Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پشاور: نامعلوم افراد کی پولیس پر فائرنگ , بچیوں کی لاشوں سے زیادتی کرنے والا زیرِ حراست ملزم ہلاک


پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں قبروں سے مردہ بچیوں کی لاشیں نکال کر ان کی بے حرمتی کرنے جیسے سنگین جرم میں زیرِ حراست 19 سالہ ملزم سلمان پولیس ٹیم پر ہونے والے مسلح حملے کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔


پشاور میں قبروں سے لڑکیوں کی نعشیں نکال کر بے حرمتی کرنے والا ملزم پولییس ہراست میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مارا گیا-

پولیس کے مطابق ملزم سلمان ولد افغان کو جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے شیخان قبرستان لے جایا جا رہا تھا کہ تین موٹر سائیکلوں پر سوار 6 نامعلوم مسلح ملزمان نے پولیس ٹیم پر اچانک فائرنگ کر دی، فا ئر نگ سے سرکاری گاڑی اور ایک اہلکار کی بلٹ پروف جیکٹ اور ہلمٹ کو نقصان پہنچا-

پولیس کے مطابق فائرنگ کی زد میں آ کر زیرِ حراست ملزم شدید زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گیا حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے پولیس نے علاقے میں بڑا سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

ملزم سلمان کی گرفتاری کے حوالے سے ایس پی صدر فدا حسین نے دو روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہو ئے بتایا تھا کہ ملزم بچیوں کی لاشیں قبروں سے نکالتا تھا، پولیس کو ملزم کے حوالے سے اطلاع ملی کہ اسے قبرستان کے چوکیدار نے مقامی لوگوں کی مدد سے پانچویں واردات کے دوران پکڑا تھا اور بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کیا گیا۔


انہوں نے بتایا کہ ملزم بچیوں کو قبروں سے نکالنے کے بعد ان کی لاشیں صاف کرتا، انہیں کپڑے پہناتا اور پھر زیادتی کرتا تھا گرفتار ملزم کی شناخت سلمان ولد افغان کے نام سے ہوئی، جو افغانستان کا رہائشی اور حال باڑہ قدیم میں مقیم تھا۔


انہوں نے مزید کہا کہ ملزم کی عمر19 سال ہے اور وہ بارہویں جماعت پاس ہے، جو کافی عرصے سے اس قبیح فعل میں ملوث تھا،دورانِ تفتیش ملزم نے دس قبروں کی مبینہ بے حرمتی اور چار مردہ بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے کا اعتراف کیا تھا جس کے بعد اس کے خلاف قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