ٹین ایج میں خون کی کمی ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
ٹین ایج یعنی بلوغت کا دور انسان کے جسم اور روح دونوں کے لیے ایک انقلاب سے کم نہیں ہوتا، جس میں نہ صرف قد اور جسم کا حجم تیزی سے بڑھتا ہے بلکہ تمام اعضا کو فعال رہنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ خوراک اور توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس تیزی سے ہوتے ہوئے جسمانی ارتقا میں جب مناسب اور غذائیت سے بھرپور خوراک مہیا نہ کی جائے تو خون کی شدید کمی یعنی آئرن ڈیفیشنسی انیمیا کا آفتاب طلوع ہونے لگتا ہے۔ اس عمر میں ناقص طرزِ زندگی، تیز رفتار فاسٹ فوڈ کی عادت اور کولڈ ڈرنکس کا بے تحاشا استعمال آئرن کے جذب ہونے میں شدید رکاوٹ بنتا ہے۔ بالخصوص ٹین ایج لڑکیوں میں ماہواری کے آغاز کے بعد خون کا باقاعدہ اخراج اس کمی کو مزید نکھار کر سامنے لاتا ہے، جبکہ لڑکوں میں جسمانی اور پٹھوں کے پھیلاؤ کے سبب سرخ خلیات کی طلب ایک دم بڑھ جاتی ہے اور جب آئرن کا مطلوبہ معیار پورا نہیں ہوتا تو خون بنانے والا کارخانہ سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس کمی کے باعث نوجوانوں میں ایسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں جو ان کی تعلیمی اور روزمرہ کی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ چہرے کا زرد پڑ جانا، آنکھوں کے گرد ہلکے بننا، ناخنوں کا بے رنگ اور چمچ کی شکل میں مڑنا اس کی واضح نشانیاں ہیں۔ معمولی سی مشقت، سیڑھیاں چڑھنے یا کھیلنے کودنے پر سانس پھولنا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا اور شدید تھکن کا مسلسل احساس نوجوان کو بے چین رکھتا ہے۔ دماغ کو آکسیجن کی سپلائی کم ہونے سے ہر وقت سر بھاری رہنا، چکر آنا، حافظہ کمزور ہونا اور پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری پیش آنا عام بات ہے۔ پٹھوں میں درد اور کھچاؤ کے علاوہ ہاتھ پاؤں کا مسلسل ٹھنڈا رہنا اور مزاج میں چڑچڑا پن، سستی اور اداسی بھی خون کی کمی کا ہی نتیجہ ہوا کرتے ہیں۔
اس صورتحال سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کے غذائی چارٹ میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں۔ مصنوعی اشیا، جنک فوڈ، چائے اور سوفٹ ڈرنکس سے پرہیز انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ چیزیں غذا سے آئرن کو جسم میں جذب ہونے نہیں دیتیں۔ اس کے برعکس قدرتی اور تازہ اشیا جیسے کہ پالک، ساگ، دالیں، چقندر، انار، مٹن، کلیجی، انڈے، ڈرائی فروٹس اور کشمش کا باقاعدہ استعمال سرخ خلیات کی پیداوار کو بڑھاتا ہے۔ وٹامن سی سے بھرپور پھل جیسے مالٹے اور لیموں کا استعمال آئرن کو جذب کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اس لیے لوہے سے بھرپور غذاؤں کے ساتھ وٹامن سی کی موجودگی کو یقینی بنانا چاہیے۔
والدین اور معالجین کے لیے خصوصی ہدایت یہ ہے کہ وہ ٹین ایج بچوں کی سستی اور کاہلی کو صرف سستی نہ سمجھیں بلکہ اس کے پیچھے چھپی طبی وجوہات کو جانچیں۔ سال میں کم از کم ایک بار بنیادی خون کا ٹیسٹ بالخصوص ہیموگلوبن اور فیریٹن لیول ضرور چیک کروانا چاہیے تا کہ وقت سے پہلے معلوم ہو سکے۔ بچوں کو جسمانی سرگرمیوں، کھلی ہوا اور دھوپ میں بیٹھنے کی ترغیب دی جائے اور ان کے سونے جاگنے کے اوقات کو منظم بنایا جائے۔ خود سے ادویات یا غیر معیاری آئرن سپلیمنٹس دینے کے بجائے ہمیشہ مستند طبی ماہر سے رجوع کرنا چاہیے تا کہ معدے کی خرابی یا دیگر ضمنی اثرات سے بچا جا سکے۔
ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں خون کی کمی کو نہ صرف جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے بلکہ یہ ادویات معدے کے نظام کو بہتر بنا کر قدرتی غذا سے آئرن جذب کرنے کی صلاحیت کو دوبارہ بحال کرتی ہیں۔ اگر کسی نوجوان میں خون کی کمی کے ساتھ بے حد سستی، چہرہ موم کی طرح پیلا اور موم جیسا بے رنگ نظر آئے، جسم میں سوجن اور سانس پھولنے کا مسئلہ ہو تو "فیرم میٹالکم" بہترین دوا سمجھی جاتی ہے۔ ایسے بچے جو دبے پتلے، حساس اور پڑھائی کے بعد جلدی تھک جاتے ہوں، جن کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہتے ہوں اور جن میں نمک کھانے کی خواہش زیادہ ہو، ان کے لیے "نیٹرم میور" خلیاتی سطح پر آئرن کی کمی کو پورا کرتی ہے۔ ایسے نوجوان جن کا قد تیزی سے بڑھ رہا ہو، ہڈیاں کمزور ہوں اور ذرا سی مشقت سے شدید سستی ہو جاتی ہو، ان کے لیے "کیلی فاس" اور "کیلکیریا فاس" شاندار ادویات ثابت ہوتی ہیں۔ اگر خون کی کمی کے ساتھ جگر کی سستی، قبض اور ہاضمے کی شدید خرابی شامل ہو تو "لائیکوپوڈیم" اور "نکس والمیکا" ہاضمے کو درست کر کے غذا کے جزوِ بدن بننے کے عمل کو تیز کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ لیسی تھن خون کے نئے سرخ خلیات بنانے اور دماغی و جسمانی توانائی کو بحال کرنے میں حیران کن اثرات رکھتی ہے۔ یہ تمام ادویات کسی ماہر ہومیوپیتھک معالج کی دیکھ بھال اور علامات کی تفصیلی تشخیص کے بعد ہی استعمال کرنی چاہئیں تا کہ ٹین ایج نوجوانوں کو صحت مند اور فعال زندگی کی طرف واپس لایا جا سکے۔ مزید معلومات، مفید مشورے اور بہترین ہومیوپیتھک علاج کے لیے ہومیو ڈاکٹر نازیہ ندیم سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں





