غم کے ڈیرے آج ہیں گھر گھر ہر آنکھ اشک بار اور ہر دل سوگوار ہے -سانحہ پشاور نے ایک بار پھر انسانیت کو شرمندہ اور ہمارے معاشرتی بےحسی پر ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے - ایک ایسی عمارت جس کی چھت تلے معصوم بچوں نے علم حاصل کرنا تھا ان کے خوابوں کی آماجگاہ بننا تھا وہی عمارت ان کے لیے موت کا پیغام بن گئ کئی معصوم بچے جان سے چلے گئے بہت سے زخمی ہوئے اور کتنے ہی گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گئے
یہ محض ایک عمارت کے گرنے کا حادثہ نہیں، بلکہ انسانی بے حسی، لالچ اور ذمہ داری سے فرار کی ایک دردناک داستان ہے۔ اگر اسکول کے مالک کو عمارت کی خستہ حالی کا علم تھا تو اس نے معصوم بچوں کی زندگیاں خطرے میں کیوں ڈالیں؟ چند سکوں کی خاطر ننھی جانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دینا کس اخلاق، کس قانون اور کس انسانیت کی ترجمانی کرتا ہے؟ تعلیمی ادارہ بچوں کے لیے تحفظ، تربیت اور روشن مستقبل کی ضمانت ہونا چاہیے، نہ کہ ان کی قبروں میں تبدیل ہونے والی عمارت۔
آج ان ماؤں کے کلیجوں پر کیا گزر رہی ہوگی جنہوں نے اپنے بچوں کو صبح محبت سے تیار کرکے اسکول بھیجا تھا؟ جن گھروں میں بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، وہاں اب سناٹے اور آہوں کا بسیرا ہے۔ جن والدین نے اپنے بچوں کے لیے روشن مستقبل کے خواب دیکھے تھے، ان کے خواب ملبے تلے دب گئے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس سانحے کی شفاف تحقیقات کریں، غفلت کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں اور تمام تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ محض تعزیتی بیانات اور چند وعدے ان اجڑے گھروں کے زخم نہیں بھر سکتے۔
یاد رکھیے! بچوں کی زندگیاں کسی بھی کاروباری منفعت سے زیادہ قیمتی ہیں۔ اگر ہم نے آج بھی سبق نہ سیکھا تو کل کسی اور شہر میں یہی ماتم بپا ہوسکتا ہے۔ ان معصوم جانوں کا خون ہم سب سے سوال کرتا رہے گا کہ آخر بچوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح کیوں نہ بن سکی؟
مزید پڑھیں






