ہم سچ سے نہیں، سچ کے نتائج سے ڈرتے ہیں،تحریر: راؤ شہزاد امین
نقطہ نظر
ہمارے معاشرے کا ایک تلخ سچ یہ ہے کہ ہم سچائی کو پسند تو کرتے ہیں، مگر صرف اس وقت تک جب تک وہ ہمارے مفادات، انا اور سماجی مرتبے کو چیلنج نہ کرے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ سچ بولیں، لیکن وہ سچ ہماری پسند اور توقعات کے مطابق ہو۔ ہم حق گوئی کی تعریف کرتے ہیں، مگر جب کوئی ہماری اپنی غلطی کی نشاندہی کرتا ہے تو ہمیں اس کی بات میں اصلاح کا پہلو کم اور گستاخی کا عنصر زیادہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں سچائی اور ہماری انا کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہو جاتی ہے، جسے ہم اصولوں کا نام دے کر اپنی سہولت کے مطابق برقرار رکھتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں سچ بولنے والے کتنے لوگ ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ سچ سننے، اسے تسلیم کرنے اور اس کے مطابق خود کو بدلنے کا حوصلہ رکھنے والے کتنے ہیں؟
ہم دوسروں کی خامیوں پر گفتگو کرتے ہوئے غیر معمولی بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن جب بات اپنی غلطیوں تک پہنچتی ہے تو ہمارے پاس جوازوں کی ایک طویل فہرست موجود ہوتی ہے۔ دوسروں کی ناکامی ہمیں ان کی نااہلی دکھائی دیتی ہے، جبکہ اپنی ناکامی کے پیچھے ہمیں حالات کی خرابی، وسائل کی کمی اور دوسروں کی سازشیں نظر آنے لگتی ہیں۔ ہم اپنے لیے رعایت اور دوسروں کے لیے اصول چاہتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار رفتہ رفتہ انفرادی رویّے سے نکل کر اجتماعی کردار کا حصہ بن جاتا ہے۔
اس تضاد کی ایک واضح مثال ہمارا تعلیمی ماحول ہے۔ ہم بلند نمبروں، نمایاں نتائج اور پوزیشنوں کو کامیابی کا معیار سمجھتے ہیں، لیکن کیا کبھی ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمارا طالب علم اخلاق، برداشت، دیانت اور احساسِ ذمہ داری میں کہاں کھڑا ہے؟ ہم بچوں سے بہترین کارکردگی کی توقع تو رکھتے ہیں، مگر کیا انہیں سوال کرنے، اپنی رائے پیش کرنے اور غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی دیتے ہیں؟ ہم انہیں سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں، لیکن جب وہ اپنی کسی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں تو کیا ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں یا انہیں اس اعتراف کی سزا دیتے ہیں؟
جب ایک بچہ یہ محسوس کرنے لگے کہ سچ بولنے پر اسے ڈانٹ، تضحیک یا غیر ضروری سزا کا سامنا کرنا پڑے گا تو وہ سچائی کے بجائے اپنی حفاظت کا راستہ تلاش کرنے لگتا ہے۔ یوں جھوٹ ہمیشہ ناقص تربیت کا نتیجہ نہیں ہوتا؛ بعض اوقات ہمارے اپنے رویّے بھی اسے پروان چڑھاتے ہیں۔ اگر ہم واقعی سچ بولنے والی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی سمجھا جائے، اور جہاں سچ بولنے والے بچے کو خاموش کرنے کے بجائے اس کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کیا جائے۔
یہی تضاد ہمارے سماجی اور پیشہ ورانہ تعلقات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ ہم میرٹ کے علم بردار بنتے ہیں، مگر اپنے کسی عزیز کے لیے سفارش تلاش کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ دیانت داری کی تعریف کرتے ہیں، لیکن جب دیانت داری ہمارے ذاتی مفاد کے راستے میں آ جائے تو اس کی اہمیت کم کرنے لگتے ہیں۔ انصاف کے خواہاں ہوتے ہیں، مگر اکثر اس وقت تک جب تک اس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو۔ ہم دوسروں کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن جب سوال ہماری اپنی کارکردگی پر اٹھے تو ہمیں مداخلت، مخالفت اور ناانصافی یاد آنے لگتی ہے۔ یہ رویّے کسی ایک فرد، طبقے یا ادارے تک محدود نہیں؛ جہاں اصولوں پر مفادات غالب آ جائیں، وہاں یہی تضادات مختلف صورتوں میں سامنے آتے ہیں۔
