دانش سکول: سیاسی اختلافات سے بالاتر، تعلیم و انسانیت کی خدمت،تجزیہ:شہزاد قریشی
نقطہ نظر
قرآنِ پاک کی دعا ’’رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا‘‘ — اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما — ہمیں علم کی اہمیت، اس کی برکت اور اس کے فروغ کا درس دیتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی کا راستہ تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے، اور جب تعلیم کسی یتیم، بے سہارا اور محروم بچے کی زندگی بدل دے تو یہ محض ایک منصوبہ نہیں، بلکہ انسانیت کی عظیم خدمت بن جاتی ہے۔
شہباز شریف کوئی ولی یا فرشتہ نہیں، وہ بھی دوسرے سیاست دانوں کی طرح ایک سیاسی شخصیت ہیں۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن دانش سکولز کے منصوبے کو اس کے مثبت پہلوؤں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس منصوبے کا بنیادی تصور ان بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے جو وسائل کی کمی کے باعث اپنی صلاحیتوں کے باوجود آگے نہیں بڑھ پاتے۔ جب کسی محروم بچے کو تعلیم، تربیت اور آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدلتا ہے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے بھی امید کی کرن بن سکتا ہے۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ محرومی کو قابلیت پر غالب نہ آنے دیا جائے۔
دانش سکولز جیسے اداروں کی اہمیت اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ تعلیم صرف صاحبِ حیثیت خاندانوں کے بچوں کا حق نہیں، بلکہ ہر اس بچے کا حق ہے جس میں سیکھنے کا شوق، آگے بڑھنے کی صلاحیت اور کچھ بننے کا جذبہ موجود ہے۔ اگر ایسے اداروں سے بچے معیاری تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ تعلیم اور عملی زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو اس کا مثبت اثر پوری قوم پر پڑتا ہے۔ اس منصوبے کا کریڈٹ شہباز شریف کو دینا انصاف کا تقاضا ہے، اگرچہ اس کی کامیابی کا حتمی معیار شفافیت، تعلیمی معیار اور طلبہ کے حقیقی نتائج ہونے چاہییں۔
میری تمام صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے اپیل ہے کہ وہ سیاسی اختلافات، جماعتی مفادات اور انتخابی نعروں سے بالاتر ہو کر ایسے منصوبوں کو ترجیح دیں۔ سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، پنجاب اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں یتیم، بے سہارا اور غریب مگر باصلاحیت بچوں کے لیے معیاری تعلیمی ادارے قائم کریں۔ ایسے منصوبوں کو کسی ایک سیاسی جماعت کی ملکیت بنانے کے بجائے قومی اثاثہ سمجھا جائے، تاکہ حکومتیں بدلتی رہیں لیکن تعلیم کا یہ سفر نہ رکے۔
یاد رکھیے! سڑکیں، پل اور عمارتیں بنانا بھی ترقی ہے، لیکن ایک محروم بچے کے ہاتھ میں کتاب تھما کر اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا نسلوں کی تعمیر ہے۔ جو حکومت آج تعلیم پر سرمایہ کاری کرے گی، کل اسے ایک باشعور، باصلاحیت اور خوددار قوم کی صورت میں اس کا ثمر ملے گا۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر اچھے کام کی تحسین ہمارا اخلاقی فرض ہے۔ اگر کسی منصوبے سے کسی یتیم بچے کو تعلیم، کسی بے سہارا بچی کو محفوظ مستقبل اور کسی غریب خاندان کو امید ملتی ہے تو یہ قابلِ قدر کام ہے۔ اللہ تعالیٰ شہباز شریف سمیت ہر اس شخص کو اجرِ عظیم عطا فرمائے جو علم کے فروغ اور محروم بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
کیونکہ صدقۂ جاریہ کی ایک خوب صورت صورت یہ بھی ہے کہ انسان علم کا ایسا چراغ روشن کرے جس کی روشنی اس کے بعد بھی آنے والی نسلوں تک پہنچتی رہے۔
مزید پڑھیں





