20 مہینے میں 370 بکس لکھنے والی کورل ہارٹ،تحریر : محمد سبحان شوق
نقطہ نظرہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے کالم افسانے کہانیاں اور مضامین تیار کرواتے ہیں مگر جب ان کی تحریروں کو پذیرائی ملتی ہے تو وہ اس حقیقت کا اعتراف کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ ان کے الفاظ کی ترتیب اور خیالات کی تشکیل میں مصنوعی ذہانت کا بھی حصہ رہا ہے بعض لوگ تو مشین سے مکمل تحریر تیار کروا کر اسے اپنی تخلیقی صلاحیت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور داد و تحسین سمیٹتے ہوئے یہ بتانا بھی ضروری نہیں سمجھتے کہ اس سارے عمل میں ان کی اپنی محنت کتنی تھی اور مصنوعی ذہانت کی معاونت کتنی رہی لیکن اسی دنیا میں ایک ایسی مصنفہ بھی موجود ہے جس نے اپنی کامیابی کے راز کو چھپانے کے بجائے دنیا کے سامنے بیان کیا اور یہ اعتراف کیا کہ مصنوعی ذہانت نے اس کی تحریری زندگی کو ایک نئی رفتار عطا کی ہے اس مصنفہ کا نام کورل ہارٹ ہے جن کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے اور جن کے بارے میں یہ خبر سامنے آئی کہ انہوں نے محض بیس ماہ کے عرصے میں تین سو ستر سے زیادہ کتابیں شائع کیں یہ تعداد محض حیران کن نہیں بلکہ ادبی دنیا کے لیے ایک ایسا سوال بھی ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر تخلیق کیا ہے مصنف کون ہے اور جب ایک مشین کسی انسان کے خیال کو کتاب کی شکل دینے لگے تو اس کتاب کی کامیابی کا اصل سہرا کس کے سر باندھا جائےکورل ہارٹ کی کہانی کو محض مصنوعی ذہانت کی مدد سے کتابیں تیار کرنے والی ایک مصنفہ کی کہانی سمجھنا درست نہیں ہوگا کیونکہ ان کے مطابق وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پہلے چودہ برس تک اشاعتی صنعت سے وابستہ رہیں اور اس دوران انہوں نے لکھنے پڑھنے اور اشاعت کے مختلف مراحل کا تجربہ حاصل کیا ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مختلف ماڈلز کو سمجھنے اور ان سے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے انہیں کئی ماہ تک سیکھنے اور تجربات کرنے پڑے اس کے بعد انہوں نے ایسا طریقۂ کار ترتیب دیا جس کے ذریعے کتاب کی تیاری کا عمل پہلے کی نسبت کہیں زیادہ تیز ہوگیا یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ان کی کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شخص نے مصنوعی ذہانت کھولی اور ایک جملہ لکھ کر تین سو ستر کتابیں حاصل کرلیں بلکہ اس عمل میں پہلے سے موجود اشاعتی تجربہ منصوبہ بندی مختلف ماڈلز کی صلاحیتوں کو سمجھنے اور مسلسل تدوین کا اہم کردار ہے یہی وہ فرق ہے جسے نظر انداز کرکے لوگ کبھی مصنوعی ذہانت کو ہر تخلیقی صلاحیت کا متبادل قرار دیتے ہیں اور کبھی اسے مکمل طور پر بے کار سمجھ کر مسترد کردیتے ہیں۔
کورل ہارٹ کے طریقۂ کار کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ کہانی کا بنیادی تصور خود تیار کرتی ہیں کرداروں کی نوعیت متعین کرتی ہیں اور ابواب کا خاکہ بناتی ہیں اس کے بعد مصنوعی ذہانت سے ابتدائی مسودہ تیار کرواتی ہیں لیکن ان کا کام یہیں ختم نہیں ہوجاتا وہ مسودے کی ساخت کرداروں کی نشوونما کہانی کے تسلسل اور ان مقامات کا جائزہ لینے کے لیے بھی مصنوعی ذہانت سے مدد لیتی ہیں جہاں کہانی کمزور پڑنے لگتی ہے یا کوئی کردار اپنے پہلے سے قائم مزاج سے ہٹ جاتا ہے پھر آخر میں ایک انسانی پروف ریڈر تحریر کا جائزہ لیتا ہے تاکہ غلطیوں کو درست کیا جاسکے اور ان خامیوں کی نشاندہی ہوسکے جو متن کو غیر فطری بناتی ہیں ان کے مطابق اب وہ پوری کتاب کا ابتدائی مسودہ ایک ہی مرحلے میں تیار کرسکتی ہیں جبکہ ابتدا میں انہیں ایک ایک پیراگراف لکھوانے کے لیے کئی ہدایات دینا پڑتی تھیں اس مثال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال صرف سوال لکھ دینے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے واضح ہدایات مناسب ترتیب بار بار جانچ اور انسانی نگرانی بھی درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے مختلف ماڈلز کے استعمال کے بارے میں بھی اپنے تجربات بیان کیے ہیں ان کے مطابق چیٹ جی پی ٹی مکالمے لکھنے میں مفید ہے مگر نثر کے بعض پہلوؤں میں اسے مشکلات پیش آتی ہیں جبکہ کلاڈ کہانی کی ساخت ترتیب دینے میں مددگار ہے اور گروک کو وہ بعض مخصوص مناظر لکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں ان کی یہ گفتگو اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تمام ماڈلز ایک جیسی صلاحیت نہیں رکھتے اور نہ ہی ہر کام کے لیے ایک ہی ماڈل موزوں ہوتا ہے تاہم یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ کسی ماڈل کی خوبی یا خامی کے بارے میں ان کا بیان ان کا ذاتی تجربہ ہے اسے ہر زبان ہر صنف اور ہر مصنف کے لیے حتمی اصول نہیں سمجھنا چاہیے اردو ادب کی دنیا میں بھی اس ٹیکنالوجی سے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اردو کی نزاکت محاورے کی تہذیب کلاسیکی لفظیات عروضی پابندیاں اور شعر کے اندر پوشیدہ معنوی تہیں ایسی چیزیں ہیں جن میں محض رواں جملہ تیار ہوجانا ادبی معیار کی ضمانت نہیں بنتا ایک غزل کا مصرع بظاہر خوب صورت ہوسکتا ہے مگر اگر اس کا وزن ٹوٹ رہا ہو تو وہ اپنے فنی معیار پر پورا نہیں اترتا اسی طرح افسانے میں الفاظ کی کثرت کرداروں کی گہرائی کا بدل نہیں اور کالم میں معلومات کی فراوانی مصنف کے فکری شعور کا مکمل ثبوت نہیں بن سکتی اس لیے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والے ہر لکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے فن کے بنیادی اصولوں سے واقف ہو تاکہ مشین کی تیار کردہ تحریر کو پرکھ سکے اور اس کی خامیوں کو پہچان سکے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تین سو ستر کتابیں شائع کردینا بذات خود ایک بڑی ادبی کامیابی ہے یا یہ محض پیداوار کی غیر معمولی رفتار ہے اس سوال کا جواب اتنا سادہ نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے کورل ہارٹ کی کتابوں کی بڑی تعداد رومانوی ادب پر مشتمل بتائی جاتی ہے اور وہ اپنے قارئین کی پسند اور مارکیٹ کی طلب کو سمجھتے ہوئے کتابیں تیار کرتی ہیں ان کی کم از کم ایک کتاب ایمیزون کی سو مقبول ترین کتابوں کی فہرست میں بھی شامل ہونے کی اطلاع دی گئی ہے ان کے اپنے اندازے کے مطابق ان کی کتابوں کی ڈیجیٹل مطبوعہ اور آڈیو صورتوں میں مجموعی فروخت دس لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے اور انہوں نے 2026 میں اب تک دس لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ کمائی کی ہے ان اعداد و شمار کو ان سے منسوب دعووں کے طور پر دیکھنا چاہیے کیونکہ کسی بھی مالی دعوے کی آزادانہ تصدیق الگ معاملہ ہے لیکن اگر ان اعداد و شمار کو ان کے بیان کے مطابق تسلیم کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف تجرباتی ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ اشاعتی کاروبار میں ایک مؤثر معاشی قوت کے طور پر بھی داخل ہوچکی ہے یہاں ادبی ذوق اور تجارتی کامیابی کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ کوئی کتاب لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوسکتی ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ ادب کا شاہکار بھی ہو اور کوئی غیر معمولی ادبی تخلیق تجارتی اعتبار سے محدود قارئین تک بھی رہ سکتی ہے تاہم کسی کتاب کو صرف اس لیے رد کردینا بھی مناسب نہیں کہ اس کی تیاری میں مصنوعی ذہانت استعمال ہوئی ہے اصل سوال یہ ہے کہ کتاب میں خیال کتنا بامعنی ہے کردار کتنے حقیقی ہیں زبان کتنی مؤثر ہے اور قاری کو پڑھنے کے بعد کیا حاصل ہوتا ہے۔
