خزاں اور انسانی نفسیات، تحریر:پروفیسر عامر زریں
نقطہ نظر
خزاں کو طویل عرصے سے انسانی نفسیات، جذبات، عمر کے بڑھنے، یادوں، تنہائی، تبدیلی اور ناپائیداری کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے خزاں ہماری شخصیت کے اس حصے کی نمائندگی کرتی ہے جو چیزوں کو چھوڑنا سیکھتا ہے، اپنے اندر کے اندھیروں کا سامنا کرتا ہے اور اختتام میں بھی خوبصورتی تلاش کرتا ہے۔
مختلف شعراء، دانشوروں اور ادیبوں نے خزاں کے بارے اپنے مشاہدات کو مختصراً اقوال کی شکل میں پیش کیا ہے۔ "خزاں ایک دوسری بہار ہے، جب ہر پتّا ایک پھول بن جاتا ہے۔"…………(البرٹ کامیو)۔ اس قول کو نفسیاتی پیرائے میں یوں سمجھ سکتے ہیں،خزاں ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تبدیلی کے ساتھ خوبصورتی ختم نہیں ہوتی، بلکہ اپنی شکل بدل لیتی ہے۔انسانی نفسیات میں یہ تصور اس صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے جس کے ذریعے انسان زندگی کے مشکل مراحل میں بھی معنی اور خوبصورتی تلاش کر سکتا ہے۔کبھی کبھی کسی چیز کو کھو دینے کے بعد ہمیں باقی رہ جانے والی چیزوں میں ایک نئی خوبصورتی دکھائی دینے لگتی ہے۔
انگریزی زبان کے معروف شاعر جان کیٹس نے خزاں کو اپنی مشہورِ زمانہ نظم 1820)To Autumn ء) میں کہایہ " دھند، نرمی اور پختگی سے بھرا ہوا موسم!" ہے۔ جان کیٹس خزاں کو پختگی، بھرپور زندگی اور بتدریج زوال کے موسم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔نفسیاتی طور پر یہ موسم اس تلخ و شیریں احساس کی ترجمانی کرتا ہے کہ ہماری زندگی کے خوبصورت ترین تجربات بھی ہمیشہ قائم نہیں رہتے۔یہ ذہنی پختگی کی ایک علامت ہے کہ انسان اپنی موجودہ خوشیوں کی قدر کرنا سیکھ لے، بغیر اس حقیقت سے انکار کیے کہ ایک دن یہ بھی گزر جائیں گی۔
نیتھنیئل ہاؤتھورن(Nathaniel Hawthorne) کے خزاں کے موسم کے بارے میں احساسات دیکھیں "میں خزاں کی دھوپ جیسی قیمتی چیز کو گھر میں بیٹھ کر ضائع کرنے کا تصور بھی برداشت نہیں کر سکتا۔" یہ قول زندگی کے مختصر اور قیمتی لمحات کے شعور کو ظاہر کرتا ہے۔خزاں ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وقت محدود ہے، اس لیے ہمیں ان لمحوں کی قدر کرنی چاہیے جو اس وقت ہمارے پاس موجود ہیں۔یہ حال میں جینے اور زندگی کے چھوٹے چھوٹے تجربات کو محسوس کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ محض یادیں بن جائیں۔
جارج ایلیٹ (George Eliot)کا خزاں کے بارے قول ہے کہ، ”کیا یہ واقعی خزاں کا دن نہیں؟ وہی خاموش اداسی جس سے مجھے محبت ہے، جو زندگی اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔"یہ خزاں کی سب سے زیادہ نفسیاتی گہرائی رکھنے والی تصویروں میں سے ایک ہے۔یہاں اداسی کو ایسی چیز کے طور پر پیش نہیں کیا گیا جسے لازماً ختم کرنا ضروری ہو۔ اس کے برعکس، یہ ایک ایسا احساس ہے جو انسان کے باطن اور بیرونی دنیا کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر سکتا ہے۔کبھی کبھی اداسی کو کسی حل کی ضرورت نہیں ہوتی؛ اسے صرف سمجھنے اور محسوس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
