مصنوعی ذہانت: نعمت یا چیلنج؟ تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
آج کی دنیا ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور حیرت انگیز تکنیکی انقلاب رونما ہو رہا ہے۔ اس انقلاب کا نام 'مصنوعی ذہانت' ہے۔ کل تک جو باتیں اور مناظر صرف سائنسی فلموں اور فکشن کتابوں تک محدود تھے، آج وہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ کمپیوٹر، اسمارٹ فونز اور روبوٹس اب صرف انسان کے حکم کے غلام نہیں رہے، بلکہ وہ خود سوچنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال نے دنیا کے سامنے ایک گہرا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے ایک عظیم نعمت ہے یا پھر ہمارے مستقبل کے لیے ایک ہولناک چیلنج؟
اگر ہم ایک روشن پہلو سے دیکھیں تو مصنوعی ذہانت بلاشبہ موجودہ صدی کی ایک بے مثل نعمت ثابت ہو رہی ہے۔ صحت اور طب کے شعبے میں اس جدید ٹیکنالوجی نے انقلابی معجزات دکھائے ہیں۔ پیچیدہ ترین امراض، جیسے کینسر یا دل کی بیماریوں کی بروقت تشخیص اب مصنوعی ذہانت کے جدید فارمولوں کے ذریعے سیکنڈوں میں ممکن ہو چکی ہے۔ سرجری کے میدان میں روبوٹک بازو انسانی ڈاکٹروں سے زیادہ مہارت اور باریکی سے کام کر رہے ہیں، جس سے انسانی خطاؤں کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ اسی طرح تعلیم کے میدان میں، یہ ٹیکنالوجی ہر طالب علم کی ذہنی صلاحیت کے مطابق اسے انفرادی طور پر پڑھانے اور سکھانے کا فریضہ انجام دے رہی ہے، جس سے علم حاصل کرنے کا عمل انتہائی آسان اور تیز رفتار ہو گیا ہے۔
کاروبار، صنعت، تجارت اور زراعت میں بھی مصنوعی ذہانت کی برکات کا شمار ممکن نہیں۔ وہ پیچیدہ دفتری یا صنعتی کام جنہیں مکمل کرنے میں انسانوں کو کئی دن، ہفتے یا مہینے لگتے تھے، اب وہ مشینوں کی بدولت منٹوں اور سکنڈوں میں انجام پا رہے ہیں۔ موسم کی درست ترین پیشگوئی، فصلوں کی بیماریوں کی بروقت شناخت اور زمین کی زرخیزی کے مطابق پیداوار میں افزائش کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال غریب کسانوں کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ مواصلات اور نقل و حمل کے شعبے میں خودکار گاڑیاں اور سمارٹ ٹریفک نظام مستقبل کے سفر کو محفوظ اور پرسکون بنا رہے ہیں۔ یہ تمام پہلو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بہترین نعمت ہے۔
اگر ہم عالمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ترقی کی نئی اور ناقابلِ تسخیر بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ امریکہ، چین، جاپان اور یورپی ممالک نے مصنوعی ذہانت کو اپنی معیشت، قومی دفاع، خلائی تحقیق اور روزمرہ کے حکومتی نظام کا لازمی حصہ بنا لیا ہے۔ ان ممالک کے بڑے بڑے کارخانے اب مصنوعی ذہانت کے بلبوتے پر چل رہے ہیں، جس سے ان کی پیداواری صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ لیکن دوسری طرف، یہ صورتحال پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بھی ہے، کیونکہ اگر ہم نے وقت کی نزاکت کو نہ سمجھا اور اپنے تعلیمی، تدریسی اور صنعتی نظام کو اس جدید ٹیکنالوجی کے مطابق نہ ڈھالا، تو ہم عالمی ترقی کی اس تیز رفتار دوڑ میں دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔
یہاں ہمیں اس بنیادی حقیقت کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے کائنات کا سب سے بہترین اور پیچیدہ دماغ تحفے میں دیا ہے۔ موجودہ دور میں اگرچہ مصنوعی ذہانت کے فائدے بے شمار ہیں، لیکن ہماری دماغی صحت اور فکری نشوونما کے لیے خود سے سوچنا، خود سے لکھنا اور اپنے ذہن کا استعمال کرنا ہی سب سے زیادہ صحیح اور فطری راستہ ہے۔ جب انسان اپنے دماغ کا استعمال چھوڑ کر ہر چیز کے لیے مشینوں پر انحصار کرنے لگتا ہے، تو اس کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں۔ آج کے دور کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ بہت سے تعلیمی اور کاروباری ادارے اپنے وہ بنیادی کام جو انسانی اخلاقیات اور فہم و فراست کے تقاضے کرتے ہیں، وہ بھی اندھا دھند مصنوعی ذہانت سے کروا رہے ہیں۔ یہ رجحان وقتی طور پر تو فائدہ مند ہو سکتا ہے، مگر طویل مدت میں یہ انسانی سوچ اور عقل پر تالا لگانے کے مترادف ہے۔
تصویر کا دوسرا اور تاریک رخ دیکھا جائے تو یہ نعمت اپنے اندر کئی سنگین چیلنجز، خطرات اور سماجی برائیاں بھی چھپائے ہوئے ہے۔ اس وقت دنیا کی معیشت کو جو سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے، وہ ہے روزگار کا تیزی سے خاتمہ۔ وہ تمام دفتری کام جو کل تک کلرک، ڈیٹا انٹری کرنے والے، یہاں تک کہ تخلیقی مصنفین، مترجم اور خاکہ نگار کرتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر بہت کم خرچ اور کم وقت میں زیادہ صفائی سے کر رہے ہیں۔ کارخانوں اور فیکٹریوں میں انسانوں کی جگہ روبوٹس لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں بے روزگاری کا ایک نیا اور خوفناک طوفان اٹھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اگر انسانوں کے پاس باعزت روزگار ہی نہیں رہیں گے، تو معاشی عدم توازن اور معاشرتی بے چینی کا بڑھنا یقینی ہے۔
اس کے علاوہ، اخلاقی اور سماجی چیلنجز بھی کم خطرناک نہیں ہیں۔ جعلی اور مصنوعی ویڈیو یا آڈیو بنانے والی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی معزز انسان کا روپ یا آواز اس طرح دھاری جا سکتی ہے کہ اصل اور نقل میں فرق کرنا نامکن ہو جاتا ہے۔ اس غلیظ کھیل سے نہ صرف معصوم لوگوں کی پرائیویسی اور عزت خطرے میں پڑ گئی ہے بلکہ سیاسی اور سماجی سطح پر جھوٹی افواہیں پھیلا کر پورے کے پورے معاشروں اور ملکوں کو تباہی کے دہانے پر لایا جا رہا ہے۔ مشینوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار انسان کو ذہنی طور پر بھی مفلوج اور سست بنا رہا ہے، جس سے ہماری یادداشت اور سوچنے کی صلاحیتیں ماند پڑ رہی ہیں۔
بحث کا لبِ لباب یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت بذاتِ خود نہ تو کوئی نعمت ہے اور نہ ہی کوئی عذاب۔ یہ ایک ایسا طاقتور ہتھیار ہے جس کا اچھا یا برا ہونا سراسر اس بات پر منحصر ہے کہ انسان اس کا استعمال کس نیت اور طریقے سے کرتا ہے۔ اگر ہم نے اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی ضابطے اور اخلاقی حدود کے آزاد چھوڑ دیا، تو یہ انسانی وجود کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جائے گی۔ لیکن اگر اس کے استعمال کے لیے درست قوانین بنائے جائیں اور اسے انسانیت کی فلاح کے لیے کام میں لایا جائے، تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بے بہا نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔ فیصلہ اب انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔
کالم کے اختتام پر عظیم شاعرِ مشرق کا یہ لافانی شعر اس صورتحال کی بہترین عکاسی کرتا ہے:
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات!
مزید پڑھیں

ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت
