یتیم بچوں کی حفاظت کون کرے گا؟ تحریر: سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
ملتان میں 14 سالہ بچے کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاکت کا مبینہ واقعہ محض ایک خاندان، ایک یتیم خانے یا ایک شہر کا المیہ نہیں، بلکہ ریاستی ذمہ داری، بچوں کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور معاشرتی ضمیر کے لیے ایک سنگین سوال ہے۔ اگر کسی بچے کو کام کی جگہ پر بدسلوکی یا نامناسب رویے کا سامنا ہو اور وہ وہاں سے نکلنے کی کوشش کرے، تو کیا اس کا جواب موت ہونا چاہیے؟ کیا غربت، یتیمی اور بے بسی کسی بچے کو اس قدر غیر محفوظ بنا دیتی ہے کہ اس کی جان بھی طاقتور افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جائے؟
واقعے کی تفصیلات کے مطابق، ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں 19 اکتوبر کو تھانہ ڈی ایچ اے کی حدود میں ایک 14 سالہ بچے کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سی سی ٹی وی ویڈیو کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بچے نے کام چھوڑ کر جانے کی کوشش کی، جس کے بعد ایک ٹھیکیدار نے گاڑی کے ذریعے اس کا تعاقب کیا۔ واقعے کے بارے میں پولیس کارروائی اور مقدمے کے اندراج کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم، واقعے کے تمام حقائق، بچے کی درست شناخت، ملزم کے مبینہ ارادے اور ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش، فرانزک شواہد اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونا چاہیے۔
لیکن ایک حقیقت کسی تحقیق کی محتاج نہیں:
ہر بچے کی جان قیمتی ہے، اور ہر بچے کو خوف، تشدد، استحصال اور غیر انسانی سلوک سے محفوظ رکھنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آئینِ پکستان اور بچوں کے حقوق
آئینِ پاکستان محض ایک دستاویز نہیں، بلکہ شہریوں کی زندگی، آزادی، عزت اور مساوی حقوق کا بنیادی عہد ہے۔ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 14 انسانی وقار کو ناقابلِ پامالی قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 25 قانون کے سامنے مساوات اور مساوی قانونی تحفظ کا اصول فراہم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کے لیے قانون کے مطابق مفت اور لازمی تعلیم کی ذمہ داری ریاست پر عائد کرتا ہے۔
اسی طرح آرٹیکل 11 غلامی، جبری مشقت اور بعض صورتوں میں خطرناک نوعیت کے کاموں میں بچوں کی ملازمت کی ممانعت سے متعلق بنیادی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 35 ریاست کو خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ کی پالیسی ہدایت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 37 (ای) محنت کشوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے لیے انسانی اور منصفانہ حالاتِ کار کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔
یہ آئینی ضمانتیں اس وقت بامعنی ہوں گی جب ان کا عملی نفاذ گلی، محلے، ورکشاپ، کارخانے، یتیم خانے، اسکول اور ہر اس مقام پر نظر آئے جہاں کسی بچے کے حقوق متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
قانون موجود ہے، عمل درآمد کہاں ہے؟
پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں۔ پنجاب میں
پنجاب ڈیسٹٹیوٹ اینڈ نیگلیکٹڈ چلڈرن ایکٹ 2004،
پنجاب چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو ایکٹ 2004
اور پنجاب ریسٹرکشن آن ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2016 متعلقہ دائرۂ اختیار اور قانونی شرائط کے مطابق اہمیت رکھتے ہیں۔ بچوں سے مشقت، استحصال اور بدسلوکی کے معاملات میں متعلقہ فوجداری اور محنت کے قوانین بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔
پاکستا اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال کا فریق بھی ہے۔ یہ کنونشن بچوں کو تشدد، استحصال اور غفلت سے تحفظ، تعلیم، بقا، نشوونما اور ان کے بہترین مفاد کو ترجیح دینے کے اصول تسلیم کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب قوانین موجود ہیں تو پھر ہر بچے کو ان کے مطابق تحفظ کیوں نہیں ملتا؟ یتیم بچوں کی رہائش، تعلیم، خوراک، علاج، ذہنی آسودگی اور محفوظ تربیت کی نگرانی کون کرتا ہے؟ کیا تمام متعلقہ ادارے باقاعدگی سے جانچتے ہیں کہ بچوں کو فنی تربیت کے نام پر کہیں غیر محفوظ ماحول یا استحصالی حالات میں تو نہیں بھیجا جا رہا؟
قانون کا وجود کافی نہیں؛ اس کا غیر جانب دار، مؤثر اور مسلسل نفاذ ضروری ہے۔
ریاستِ پاکستان کے نام واضح مطالبات
وفاقی حکومت، حکومتِ پنجاب، وزارتِ انسانی حقوق، وزارتِ داخلہ، وزارتِ وفاقی تعلیم، پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ، محکمۂ داخلہ پنجاب، محکمۂ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال، محکمۂ اسکول ایجوکیشن، محکمۂ لیبر اینڈ ہیومن ریسورس، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو، پنجاب پولیس، ضلعی انتظامیہ، متعلقہ ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، ضلعی پولیس افسران، چائلڈ پروٹیکشن اداروں اور انسانی حقوق کے قومی و صوبائی کمیشنوں کو اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
میرا مطالبہ ہے کہ:
اول، ملتان کے اس واقعے کی شفاف، غیر جانب دار اور میرٹ پر مبنی تفتیش کی جائے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہوں کے بیانات، فرانزک شواہد اور دیگر متعلقہ مواد محفوظ کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اگر کسی شخص کے خلاف جرم ثابت ہو تو اسے بلاامتیاز قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، جبکہ ہر ملزم کو منصفانہ سماعت کا حق بھی حاصل رہے۔
دوم، پاکستان بالخصوص میرے صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع، تحصیلوں، ڈویژنوں اور شہری و دیہی علاقوں میں یتیم، بے سہارا، لاوارث اور تشدد یا استحصال کے خطرے سے دوچار بچوں کی شناخت، رجسٹریشن اور تحفظ کا مؤثر نظام بنایا جائے۔ جہاں قانون کے تحت ضروری ہو، وہاں یتیم خانوں، رہائشی اداروں اور بچوں کو فنی تربیت دینے والے مراکز کی باقاعدہ جانچ کی جائے۔
سوم، ہر بچے کے لیے محفوظ رہائش، معیاری تعلیم، مناسب خوراک، صحت کی سہولت، لباس، قانونی شناخت، ذہنی و نفسیاتی مدد اور محفوظ فنی تربیت یقینی بنائی جائے۔ کسی بچے کو تعلیم سے محروم کرکے غیر محفوظ کام پر لگانے یا اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
چہارم، متعلقہ ادارے بچوں کے تحفظ کے لیے شکایتی نظام، ہنگامی رابطوں، فوری ریسکیو، قانونی معاونت اور بحالی کی سہولتوں کو فعال بنائیں۔ بچوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ بدسلوکی، تشدد یا استحصال کی صورت میں کہاں اور کیسے شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔
پنجم، وفاقی اور صوبائی حکومتیں بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کے نفاذ کی نگرانی کے لیے قابلِ پیمائش اہداف، باقاعدہ معائنوں اور عوامی احتساب کا نظام قائم کریں۔ جہاں غفلت یا بدعنوانی ثابت ہو، وہاں متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ششم، تمام بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات آج ہی سے شروع کیے جائیں۔ کسی بچے کو صرف اس لیے نظرانداز نہ کیا جائے کہ اس کے والدین موجود نہیں، اس کے پاس وسائل نہیں یا اس کی فریاد سننے والا کوئی بااثر شخص نہیں۔
یتیم بچے ریاست کی ذمہ داری ہیں
یتیم ہونا کسی بچے کا جرم نہیں۔ غربت اس کی غلطی نہیں۔ کم عمری میں والدین کا سایہ اٹھ جانا اس کے بنیادی حقوق سے محرومی کا جواز نہیں بن سکتا۔ ریاست کا امتحان صرف ان شہریوں کے لیے سہولتیں فراہم کرنا نہیں جن کے پاس وسائل، تعلقات اور آواز موجود ہو؛ اصل امتحان ان لوگوں کی حفاظت ہے جو اپنی مدد کے لیے دوسروں کے محتاج ہیں۔
اسلام بھی یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک، اس کے مال کی حفاظت اور اس کی عزت و کفالت کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورۃ الضحیٰ، آیت 9 میں یتیم پر سختی نہ کرنے کی ہدایت ہے۔ یہ تعلیم محض انفرادی نیکی تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ معاشرتی رویوں، ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور فلاحی پالیسیوں میں بھی اس کی روح نمایاں ہونی چاہیے۔
ریاستی اداروں، مخیر حضرات، فلاحی تنظیموں اور شہریوں کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں کوئی یتیم بچہ تعلیم، تحفظ اور عزت کے لیے دربدر نہ ہو۔ خیرات اپنی جگہ اہم ہے، لیکن بچوں کے حقوق کو خیرات نہیں، ان کا حق سمجھ کر ادا کرنا ہوگا۔
آخری سوال:
بچوں کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا؟
وسیم عباس، اس واقعے میں بچے کی شناخت کے بارے میں سامنے آنے والے اختلاف کو بھی مستند ذرائع سے واضح کرنا ضروری ہے۔ نام سے قطع نظر، ایک کم عمر بچے کی موت نے ہمیں اس سوال کے سامنے کھڑا کر دیا ہے کہ کیا پاکستان میں ہر بچے کی زندگی، آزادی اور عزت واقعی محفوظ ہے؟
میں ریاستِ پاکستان صدر پاکستان محترم و مکرم آصف علی زرداری صاحب،وزیراعظم پاکستان محترم و مکرم سر میاں شہباز شریف صاحب، گورنر پنجاب محترم و مکرم سر سردار سلیم حیدر صاحب ،وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آئین و قانون کی عملداری محض اعلانات تک محدود نہ رہے۔ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی ہو، یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم یقینی بنائی جائے، اور ہر ضلع و تحصیل میں ایسا قابلِ احتساب نظام قائم ہو جو کمزور بچوں کو تشدد، استحصال اور غفلت سے محفوظ رکھ سکے۔
اگر آج بھی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کریں تو کل کسی اور بچے کی فریاد ہماری اجتماعی بے حسی پر سوال اٹھائے گی۔ انصاف کا تقاضا صرف ایک واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں، بلکہ ایسے حالات کا خاتمہ بھی ہے جو بچوں کو غیر محفوظ بناتے ہیں۔
بچوں کی حفاظت ریاست کا فرض، قانون کی حکمرانی کا امتحان اور ہماری اجتماعی انسانیت کا معیار ہے۔ کسی بچے کو انصاف، تعلیم، تحفظ اور باعزت زندگی سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
مزید پڑھیں