سلویا پلاتھ اپنے ناول، (Women Three، 1962ء)میں کہتی ہیں، ”میں خزاں کی سی ہوں۔"صرف چند الفاظ میں خزاں ایک موسم سے بڑھ کر ایک شناخت بن جاتی ہے۔اپنے آپ کو خزاں سے تشبیہ دینا اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ انسان تبدیلی، ڈھلتی ہوئی خوبصورتی، جذباتی پیچیدگی اور خود احتسابی سے گہرا تعلق محسوس کرتا ہے۔یہ موسم ایسے شخص کی تصویر پیش کرتا ہے جو زندگی کے تضادات کو شدت سے محسوس کرتا ہے: اور زندگی کے تضادات کیا ہیں:خوبصورتی اور اداسی، وابستگی اور جدائی، زندگی کی حرارت اور جذباتی تھکن۔
انگریزی شاعر ایملی برونٹے نظم Fall, Leaves, Fallمیں خزاں کے بارے لکھتا ہے، ”درخت سے جھڑتا ہوا ہر پتّا میرے دل میں مسرت جگاتا ہے۔"ایملی برونٹے کے الفاظ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کسی موسم کا مطلب بڑی حد تک اس شخص کے ذہن پر منحصر ہوتا ہے جو اسے دیکھ رہا ہے۔ایک شخص گرتے ہوئے پتّوں میں زوال اور نقصان دیکھتا ہے، جبکہ دوسرا انہی میں خوشی اور خوبصورتی تلاش کرتا ہے۔یہ اس بات کی مثال ہے کہ ہماری جذباتی کیفیت دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کے انداز پر اثر انداز ہوتی ہے۔
معروف انگریز ی شاعر ولیم کلن برائنٹ اپنی نظم ”The Death of the Flowers“ میں خزاں کے بارے حقیقت بیان کرتے ہیں، کہ"اداسی کے دن آ پہنچے ہیں، سال کے سب سے غمگین دن۔"برائنٹ موسمِ گرما کے اختتام سے وابستہ جذباتی بوجھ کو بیان کرتے ہیں۔خزاں ہمیں غیر موجودگی، تبدیلی اور وقت کے گزرنے کا زیادہ گہرا احساس دلا سکتی ہے۔ فطرت کا رنگ بدلنا کبھی کبھی ہمارے اندر موجود محرومی کے احساس کی عکاسی کرتا ہے۔تاہم، اداسی اور ڈپریشن ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ اداسی ایک عارضی اور غوروفکر پر مبنی جذباتی کیفیت بھی ہو سکتی ہے، جو انسان کو یادوں، تبدیلیوں اور نقصان کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
موسمِ خزاں کہنے کو ایک قدرتی عمل کا حامل موسم ہے۔ لیکن اس کیفیت کو ہر حساس انسان محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس موسم کی چند موسمیاتی کیفیات دیکھتے ہیں اور اس کی مدد سے انسانی نفسیات کا جائزہ لیتے ہیں۔ گرتے ہوئے پتّے…………وابستگیوں، توقعات اور پرانی شناختوں کو چھوڑ دینا۔ دھند…………غیر یقینی صورتِ حال، خود شناسی اور مستقبل کو واضح طور پر نہ دیکھ پانا۔ سنہری دھوپ یادوں کی مٹھاس، موجودہ لمحوں کی قدر اور عارضی تجربات کی خوبصورتی۔ بے برگ و گل درخت…………کمزوری کا احساس، جذباتی بے پردگی اور ظاہری شناختوں سے آگے نکلنا۔ فصل کی کٹائی………… پختگی، ماضی پر غور اور سابقہ فیصلوں کے نتائج۔ خزاں کی بارش…………غم، جذباتی اخراج اور غوروفکر۔ قریب آتی سردی…………موت و فنا کا شعور، اختتام اور تبدیلی کے لیے تیاری۔ بہار کی امید…………امید، نفسیاتی لچک اور نئی زندگی کے امکانات۔ یہ تشریحات ادبی اور نفسیاتی استعارے ہیں، آفاقی نفسیاتی قوانین نہیں۔ مختلف لوگوں کے لیے خزاں کے معنی مختلف ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کا انحصار ذاتی یادوں، حالات اور ثقافتی پس منظر پر بھی ہوتا ہے۔
اس موسم کے بارے ایک عجیب سا احساس او ر یہ خزاں کے موسم ہر سمت پھیلا ہوا اداسی کا سماں ہے۔ اس کے پیچھے کئی عوامل ہو سکتے ہیں:جیسے …………یادوں کا ابھرنا……: موسم کی تبدیلی بچپن، پرانے رشتوں اور زندگی کے گزرے ہوئے مراحل کی یاد دلا سکتی ہے۔ناپائیداری کا احساس…………: گرتے ہوئے پتّے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ خوبصورتی اور زندگی مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں۔ماحولیاتی تبدیلیاں: …………دن چھوٹے ہونے اور دھوپ کم ہونے سے بعض لوگوں کے مزاج اور توانائی پر اثر پڑ سکتا ہے۔اندرونی غوروفکر:…… گرمیوں کی مصروفیت کے بعد خزاں کا نسبتاً پُرسکون ماحول انسان کو اپنی ذات اور زندگی کے بارے میں سوچنے کا موقع دے سکتا ہے۔کچھ لوگوں کے لیے خزاں سکون اور ذہنی بحالی کا موسم ہے، جبکہ دوسروں کے لیے اس دوران اداسی یا کم مزاجی بڑھ سکتی ہے، خصوصاً جب کم ہوتی ہوئی روشنی انسانی نفسیاتی کیفیت کو متاثر کرسکتی ہے۔
موسم بذاتِ خود کسی شخص کی نفسیاتی حالت کا تعین نہیں کرتا؛ اس موسم سے وابستہ ذاتی تجربات اور معانی بھی اہم ہوتے ہیں۔خزاں ایک ایسا موسم ہے جس کی خنکی کے ساتھ زندگی ایک بار پھر نئے سرے سے شروع ہوتی ہے۔"یہ اقوال مجموعی طور پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نفسیاتی پختگی کا مطلب صرف خوش رہنا نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اداسی کو اپنے اوپر حاوی ہوئے بغیر محسوس کرنا سیکھے، خوبصورتی کو قید کیے بغیر اس کی قدر کرے اور اختتام کو اس بات کا ثبوت نہ سمجھے کہ ہر بامعنی چیز کھو چکی ہے۔یہ وہ موسم ہے جب ہمیں آہستہ آہستہ احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ چیزیں بھی ہمیشہ قائم نہیں رہتیں جن کے بارے میں کبھی ہمیں یقین تھا کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوں گی۔
ہم ان لوگوں سے وابستہ رہتے ہیں جو بدل چکے ہوتے ہیں، ان شناختوں کو تھامے رکھتے ہیں جن سے ہم آگے نکل چکے ہوتے ہیں، اور ان یادوں سے چمٹے رہتے ہیں جو ہماری موجودہ زندگی کی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔کبھی کبھی ہم مانوس چیزوں کو دائمی سمجھ بیٹھتے ہیں اور کسی چیز کو چھوڑ دینے کو شکست تصور کرتے ہیں۔شاید خزاں کا انسانی نفسیات کے لیے سب سے گہرا سبق یہ ہے کہ پختگی اس بات میں نہیں کہ ہم چیزوں کو بکھرنے سے روک لیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ جب چیزیں بکھر جائیں تو ہم یہ پہچان سکیں کہ ان کے باوجود کیا چیز اب بھی بامعنی ہے۔اور کبھی کبھی زندگی کی سب سے گہری تبدیلی اس وقت نہیں آتی جب ہم کوئی نیا انسان بن جاتے ہیں، بلکہ اس وقت آتی ہے جب ہم آخرکار اُس شخصیت کو چھوڑ دیتے ہیں جس کا بوجھ اٹھانے کی اب ہمیں ضرورت نہیں رہتی۔
مزید پڑھیں





