معصوم بچوں کی جان، ریاست کی ذمہ داری،تحریر: سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے معصوم بچوں اور ایک خاتون استاد کی قیمتی جانوں کا ضیاع پوری قوم کے لیے انتہائی افسوس ناک سانحہ ہے۔ جن بچوں کو والدین روشن مستقبل، تعلیم اور بہتر زندگی کی امید کے ساتھ اسکول بھیجتے ہیں، ان کا تعلیمی ادارے میں غیر محفوظ عمارت کے باعث زندگی سے محروم ہوجانا ایک ایسا المیہ ہے جس پر ہر پاکستانی کا دل رنجیدہ ہے۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کے خاندانوں کا دکھ ناقابلِ بیان ہے، جبکہ زخمی بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا اور ان کے خاندانوں کی عملی مدد قومی ذمہ داری ہے۔
15 اکتوبر 2026ء کو پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سرکاری حکام نے تحقیقات کا آغاز کیا اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کی جامع تحقیقات، زخمیوں کے بہتر علاج اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی۔ سرکاری و صحافتی اطلاعات میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد مختلف بیان ہوئی، اس لیے حتمی اعدادوشمار متعلقہ حکام کی تصدیق سے ہی قبول کیے جانے چاہییں۔ تاہم، اصل سوال صرف یہ نہیں کہ عمارت کیوں گری، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسے ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور روک تھام کا مؤثر نظام کہاں تھا؟ ریڈیو پاکستان
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 9 زندگی اور شخصی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ تعلیم کا حق اسی وقت بامعنی ہوسکتا ہے جب بچوں کو محفوظ ماحول بھی میسر ہو۔ خیبر پختونخوا میں نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، نگرانی اور ضابطہ کاری کے لیے 2017ء کا متعلقہ قانون بھی موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوانین محض سرکاری دستاویزات تک محدود نہ رہیں بلکہ ان پر مسلسل اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ آئینِ پاکستان، آرٹیکل 25-A؛ خیبر پختونخوا اسمبلی
سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ صوبائی حکومت تمام سرکاری اور نجی اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کا مرحلہ وار مگر فوری ساختی حفاظتی معائنہ کرائے۔ اس کام میں مستند سول انجینئرز، عمارتوں کے ماہرین اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کو شامل کیا جائے۔ عمارتوں کی بنیادوں، ستونوں، چھتوں، دیواروں، نکاسیٔ آب اور اضافی تعمیرات کی جانچ کرکے ہر ادارے کی حفاظتی رپورٹ مرتب کی جائے۔ جو عمارت خطرناک قرار پائے، اسے مرمت اور دوبارہ معائنے تک خالی کرایا جائے؛ جہاں فوری خطرہ نہ ہو وہاں بھی مقررہ مدت میں ضروری اصلاحات لازمی ہوں۔ معائنے کے نتائج، حفاظتی سرٹیفکیٹ اور آئندہ معائنے کی تاریخ والدین کے لیے قابلِ رسائی بنائی جائے۔
دوسرا اہم قدم اسکولوں کی رجسٹریشن اور عمارت کے حفاظتی سرٹیفکیٹ کو باہم منسلک کرنا ہے۔ کسی بھی نئے اسکول، اضافی منزل یا بڑی تعمیراتی تبدیلی کی اجازت مستند انجینئر کی منظوری اور متعلقہ بلڈنگ قوانین کی پابندی سے مشروط ہونی چاہیے۔ نجی اسکولوں کے مالکان کو اپنی عمارتوں کی باقاعدہ دیکھ بھال، ہنگامی اخراج کے راستوں، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور طلبہ کی تعداد کے مطابق مناسب جگہ کی فراہمی کا پابند بنایا جائے۔ خلاف ورزی پر نوٹس، جرمانے، رجسٹریشن کی معطلی یا دیگر قانونی کارروائی شفاف طریقے سے کی جائے، جبکہ غیر محفوظ عمارت میں بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہ ہو۔
تیسرا تقاضا احتساب اور شفافیت ہے۔ پشاور کے واقعے کی آزادانہ، غیر جانب دار اور تکنیکی بنیادوں پر تحقیقات کی جائیں تاکہ عمارت کے ڈیزائن، تعمیر، مرمت، اجازت ناموں، ممکنہ شکایات اور نگرانی کے تمام پہلو سامنے آسکیں۔ اگر کسی فرد یا ادارے کی غفلت ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ والدین کو شکایات درج کرانے کے لیے آسان نظام، فوری جواب اور تحقیقاتی نتائج تک مناسب رسائی دی جائے۔
وفاقی و صوبائی حکومتیں، ضلعی انتظامیہ، تعلیمی ریگولیٹری ادارے، نجی اسکول ایسوسی ایشنز، انجینئرنگ ادارے اور سول سوسائٹی مل کر بچوں کی حفاظت کے لیے مستقل قومی و صوبائی حکمتِ عملی تشکیل دیں۔ کم وسائل رکھنے والے مگر قابلِ اصلاح اسکولوں کے لیے شفاف حفاظتی معاونت کا فنڈ بھی قائم کیا جاسکتا ہے، تاکہ مالی مشکلات کو حفاظتی معیار نظرانداز کرنے کا جواز نہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ اساتذہ اور عملے کو ہنگامی انخلا، ابتدائی طبی امداد اور ریسکیو طریقوں کی تربیت دی جائے۔
یہ سانحہ محض ایک عمارت کے گرنے کا واقعہ نہیں، بلکہ ہمارے انتظامی نظام، نگرانی اور اجتماعی ذمہ داری کا امتحان ہے۔ معصوم بچوں کی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ مرحوم بچوں کے خاندانوں کی داد رسی، زخمیوں کی مکمل معاونت، ذمہ داروں کا قانونی احتساب اور ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو محفوظ بنانا ہی اس قومی المیے کے بعد حقیقی عملی اقدام ہوگا۔ قوم کو اب بیانات نہیں، ایسے اقدامات درکار ہیں جن سے آئندہ والدین کو اپنے بچے کو اسکول بھیجتے وقت اس کی زندگی کے بارے میں خوف لاحق نہ ہو۔
پاکستان زندہ باد افواج پاکستان پائندہ باد
مزید پڑھیں





