کرپٹو کرنسی،فائدہ یا دھوکا؟ تحریر:مریم ڈار،قسط 7
نقطہ نظر
پچھلی قسط میں ہم نے کرپٹو مارکیٹ کی چند اہم اصطلاحات، مثلاً یو ایس ڈی ٹی، اسپاٹ، بائے، سیل، لانگ، شارٹ اور لیوریج کو سمجھنے کی کوشش کی۔ آج دیکھتے ہیں کہ کیسے اندازہ ہوتا ہے کہ قیمت اوپر جا رہی ہے، نیچے آ رہی ہے یا ایک ہی جگہ گھوم رہی ہے؟
آپ نے جب کبھی کرپٹو ایکسچینج کھولی ہے تو آپ نے بدلتی ہوئی قیمتوں پر مشتمل ایک چارٹ ضرور دیکھا ہوگا۔ چند بنیادی باتیں سمجھ لینے کے بعد یہی چارٹ پڑھنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
1۔ کرپٹو مارکیٹ کا چارٹ ایک تصویری شکل میں پیش کیا گیا ریکارڈ ہے، جس کی مدد سے ہم کسی کرپٹو اثاثے کی قیمت میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلی دیکھ سکتے ہیں۔
اگر بِٹ کوائن کی قیمت صبح 70,000 یو ایس ڈی ٹی تھی، دوپہر کو 71,000 ہو گئی اور شام تک 69,500 رہ گئی، تو چارٹ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ قیمت نے دن بھر کس طرح حرکت کی۔
ہم نے گراگس میں پڑھا ہے کہ عام طور پر چارٹ میں دو بنیادی چیزیں ہوتی ہیں:
افقی محور یعنی ہاریزنٹل اکسز ) : اس پر وقت دکھایا جاتا ہے، مثلاً منٹ، گھنٹے، دن یا ہفتے۔
عمودی محور (ورٹیکل اکسیز ): اس پر اثاثے کی قیمت دکھائی جاتی ہے۔
چارٹ دیکھ کر ٹریڈر ماضی کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے اور مارکیٹ کے موجودہ رجحان کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم ہ چارٹ ماضی اور موجودہ قیمتوں کی معلومات دیتا ہے، مستقبل کی قیمت کی ضمانت نہیں۔
2۔ ٹائم فریم سے مراد وہ دورانیہ ہے جس کی بنیاد پر چارٹ کی ایک کینڈل یا قیمت کی حرکت دکھائی جاتی ہے۔جیسے 1 منٹ: ہر کینڈل ایک منٹ کی قیمتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
- 5 منٹ: ہر کینڈل پانچ منٹ کی قیمتوں کو ظاہر کرتی ہے۔
- 1 گھنٹہ: ہر کینڈل ایک گھنٹے کی قیمتوں کا ریکارڈ دکھاتی ہے۔
- 1 دن: ہر کینڈل پورے دن کی قیمتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
اگر آپ بِٹ کوائن کا پانچ منٹ والا چارٹ دیکھ رہے ہیں۔ اس میں ہر کینڈل پانچ منٹ کے دوران ہونے والی قیمت کی حرکت دکھائے گی۔چھوٹے ٹائم فریم میں قیمتوں کی بار بار تبدیلی زیادہ نمایاں ہوتی ہے، جبکہ بڑے ٹائم فریم میں نسبتاً طویل مدت کا رجحان سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔یہ بھی یاد رکھیں کہ صرف ٹائم فریم تبدیل کرنے سے مارکیٹ کی حقیقت نہیں بدلتی، بلکہ ایک ہی قیمت کی حرکت مختلف دورانیوں میں مختلف انداز سے نظر آ سکتی ہے۔
3۔ کینڈل اسٹکس : کرپٹو چارٹس میں قیمتوں کی حرکت دکھانے کے لیے کینڈل اسٹکس کا استعمال عام ہے۔ہر کینڈل ایک مخصوص ٹائم فریم کے دوران چار بنیادی قیمتیں ظاہر کرتی ہے:
اوپن : اس دورانیے کے آغاز کی قیمت۔
ہائی: اس دورانیے میں پہنچنے والی سب سے زیادہ قیمت۔
لو: اس دورانیے میں پہنچنے والی سب سے کم قیمت۔
کلوز : اس دورانیے کے اختتام کی قیمت۔
ان چار قیمتوں کو سمجھنے کے بعد کینڈل کو پڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔
اگر بِٹ کوائن کی پانچ منٹ کی کینڈل ان قیمتوں پر مشتمل ہے:
- اوپن: 70,000 یو ایس ڈی ٹی
- ہائی: 70,500 یو ایس ڈی ٹی
- لو: 69,800 یو ایس ڈی ٹی
- کلوز: 70,300 یو ایس ڈی ٹی
اس کا مطلب ہے کہ قیمت کا آغاز 70,000 سے ہوا، دورانِ وقت یہ 70,500 تک گئی، پھر 69,800 تک نیچے آئی اور آخر میں 70,300 پر بند ہوئی۔ یعنی اس دورانیے کے اختتام پر قیمت آغاز سے زیادہ تھی۔
4۔ سبز اور سرخ کینڈل
زیادہ تر چارٹس میں سبز اور سرخ رنگ کی کینڈلز استعمال ہوتی ہیں، اگرچہ بعض پلیٹ فارمز پر رنگ تبدیل بھی کیے جا سکتے ہیں۔
سبز کینڈل: جب کلوز کی قیمت اوپن کی قیمت سے زیادہ ہو تو عام طور پر اسے سبز کینڈل دکھایا جاتا ہے۔ یہ اس دورانیے میں قیمت کے بڑھنے کی علامت ہے۔
سرخ کینڈل: جب کلوز کی قیمت اوپن سے کم ہو تو عام طور پر اسے سرخ کینڈل دکھایا جاتا ہے۔ یہ اس دورانیے میں قیمت کے گرنے کو ظاہر کرتی ہے۔
اگر بِٹ کوائن کی قیمت اگر 70,000 سے بڑھ کر 70,500 پر بند ہو تو سبز کینڈل بن سکتی ہے۔ لیکن اگر قیمت 70,500 سے گر کر 70,000 پر بند ہو تو سرخ کینڈل بن سکتی ہے۔
سبز کینڈل کا مطلب یہ نہیں کہ قیمت آئندہ بھی بڑھے گی، اور سرخ کینڈل کا مطلب یہ نہیں کہ قیمت مزید گرے گی۔ یہ صرف مکمل ہونے والے دورانیے کی صورتِ حال دکھاتی ہیں۔
کینڈل اسٹک کے دو اہم حصے ہوتے ہیں۔
باڈی کینڈل کا موٹا حصہ، جو اوپن اور کلوز کی قیمتوں کے درمیان فرق دکھاتا ہے۔
وِک یا شیڈو: کینڈل کے اوپر یا نیچے موجود باریک لکیر، جو اس دورانیے کی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم قیمتوں کو ظاہر کرتی ہے۔
اگر کسی کینڈل کی باڈی بڑی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اوپن اور کلوز کی قیمتوں میں نسبتاً زیادہ فرق رہا۔
اگر وِک لمبی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ قیمت اس دورانیے میں اوپر یا نیچے کسی حد تک گئی، لیکن اختتام پر وہاں برقرار نہیں رہی۔
کرپٹو مارکیٹ کے چارٹس کو سمجھنا ٹریڈنگ سیکھنے کا ایک اہم مرحلہ ہے، لیکن چارٹ پڑھ لینا منافع کی ضمانت نہیں۔قیمتیں اچانک بدل سکتی ہیں، مارکیٹ کے رجحانات تبدیل ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات بظاہر مضبوط اشارے بھی غلط ثابت ہوتے ہیں۔ خاص طور پر فیوچرز اور لیوریج کے ساتھ معمولی قیمت کی تبدیلی بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
نئے افراد کے لیے بہتر ہے کہ پہلے چارٹس کو سمجھیں، فرضی مثالوں یا ڈیمو ماحول میں مشق کریں اور بغیر مکمل معلومات کے اپنی محنت کی کمائی خطرے میں نہ ڈالیں۔یاد رکھیے، مارکیٹ کو سمجھنے اور مارکیٹ کی اگلی حرکت یقینی طور پر جاننے میں بہت فرق ہے۔
اگلی قسط میں ہم مارکیٹ ٹرینڈز ، سپورٹ ،رزیزٹنس ،والیم کے مزید بنیادی تصورات اور ان کے عملی استعمال کو سمجھنے کی کوشش کریں گے، تاکہ یہ جان سکیں کہ چارٹ پر نظر آنے والی معلومات کو زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کیسے پڑھا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر صرف تعلیمی اور معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ کرپٹو اثاثوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، فراڈ، سکیورٹی اور دیگر مالی خطرات موجود ہوتے ہیں۔ یہ کسی مخصوص کرپٹو اثاثے کو خریدنے یا فروخت کرنے کا مشورہ نہیں۔
مزید پڑھیں





