جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آن لائن فحش اینیمیشن اور جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے مبینہ سرگرمیوں پر 42 افراد گرفتار

مصنف:

کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی زون نے رابعہ سٹی میں تین کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 42 افراد کو گرفتار کرلیا، جبکہ 41 موبائل فونز بھی تحویل میں لے لیے گئے۔


حکام کے مطابق مذکورہ کمپنیاں مبینہ طور پر غیر ملکی صارفین کو آن لائن فحش اینیمیٹڈ مواد، ڈیجیٹل ڈیزائننگ اور دیگر آن لائن خدمات فراہم کرنے اور ان کی تشہیر میں ملوث تھیں۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق کمپنیاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے ذریعے غیر ملکی صارفین سے رابطے کرتی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی صارفین کو راغب کرنے کے لیے مبینہ طور پر فرضی ناموں، خواتین کی شناخت اور جعلی سوشل میڈیا پروفائلز پر مشتمل متعدد اکاؤنٹس استعمال کیے جاتے تھے۔ان اکاؤنٹس کے ذریعے لوگو، بینرز، ڈیجیٹل آرٹ ورک، عکاسی اور اینیمیشن سمیت مختلف خدمات کی تشہیر کی جاتی تھی۔ حکام ان الزامات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ان ذرائع سے جنسی طور پر واضح کارٹون اینیمیشنز کے آرڈرز حاصل کرکے انہیں غیر ملکی صارفین کو فروخت کیا جاتا تھا۔


این سی سی آئی اے حکام کے مطابق کارروائی کے دوران تینوں کمپنیوں کے مالکان اور ملازمین سمیت 42 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد کے انفرادی کردار اور مبینہ سرگرمیوں کا تعین کرنے کے لیے ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق پہلی کمپنی فدا حسین نامی شخص کی ملکیت ہے، جو مبینہ طور پر گزشتہ دو سال سے کام کر رہی تھی اور بین الاقوامی صارفین کو لوگو، بینر اور دیگر ڈیجیٹل آرٹ ورک کی خدمات فراہم کرتی تھی۔ اس کمپنی سے 19 موبائل فون قبضے میں لیے گئے۔دوسری کمپنی مبینہ طور پر دانش نامی شخص چلا رہا تھا، جس کے چار افراد پر مشتمل عملے کے ذریعے غیر ملکی صارفین کو لوگو اور بینر ڈیزائننگ کی خدمات فراہم کی جاتی تھیں۔ اس کمپنی سے پانچ موبائل فون ضبط کیے گئے۔حکام کے مطابق تیسری کمپنی مبینہ طور پر محسن اور احسان چلا رہے تھے، جس میں 17 افراد کام کرتے تھے۔ کمپنی ڈیجیٹل ڈیزائننگ، اینیمیشن اور آن لائن مواد سے متعلق خدمات کی بین الاقوامی سطح پر تشہیر اور فروخت میں مصروف تھی۔ یہاں سے بھی 17 موبائل فون تحویل میں لیے گئے۔


این سی سی آئی اے نے قبضے میں لیے گئے تمام موبائل فونز کو تکنیکی اور ڈیجیٹل فارنزک تجزیے کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ تفتیش کار سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ڈیجیٹل رابطوں، مشتبہ مواد اور دیگر الیکٹرانک شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ الزامات کی تصدیق اور گرفتار افراد کی مبینہ سرگرمیوں کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔حکام کے مطابق تحقیقات میں غیر ملکی صارفین کے ساتھ لین دین کے دوران جعلی آن لائن شناختوں کے مبینہ استعمال کا پہلو بھی شامل ہے۔ مزید یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا متعلقہ سرگرمیوں کے دوران پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