اس صورتِ حال کی جڑیں ہماری اجتماعی نفسیات میں پیوست ہیں۔ ہم نے اختلافِ رائے کو ذاتی مخالفت اور تنقید کو اپنی عزت پر حملہ سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ کسی کی بات پر غور کرنے کے بجائے ہم پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کہنے والا کون ہے، اس کا مقام کیا ہے اور اس کی بات ماننے سے ہماری انا پر کیا اثر پڑے گا۔ ہمارے ہاں بعض اوقات عہدہ دلیل سے زیادہ طاقتور، تعلق قابلیت سے زیادہ مؤثر اور خوشامد سچائی سے زیادہ قابلِ قبول دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں مخلص انسان بھی سوچنے لگتا ہے کہ اگر حق بات کہنے کی قیمت اپنی عزت، تعلق یا عہدے کی صورت میں ادا کرنا پڑے تو کیا خاموش رہنا بہتر نہیں؟ یہی خوف خاموشی کو جنم دیتا ہے، اور مسلسل خاموشی غلط رویّوں کو معمول بنا دیتی ہے۔
تاہم، سچائی کے نام پر ہر اختلاف کو درست اور ہر خاموشی کو بزدلی قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ بعض اوقات خاموشی حکمت ہوتی ہے، کبھی معلومات کی کمی اور کبھی مناسب وقت کا انتظار۔ اسی طرح بے باکی کے نام پر کسی کی تضحیک، الزام تراشی یا بغیر ثبوت کردار کشی کرنا حق گوئی نہیں۔ سچائی کا تقاضا صرف جرأت نہیں بلکہ دیانت، تحقیق، دلیل اور اپنے الفاظ کی ذمہ داری قبول کرنا بھی ہے۔ ہر تلخ بات سچ نہیں ہوتی اور ہر خوش گوار حقیقت جھوٹ نہیں ہوتی۔ اصل معیار یہ ہے کہ بات درست ہو، دلیل پر مبنی ہو اور اصلاح کی نیت سے کہی جائے۔
تو پھر اس صورتِ حال کا حل کیا ہے؟
حل کا آغاز دوسروں کو بدلنے کے مطالبے سے نہیں بلکہ اپنی ذات کے احتساب سے ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے گھروں میں بچوں کی بات سننے، ان کے سوالات کو اہمیت دینے اور غلطی تسلیم کرنے پر انہیں ذلیل کرنے کے بجائے درست رہنمائی دینے کی عادت اپنانی ہوگی۔ تعلیمی اداروں میں سوال، تحقیق، اختلافِ رائے اور دلیل کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ اداروں میں ایسے شفاف نظام تشکیل دینا ہوں گے جہاں فیصلے تعلقات اور پسند و ناپسند کے بجائے میرٹ اور انصاف کی بنیاد پر ہوں۔ سماجی سطح پر ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ کسی کی درست بات کو محض اس لیے رد نہ کریں کہ کہنے والا ہماری پسند کا نہیں، اور اپنی غلطی کو صرف اس لیے درست ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کہ اسے تسلیم کرنا ہماری انا کے لیے مشکل ہے۔
سب سے بڑھ کر، ہمیں سچ بولنے کے ساتھ سچ سننے کی تربیت بھی درکار ہے۔ حق گوئی کا حوصلہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک انسان اپنے خلاف کہی گئی درست بات کو تحمل سے سننے، اس پر غور کرنے اور ضرورت پڑنے پر اپنی اصلاح کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ اپنی غلطی تسلیم کر لینا انسان کو چھوٹا نہیں کرتا؛ اس کے برعکس، یہ اس کے کردار کی بلندی اور فکری پختگی کی علامت ہے۔
میرے نزدیک ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہم تلخ حقیقتوں سے ناواقف ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ان سے واقف ہونے کے باوجود اپنی سہولت کے مطابق ان کی تعبیر بدل لیتے ہیں۔ ہم تبدیلی چاہتے ہیں، مگر اپنی عادتیں بدلے بغیر؛ انصاف چاہتے ہیں، مگر اپنے مفادات کی قربانی دیے بغیر؛ اور سچائی کی فتح چاہتے ہیں، مگر اس کی قیمت ادا کیے بغیر۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ اگر ہمیں سچ بولنے کی مکمل آزادی مل جائے تو ہم کون سا ممنوعہ سچ بیان کریں گے؛ اصل سوال یہ ہے کہ جب کوئی ہمارے سامنے ہماری اپنی زندگی، کردار اور رویّوں کا تلخ سچ رکھے گا تو کیا ہم اسے سننے اور قبول کرنے کا حوصلہ بھی دکھا سکیں گے؟
کیونکہ معاشرے صرف سچ بولنے والوں کی کمی سے زوال پذیر نہیں ہوتے، بلکہ اس وقت بھی زوال کا شکار ہوتے ہیں جب سچ سننے والے کم اور اسے دبانے والے زیادہ ہو جائیں۔
شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا ممنوعہ سچ یہی ہے کہ ہم دنیا کو بدلنے کی خواہش تو رکھتے ہیں، مگر خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
مزید پڑھیں





