شہر کی سب سے بڑی اور مہنگی رہائشی کالونی کے اے بلاک میں واقع قبرستان میں ماہا مٹی کے ایک ڈھیر کے سامنے کھڑی دعائے مغفرت پڑھ رہی تھی۔ اس کی نظریں مٹی کے اس ڈھیر پر جمی تھیں، مگر ذہن ماضی کی ان گلیوں میں بھٹک رہا تھا جہاں اس نے اپنے بچپن اور جوانی کے کئی سال گزارے تھے۔
وہ سوچ رہی تھی کہ رب کے فیصلوں کو سمجھنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ وہ اپنے فیصلے سنانے میں دیر ضرور کرتا ہے، مگر جب ان کی حکمت کھلتی ہے تو انسان حیران رہ جاتا ہے۔
قبر کے سامنے کھڑی ماہا کو اپنے والد کی زندگی کے وہ تمام مناظر یاد آنے لگے جو وقت کی دھول میں کہیں گم ہو چکے تھے۔
وہ اپنے والدین اور چھ بہن بھائیوں کے ساتھ ایک متوسط علاقے میں رہتی تھی۔ اس کے والد، مظہر صاحب، روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب گئے تھے۔ ابتدا میں وہ کسی کے ہاں ملازمت کرتے تھے، مگر رنگ و روغن کے کام میں اس قدر مہارت حاصل کر لی کہ رفتہ رفتہ ان کی پہچان پورے سعودی عرب میں ہونے لگی۔ انہوں نے اپنی محنت اور ہنر سے خاصی دولت کمائی۔
سب سے پہلے انہوں نے اپنے یتیم بہن بھائیوں کی شادیوں اور دیگر ذمہ داریوں کو پورا کیا، پھر اپنے لیے جائیداد بنانا شروع کی۔ اپنے علاقے میں ان کے دو چار مکان بھی تھے جن کے کرائے سے گھر کے اخراجات پورے ہوتے تھے۔ لوگ ان کی عزت کرتے تھے، کیونکہ وہ صرف مال دار نہیں بلکہ ایک شریف اور باکردار انسان بھی تھے۔
ان کا تیسرا بیٹا عیسیٰ سب سے لاڈلا تھا۔ وہ اپنے والد کی شکل و صورت اور عادات میں ان کی فوٹو کاپی معلوم ہوتا تھا۔ اس کی جائز خواہشات پوری کرنے میں مظہر صاحب کبھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ عیسیٰ وکالت کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اور رفتہ رفتہ اس کا اٹھنا بیٹھنا امیر گھرانوں کے لوگوں میں ہونے لگا تھا۔
ایک دن وہ گھر آیا تو اپنی ماں سے کہنے لگا:
’’امی! ابو اتنا کماتے ہیں، پھر ہم اس علاقے میں کیوں رہتے ہیں؟ مجھے یہاں کی گلیوں، سڑکوں اور جگہ جگہ لگے کچرے کے ڈھیروں سے سخت نفرت ہے۔ آپ ابو سے کہیں کہ کسی اچھی کالونی میں گھر لیں، ایک اچھی سی گاڑی خریدیں اور پاکستان واپس آ جائیں۔ آخر کب تک ہم اسی ماحول میں رہیں گے؟‘‘
اس کی ماں، سلیمہ بیگم نے نرمی سے سمجھایا۔
’’بیٹا! یہ ہمارے آباؤ اجداد کا علاقہ ہے۔ یہاں تمہارے باپ کی عزت ہے، تمہارے بہن بھائیوں کی پیدائش یہیں ہوئی ہے۔ تمہارے ابو کے مکان بھی اسی علاقے میں ہیں جن کے کرائے سے ہمارے گھر کا خرچ چلتا ہے۔ ہم ان سب کو چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہیں؟‘‘
لیکن عیسیٰ کے ذہن پر تو جیسے ایک ہی دھن سوار ہو چکی تھی۔ اسے اس علاقے سے نکلنا تھا، چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑتا۔
وہ اپنے والدین کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے گھر میں ایسا ہنگامہ کھڑا کیا کہ برتن اور دوسری چیزیں تک ٹوٹنے لگیں۔ اس کی ضد تھی کہ وہ اب اس علاقے میں نہیں رہے گا۔
آخرکار اس نے ایک پراپرٹی ڈیلر سے رابطہ کیا اور شہر کی ایک پوش کالونی میں کرائے پر مکان لے لیا۔ پھر اپنے والدین اور بہن بھائیوں سمیت وہاں منتقل ہونے کی تیاری شروع کر دی۔
اسی دوران مظہر صاحب بھی سعودی عرب سے واپس آ گئے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ اب ان کے لیے پردیس میں مزید کام کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
انہوں نے عیسیٰ کو بہت سمجھایا۔
’’بیٹا! عزت مکانوں اور دولت سے نہیں ملتی۔ انسان کا اصل مقام اس کا کردار اور اس کے اخلاق ہوتے ہیں۔ جس جگہ تمہارے باپ نے ساری زندگی گزاری، وہاں لوگ ہمیں عزت دیتے ہیں۔ اپنے گھر ہوتے ہوئے کرائے کے مکانوں میں بھٹکنے کا کیا فائدہ؟‘‘
مگر عیسیٰ کسی بات پر آمادہ نہ ہوا۔ آخرکار مظہر صاحب نے بیٹے کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔
یوں ایک مکان سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے مکان میں منتقل ہوتے ہوئے خاندان کی جمع پونجی خرچ ہونے لگی۔ اپنے مکانوں کے مالک ہونے کے باوجود وہ کرائے دار بن کر رہ رہے تھے۔
سلیمہ بیگم کو یہ صورتِ حال بہت تکلیف دیتی تھی۔ وہ اپنے گھر اور اپنے علاقے کو یاد کرتیں، مگر بیٹے کی ضد کے سامنے بے بس تھیں۔
پھر ایک دن مظہر صاحب نے فیصلہ کر لیا کہ اب عیسیٰ کی خواہش پوری کر ہی دی جائے۔ انہوں نے اپنے گاؤں کی زمین فروخت کی اور شہر کی سب سے مہنگی کالونی میں ایک پلاٹ خرید لیا۔
مظہر صاحب کو سعودی عرب میں برسوں رنگ و روغن اور گھروں کی تزئین و آرائش کا تجربہ حاصل تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ایک خوب صورت گھر کیسے تعمیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے خود اس کی تعمیر کی نگرانی شروع کر دی۔
شدید گرمی ہو یا کڑاکے کی سردی، وہ صبح سویرے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر تعمیراتی کام کی نگرانی کے لیے پہنچ جاتے۔ کبھی مزدوروں سے بات کرتے، کبھی سامان خریدنے جاتے اور کبھی کسی کام میں کمی بیشی پر بحث کرتے۔
گھر کی تعمیر میں ان کی ساری توانائی صرف ہو رہی تھی، مگر عیسیٰ کو اس بات سے کوئی سروکار نہ تھا کہ اس گھر کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے اس کے بوڑھے باپ کی کتنی محنت اور کتنی قربانی شامل ہے۔
ایک شام مظہر صاحب تھکے ہارے گھر لوٹے تو اپنی بیوی سے کہنے لگے:
’’سلیمہ! ہم کب تک بچوں کی ہر خواہش پوری کرتے رہیں گے؟ اس ضد نے تو ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ میری ساری جمع پونجی ختم ہو گئی ہے۔ اپنے مکان بھی بیچ دیے، گاؤں کی زمین بھی فروخت کر دی۔ اب ہمارے پاس بچے گا کیا؟‘‘
سلیمہ بیگم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا:
’’آپ پریشان نہ ہوں۔ اللہ پر بھروسا رکھیں، وہ ہمارا ساتھ دینے والا ہے۔ بچوں کے لیے ہی تو سب کچھ کیا ہے۔ اللہ بہتر کرے گا۔‘‘
بالآخر گھر کی تعمیر کا بیشتر کام مکمل ہو گیا اور خاندان وہاں منتقل ہو گیا۔ تاہم ابھی بہت سا کام باقی تھا۔ مظہر صاحب کے دو تین مکان پہلے ہی فروخت ہو چکے تھے اور اب ان کی کرائے کی آمدنی بھی بہت کم رہ گئی تھی۔
جس خوش حالی کی امید میں انہوں نے اپنا پرانا علاقہ چھوڑا تھا، وہ خواب آہستہ آہستہ بکھرنے لگا۔ نئی کالونی میں ان کا گھر تو بن گیا تھا، مگر مالی حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے تھے۔
مظہر صاحب کو دل کی تکلیف رہنے لگی تھی۔ عمر بھر کی محنت، مالی پریشانیاں اور مسلسل مشقت ان کی صحت پر اثر انداز ہو رہی تھیں۔ اس کے باوجود وہ کسی سے شکوہ نہیں کرتے تھے۔
انہیں اب بھی امید تھی کہ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
لیکن انسان منصوبے بناتا ہے اور وقت اپنے فیصلے سناتا ہے۔
نئے گھر میں منتقل ہوئے ابھی ایک سال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ ایک دن مظہر صاحب کے سینے میں اچانک شدید تکلیف اٹھی۔ ماہا نے فوراً انہیں ہسپتال پہنچایا۔ گھر میں افراتفری مچ گئی۔ سب کی زبان پر دعائیں تھیں اور دل میں ایک ہی خوف کہ کہیں کچھ برا نہ ہو جائے۔
مگر شاید ان کی زندگی کی مہلت پوری ہو چکی تھی۔
ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود مظہر صاحب کو نہ بچایا جا سکا۔
ایک ہی لمحے میں گھر کا سہارا، خاندان کی ڈھال اور بچوں کی محبت کرنے والا باپ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
جس گھر کو بنانے کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی اور آخری توانائیاں صرف کر دی تھیں، اسی گھر میں ان کی غیر موجودگی نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا جسے کوئی دولت، کوئی آسائش اور کوئی قیمتی چیز پُر نہیں کر سکتی تھی۔
اور پھر مظہر صاحب کو اسی کالونی کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
وقت گزرتا رہا، مگر ماہا کے لیے اپنے باپ کی جدائی کو قبول کرنا آسان نہ تھا۔ وہ اکثر ان کی قبر پر حاضری دینے آتی، فاتحہ پڑھتی اور دیر تک خاموش بیٹھی رہتی۔
آج بھی وہ قبرستان میں کھڑی تھی۔ اس کے سامنے قبر پر مٹی کا ایک ڈھیر تھا، جس کے نیچے اس کا باپ ہمیشہ کے لیے سو چکا تھا۔
ماہا کی نگاہیں اس مٹی کے ڈھیر پر ٹھہر گئیں تو اسے اپنا پرانا علاقہ یاد آ گیا۔ وہی گلیاں، وہی گھر، وہی محلہ جہاں اس کے والد نے چالیس سال گزارے تھے۔ اس کے دادا دادی اور خاندان کے دوسرے بزرگ بھی اسی علاقے کے قبرستان میں دفن تھے۔
کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ مظہر صاحب اپنی زندگی کے آخری ایام ایک ایسی کالونی میں گزاریں گے جہاں رہنے کی خواہش ان کے بیٹے نے ضد بن کر ان کے سامنے رکھ دی تھی، اور پھر وہیں ان کی آخری آرام گاہ بنے گی۔
ماہا نے مٹی کے اس ڈھیر کو دیکھا۔ اب نہ وہاں کوئی قیمتی مکان تھا، نہ مہنگی کالونی کا غرور، نہ دولت کی چمک اور نہ کسی خواہش کی تکمیل کی خوشی۔ وہاں صرف مٹی تھی، جس کے نیچے ایک ایسا باپ سو رہا تھا جس نے اپنے بچوں کی خواہشوں کے لیے اپنی عمر بھر کی کمائی قربان کر دی تھی۔
اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
اسے خیال آیا کہ مظہر صاحب نے اپنی زندگی کے چالیس سال جس علاقے میں گزارے، جہاں ان کے والدین اور بزرگ دفن تھے، وہاں ان کی قبر نہ بنی۔ جس جگہ رہنے کی انہوں نے کبھی خواہش بھی نہیں کی تھی، بالآخر وہیں ان کا مٹی کا ڈھیر بن گیا۔
شاید اللہ تعالیٰ کے فیصلے انسان کی سوچ سے کہیں بلند ہوتے ہیں۔ انسان اپنی پسند کی منزل چنتا ہے، مگر اسے کیا معلوم کہ اس کے نصیب میں آخری پڑاؤ کہاں لکھا ہے۔
ماہا نے ہاتھ اٹھائے اور اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرنے لگی۔ پھر اس نے مٹی کے اس ڈھیر کو آخری بار دیکھا، جیسے اس کے اندر اپنے باپ کی پوری زندگی سمٹ آئی ہو۔
اسے آج شدت سے احساس ہوا کہ انسان جس جگہ کو اپنا گھر بنانے کے لیے چنتا ہے، ضروری نہیں کہ وہی جگہ اس کی زندگی کی آخری منزل بھی بن جائے۔ بعض فیصلوں کی حکمت انسان کو بہت دیر سے سمجھ آتی ہے، جب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔
وہ خاموشی سے پلٹی اور قبرستان سے باہر نکلنے لگی۔
پیچھے قبرستان کی خاموش فضا میں مظہر صاحب کی قبر پر مٹی کا وہ ڈھیر موجود تھا، اور ماہا کے دل میں ایک خیال بار بار ابھر رہا تھا:
انسان ساری زندگی اپنی مرضی کی جگہ پر گھر بنانے کے لیے بھاگتا رہتا ہے، مگر اسے کیا معلوم کہ ایک دن اس کے حصے میں صرف چند گز زمین اور مٹی کا ایک ڈھیر آنا ہے۔ اور پھر وہ ڈھیر کہاں بنے گا، یہ بھی وہ نہیں جانتا؛ یہ فیصلہ تو اس رب کا ہے جس کے فیصلوں کی حکمت انسان کو اکثر بہت دیر سے سمجھ آتی ہے۔
مزید پڑھیں






