگی پورےخطےکومتاثرکررہی ہے، کوشش ہےکہ طالبان اورامریکہ کےدرمیان دوبارہ بات چیت شروع ہو.طالبان وفد مجھ سے ملنا چاہتا تھا لیکن افغان حکومت نےاعتراض اٹھایا ،افغان مسئلےکافوجی حل نہیں،مذاکرات کےذریعے ہی اس کاحل نکالاجاسکتا ہے،امریکہ طالبان مذاکرات کےبعدافغانوں میں بات چیت ہونی تھی،

Leave a reply