زندگی بے مقصد کیوں لگتی ہے؟ تحریر: مہوش شفیق
نقطہ نظر
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود دل کیوں اداس رہتا ہے؟ گھر ہے، رزق ہے، لوگ ہیں، پھر بھی ایک خالی پن سا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے کوئی شے مفقود ہے، مگر سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیا ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ خالی پن دولت کی کمی سے نہیں، مقصد کی کمی سے پیدا ہوتا ہے۔زندگی ایک طویل شاہراہ ہے۔ اس شاہراہ پر ہر انسان گامزن ہے، مگر ہر انسان کی منزل یکساں نہیں۔ کوئی اپنی منزل کو پا لیتا ہے، اور کوئی تمام عمر اس کی جستجو میں سرگرداں رہتا ہے۔اکثر لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ زندگی کا مقصد محض کوئی عظیم کارنامہ انجام دینا ہے۔ شہرت حاصل کرنا، دولت کے انبار لگانا، وسیع کاروبار قائم کرنا۔ ان کے نزدیک کامیابی صرف اسی کا مقدر ہے، جس کا نام ہر زبان پر ہو۔مگر یہ فکر ناقص ہے۔ اگر نام و دولت ہی سب کچھ ہوتے، تو عظیم محلات میں بسنے والے کبھی مضطرب نہ ہوتے، اور جھونپڑی میں رہنے والا کبھی مطمئن نہ ہوتا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بہت سے دولت مند دل کے فقیر ہیں، اور بہت سے سادہ لوح دل کے غنی ہیں۔ فرق صرف مقصد کا ہے۔ جسے مقصد میسر آ گیا، اسے سکون میسر آ گیا۔اسی لیے زندگی بے مقصد لگتی ہے، جب ہم دوسروں کی دوڑ میں اپنا آپ کھو دیتے ہیں۔ جب ہم وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو ہم ہیں ہی نہیں۔ جب ہم دل کی نہیں، دنیا کی سنتے ہیں۔حق یہ ہے کہ زندگی کا مقصد بڑا ہونا نہیں، سچا ہونا ہے۔کسی کا مقصد معلمِ کامل بننا ہے، جو شاگردوں کے قلوب میں علم کا چراغ روشن کر دے۔ کسی کا مقصد اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرنا ہے۔ ایک ماں جو شب بیداری کر کے اپنے طفل کو سلاتی ہے، اور ایک باپ جو دن بھر مشقت کر کے رزق لاتا ہے، ان کی حیات بے مقصد نہیں، بلکہ سب سے زیادہ بامقصد ہے۔کسی کا مقصد حصولِ علم اور اس کی اشاعت ہے، کیونکہ علم تقسیم سے بڑھتا ہے۔ کسی کا مقصد رنجیدہ انسانیت کا رنج کم کرنا ہے۔ کسی کے اشک پونچھ دینا، کسی گرسنہ کو طعام کھلا دینا، کسی بے سہارا کو سہارا دے دینا، یہ بھی عظیم کارنامہ ہے۔اور کسی کا مقصد رزقِ حلال کمانا اور اپنے اہلِ خانہ کو باعزت حیات عطا کرنا ہے۔ وہ دن بھر پسینہ بہاتا ہے، مگر اس کا قلب مطمئن ہوتا ہے کہ اس کے اطفال کے ہاتھ کسی کے سامنے دراز نہیں ہوتے۔ یہ مقصد حقیر نہیں، یہی اصل عظمت ہے۔زندگی کے مقصد کا کبیر یا صغیر ہونا اہم نہیں۔ اہم یہ ہے کہ وہ آپ کے قلب سے پیوستہ ہو، آپ کی فکر سے ہم آہنگ ہو، اور آپ کو باطنی سکون عطا کرے۔جس طرح ہر گل کی اپنی خوشبو، ہر طائر کی اپنی پرواز، اور ہر دریا کا اپنا بہاؤ ہوتا ہے، اسی طرح ہر انسان کا بھی اپنا مقصد ہوتا ہے۔ کوئی چراغ بن کر ظلمت میں نور پھیلاتا ہے، کوئی سایہ بن کر خستہ مسافر کو آرام دیتا ہے، کوئی دعا بن کر کسی کے لبوں پر رہتا ہے۔بے مقصد حیات اس کشتی کی مانند ہے، جو دریا میں بغیر پتوار کے بہہ رہی ہو۔ اس کا کوئی ساحل نہیں ہوتا، کوئی سمت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ ہر موج کے ساتھ ڈولتی رہتی ہے۔جس روز انسان کو اپنا مقصد مل جاتا ہے، اس روز اس کی حیات میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے۔ اس کی دیدوں میں چمک، لہجے میں نرمی، اور دل میں زیست کی آرزو پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر خستگی، غم اور ناکامی اسے شکست نہیں دے سکتے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ کس کے لیے اور کیوں جی رہا ہے۔حیات میں آزمائشیں ضرور آئیں گی، راہیں مسدود بھی ہوں گی، لوگ ٹھکرائیں گے بھی۔ مگر صاحبِ مقصد انسان ان سب سے گزر جاتا ہے، کیونکہ مقصد اسے ٹوٹنے نہیں دیتا۔حیات کا سب سے حسین مقصد یہی ہے کہ انسان اپنے وجود سے کسی کا بھلا کر جائے۔ کسی کے چہرے پر تبسم لے آئے، کسی کے قلب میں امید جگا دے، کسی کی ظلمت میں چراغ جلا دے۔ اور جب وہ اس جہان سے رخصت ہو، تو لوگ اسے اس کے نام سے نہیں، اس کے عمل سے یاد کریں۔
کیونکہ نام خاک میں مل جاتے ہیں، محلات منہدم ہو جاتے ہیں، دولت منتشر ہو جاتی ہے، مگر عملِ صالح کی خوشبو صدیوں تک فضا میں مہکتی رہتی ہے۔پس اگر زندگی بے مقصد لگ رہی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں مقصد نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ابھی اپنا مقصد پہچانا نہیں۔ اپنے قلب کی سنیے۔ اور اس راہ پر چلیے، جس پر چل کر آپ کا قلب مطمئن ہو، روح کو سکون ملے، اور پروردگار راضی ہو۔ یہی حیات ہے، اور یہی حیات کا مقصد ہے۔
مزید پڑھیں





