Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ملازمین کی سنیارٹی تبدیل کرنے سے متعلق کیس:سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری


ملازمین کی سنیارٹی تبدیل کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ جاری کردیا-


فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا، جبکہ جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ میں شامل تھے سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ملازمین کی سینیارٹی تبدیل کرنے سے پہلے انہیں سماعت کا موقع دینا لازم ہے اور قواعد کے خلاف مقرر کی گئی سینیارٹی بھی متاثرہ ملازم کو سنے بغیر تبدیل نہیں کی جا سکتی۔


عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ سینیارٹی ملازم کا قیمتی حق ہے، جس سے اس کے کیریئر اور ترقی کے امکانات وابستہ ہوتے ہیں سپریم کورٹ نے سندھ پولیس کے اہلکاروں کی سینیارٹی سے متعلق نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 4 اپریل 2024 کا اپنا سابقہ حکم واپس لے لیا۔


عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ ملازمین کو سماعت کا موقع دیے بغیر ان کی سینیارٹی تبدیل کرنا آئین کے آرٹیکل 10 اے اور اصولِ انصاف کے منافی ہے سینیارٹی کی بنیاد پر ترقی ملنا خودکار حق نہیں، بلکہ اس کا تعین متعلقہ قانون اور قواعد کے مطابق ہونا چاہیے،تاہم، سینیارٹی ملازمین کے پیشہ ورانہ مستقبل اور ترقی کے امکانات پر اثرانداز ہوتی ہے، اس لیے اس میں تبدیلی سے پہلے متاثرہ افراد کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دینا ضروری ہے۔


فیصلے کے مطابق، سماعت کا موقع فراہم نہ کیے جانے کا اہم قانونی نکتہ سابقہ بینچ کی توجہ سے اوجھل رہا تھا، جس کے باعث نظرثانی درخواستیں منظور کی گئیں سپریم کورٹ نے سندھ پولیس کے اہلکاروں کی اپیلیں جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے متعلقہ درخواست گزاروں کی حد تک سروس ٹریبونل کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔


عدالت نے محکمہ پولیس کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں سمیت دیگر متاثرہ افراد کو سماعت کا موقع دیا جائے اور تمام اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری کیا جائے اگر سماعت کے دوران اعتراضات درست ثابت ہوں اور سینیارٹی میں تبدیلی خلافِ قانون پائی جائےتو نئی سینیارٹی فہرست جاری کی جائے،اس مقصد کے لیے فیصلے کی وصولی سے 2 ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے، نئے فیصلے کے اجرا تک متعلقہ درخواست گزاروں کی حد تک 18 نومبر 2020 کی سینیارٹی فہرست برقرار رہے گی۔