اس کامیابی کے ساتھ کورل ہارٹ کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے ان کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق انہیں سوشل میڈیا پر نفرت آمیز پیغامات اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں ان کے ناقدین میں ایسے لوگ شامل ہیں جو مصنوعی ذہانت سے بڑے پیمانے پر تیار ہونے والے مواد کو کم معیار کی پیداوار سمجھتے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اس رجحان سے انسانی مصنفین کی محنت ان کی روزی روٹی اور اصل تخلیقی ادب کی قدر متاثر ہوگی دوسری جانب کورل ہارٹ کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اب اشاعتی دنیا کا حصہ بن چکی ہے اور صرف مخالفت کے ذریعے اسے واپس نہیں بھیجا جاسکتا انہوں نے اس طریقۂ کار کے ذریعے کئی سو افراد کو تربیت دینے کا بھی ذکر کیا ہے جبکہ ان کی ٹیم مصنوعی ذہانت کی مدد سے لکھنے والے مصنفین کے لیے ایک سافٹ ویئر تیار کرنے پر بھی کام کررہی ہے ان کا یہ مؤقف اپنی جگہ مگر ناقدین کے خدشات کو بھی محض تعصب کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اگر چند افراد بہت کم وقت میں سیکڑوں کتابیں تیار کرنے لگیں تو بازار میں مواد کی مقدار بڑھ سکتی ہے اور قارئین کے لیے معیاری تحریروں کو تلاش کرنا مشکل ہوسکتا ہے اس کے علاوہ انسانی مصنفین مترجمین مدیران اور پروف ریڈرز کے روزگار پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے ٹیکنالوجی کے فوائد اپنی جگہ لیکن ہر نئی سہولت کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اس سے فائدہ کس کو ہوگا اور اس کی قیمت کون ادا کرے گا۔
اس پورے معاملے کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جس پر ہمارے ہاں بالخصوص لکھنے والوں کو توجہ دینی چاہیے اور وہ ہے اعتراف اور دیانت داری کا سوال ہم ایسے دور میں داخل ہوچکے ہیں جہاں کسی شخص کو مضمون لکھنے کے لیے برسوں کی مشق کے ساتھ ساتھ اب مصنوعی ذہانت سے مدد لینے کا اختیار بھی حاصل ہے کوئی اپنے کالم کے لیے موضوعات تلاش کرتا ہے کوئی تاریخی معلومات جمع کرتا ہے کوئی اپنے افسانے کے کرداروں پر غور کرتا ہے اور کوئی اپنی تحریر کی زبان درست کرواتا ہے ان تمام صورتوں کو ایک ہی خانے میں رکھنا درست نہیں کیونکہ تحقیق میں مدد لینا اور کسی سے پوری تحریر لکھوا کر اسے اپنی تخلیق کے طور پر پیش کرنا دو مختلف باتیں ہیں اسی طرح کسی ابتدائی مسودے کی اصلاح کروانا اور کسی دوسرے نظام سے مکمل مضمون تیار کروا کر اس میں معمولی تبدیلیاں کرنا بھی یکساں عمل نہیں ہے اصل مسئلہ مصنوعی ذہانت کا استعمال نہیں بلکہ اس استعمال کی نوعیت اور اس کے بارے میں اختیار کیا جانے والا رویہ ہے اگر ایک کالم نگار کسی نظام سے معلومات لیتا ہے تو اس کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ان معلومات کی تصدیق کرے اگر ایک افسانہ نگار کسی مشینی مسودے کو بنیاد بناتا ہے تو اسے کرداروں اور کہانی پر اپنی تخلیقی محنت صرف کرنی چاہیے اور اگر کوئی شخص مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تحریر تیار کرواتا ہے تو اسے اپنی تخلیقی شرکت کے بارے میں قارئین کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے بالخصوص وہاں جہاں کسی اشاعتی ادارے کے قواعد یا قارئین کی توقعات کے تحت اس وضاحت کی ضرورت ہو کورل ہارٹ کا معاملہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کسی تحریر کی قدر کا تعین کس بنیاد پر کرتے ہیں کیا صرف یہ جان لینا کافی ہے کہ فلاں کتاب انسان نے لکھی ہے یا مشین نے یا پھر ہمیں اس کے متن اسلوب خیال تحقیق اور ادبی معیار کو بھی جانچنا چاہیے تصور کریں کہ ایک مصنف برسوں کسی ناول پر کام کرتا ہے اس کے کردار اس کے ذاتی مشاہدات سے جنم لیتے ہیں وہ اپنی زندگی کے تجربات کو لفظوں میں ڈھالتا ہے اور پھر اسے شائع کرتا ہے دوسری طرف ایک مصنف ایسا ہے جو پہلے سے طے شدہ خاکے کی مدد سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ناول کا مسودہ تیار کرتا ہے اور پھر اس میں کئی مرحلوں پر اصلاح کرتا ہے دونوں کی محنت کی نوعیت مختلف ہے اور دونوں کی تخلیقی شرکت بھی مختلف ہوسکتی ہے اس لیے دونوں کو بالکل ایک جیسا قرار دینا انصاف نہیں ہوگا لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ مشین کی مدد سے تیار ہونے والی ہر تحریر لازماً بے کار ہے ادبی تاریخ میں بھی نئے ذرائع اور نئی تکنیکوں نے اظہار کے طریقے بدلے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے اس تبدیلی کی رفتار غیر معمولی طور پر بڑھا دی ہے اب ایک مصنف کے سامنے اصل چیلنج صرف اچھا لکھنا نہیں بلکہ اس بات کا تعین کرنا بھی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو اپنی تخلیقی قوت بڑھانے کے لیے استعمال کررہا ہے یا اپنی فکری ذمہ داری سے بچنے کے لیے میرے نزدیک اس بحث میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو نہ تو شیطان بنا کر پیش کیا جائے اور نہ ہی اسے تخلیق کا بے عیب متبادل سمجھ لیا جائے یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے جس سے تحقیق ترتیب تدوین اور مسودے کی تیاری میں مدد لی جاسکتی ہے مگر اس کی تیار کردہ معلومات میں غلطی ہوسکتی ہے اس کا اسلوب سطحی ہوسکتا ہے اور اس کی تحریر میں ایسے جملے بھی آسکتے ہیں جو بظاہر خوب صورت ہونے کے باوجود کوئی حقیقی معنوی گہرائی نہیں رکھتے ایک اچھا لکھنے والا ان خامیوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے پاس زبان کا شعور مطالعے کی بنیاد اور اپنے موضوع سے متعلق فہم موجود ہوتا ہے اس کے برعکس جو شخص خود لکھنے کی بنیادی تربیت سے محروم ہے وہ مشین کی روانی کو معیار سمجھ کر ایسی تحریر بھی شائع کرسکتا ہے جس میں معلومات تو ہوں مگر فکر نہ ہو الفاظ تو ہوں مگر احساس نہ ہو اور جملے تو ہوں مگر ان کے پیچھے کوئی واضح موقف نہ ہو یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں لکھنے والوں کی اصل پہچان شاید صرف یہ نہیں ہوگی کہ انہوں نے کتنی کتابیں لکھیں بلکہ یہ بھی ہوگی کہ وہ اپنے موضوع کو کتنا سمجھتے ہیں اپنے قارئین کو کیا دیتے ہیں اور اپنی تخلیقی ذمہ داری کس حد تک پوری کرتے ہیں۔
آخر میں کورل ہارٹ کی مثال سے ایک سبق ضرور حاصل کیا جاسکتا ہے کہ دنیا بدل رہی ہے اور لکھنے کے طریقے بھی تبدیل ہورہے ہیں ان کی کامیابی کے اعداد و شمار اپنی جگہ مگر ان سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ادب کی تعریف کیا ہوگی کیا مصنف وہ ہوگا جو ہر لفظ اپنے ہاتھ سے لکھے گا یا وہ بھی مصنف کہلائے گا جو خیال اور کردار خود تخلیق کرے گا اور باقی مراحل میں مشین کی مدد لے گا اس سوال کا کوئی ایک سادہ جواب نہیں لیکن ایک اصول پر اتفاق ہونا چاہیے کہ تخلیق کے نام پر دھوکا نہیں ہونا چاہیے کسی کی محنت کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا جانا چاہیے اور قاری کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ جس کتاب پر اپنا وقت اور پیسہ صرف کررہا ہے اس کے بارے میں مناسب معلومات رکھ سکے کورل ہارٹ نے اپنے طریقۂ کار کو عوامی بحث کا حصہ بنا کر ایک ایسی گفتگو کا دروازہ کھولا ہے جس سے اب مکمل طور پر نظریں نہیں چرائی جاسکتیں ہمارے ہاں بھی وہ لوگ جو مصنوعی ذہانت سے کالم افسانے اور مضامین تیار کرواتے ہیں انہیں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے مگر انہیں اپنے حصے کی محنت اور اپنی تخلیقی شرکت کے بارے میں دیانت دار ضرور رہنا چاہیے کیونکہ مشین الفاظ جوڑ سکتی ہے مسودہ تیار کرسکتی ہے اور ایک مصنف کی رفتار بڑھا سکتی ہے مگر ادب کی اصل قدر صرف الفاظ کی تعداد میں نہیں بلکہ اس خیال میں ہے جو قاری کے ذہن کو بدل دے اس احساس میں ہے جو دل میں دیر تک زندہ رہے اور اس سچائی میں ہے جس کے سامنے مصنف کو اپنی ذات چھپانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
مزید پڑھیں





