اتوار، 25 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعلیم شعور یا صرف ڈگری؟،تحریر:سید آزاد گیلانی

نقطہ نظر

تعلیم شعور یا صرف ڈگری؟،تحریر:سید آزاد گیلانی


ہم نے تعلیم کو شاید بہت چھوٹا کر دیا ہے۔


ہم نے تعلیم کو کتاب سے شروع کیا، امتحان پر ختم کیا اور پھر ایک کاغذ ہاتھ میں تھما کر اعلان کر دیا کہ انسان تعلیم یافتہ ہو گیا۔ ہم نے ڈگری کو تعلیم کا ثبوت سمجھ لیا، حالانکہ ڈگری صرف یہ بتاتی ہے کہ کسی شخص نے ایک مخصوص نصاب پڑھا، مقررہ امتحانات دیے اور ایک تعلیمی مرحلہ طے کیا؛ یہ لازماً نہیں بتاتی کہ اس تعلیم نے اس کے فکر، کردار، رویے اور شعور میں کیا تبدیلی پیدا کی۔


یہیں سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے:


تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا ہے یا شعور پیدا کرنا؟


سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شعور ہے کیا؟


شعور محض جاننے کا نام نہیں؛ شعور یہ سمجھنے کی صلاحیت ہے کہ جو کچھ ہم جانتے ہیں، اس کا درست استعمال کیسے کرنا ہے۔ معلومات ہمیں بتاتی ہیں کہ کیا ہے، شعور ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ کیا درست ہے۔ عقل ہمیں راستے دکھاتی ہے، شعور ان راستوں کے نتائج سے آگاہ کرتا ہے۔ شعور انسان کو اپنے وجود، اپنے اعمال، اپنے حقوق، اپنے فرائض اور اپنے گردوپیش کے بارے میں بیدار کرتا ہے۔


ایک باشعور انسان صرف یہ نہیں سوچتا کہ "مجھے کیا ملے گا؟" وہ یہ بھی سوچتاہے کہ "میرے عمل سے دوسرے پر کیا گزرے گی؟"


وہ قانون کی پابندی صرف سزا کے خوف سے نہیں کرتا، بلکہ اس لیے کرتا ہے کہ اسے ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بناتا، کمزور کو حقیر نہیں سمجھتا، اختیار کو استحصال کا ذریعہ نہیں بناتا اور علم کو تکبر کا زیور نہیں بناتا۔ یہی شعور انسان کو محض جاندار سے ذمہ دار انسان بناتا ہے۔


پھر تعلیم کیا ہے؟


تعلیم صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں۔ تعلیم ایک ایسا مسلسل عمل ہے جو انسان کے ذہن کو سوال کرنا، دلیل کو سمجھنا، حقیقت کو پرکھنا، اختلاف کو برداشت کرنا اور اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کرنا سکھاتا ہے۔ تعلیم اگر انسان کی فکر کو وسعت نہیں دیتی، اس کے رویے میں شائستگی پیدا نہیں کرتی اور اس کے کردار میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لاتی تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہم نے تعلیم حاصل کی ہے یا صرف تعلیمی مراحل مکمل کیے ہیں۔


علم جب حافظے میں محفوظ رہ جائے تو معلومات ہے؛

جب فکر میں اتر جائے تو فہم ہے؛

اور جب کردار میں ظاہر ہونے لگے تو تعلیم ہے۔


یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور شعور ایک دوسرے سے جدا نہیں، لیکن ایک ہی چیز بھی نہیں۔ تعلیم عمل ہے اور شعور اس عمل کا مطلوبہ ثمر۔ تعلیم ذہن کے دروازے کھولتی ہے، شعور ان دروازوں سے باہر کی دنیا کو سمجھنے کی بصیرت دیتا ہے۔ تعلیم سوال پیدا کرتی ہے، شعور سوال کی ذمہ داری سمجھاتا ہے۔ تعلیم علم دیتی ہے، شعور علم کے استعمال کا اخلاق سکھاتا ہے۔


اب آتے ہیں ڈگری کی طرف۔


ڈگری بری چیز نہیں۔ یہ کسی شخص کی علمی یا پیشہ ورانہ اہلیت کی باقاعدہ سند ہے اور جدید معاشرے میں اس کی اپنی اہمیت ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد اور دوسرے بہت سے پیشوں میں ڈگری باقاعدہ تربیت اور اہلیت کی ضروری علامت ہے۔ اس لیے مسئلہ ڈگری کا نہیں؛ مسئلہ ڈگری کو تعلیم کا آخری اور واحد معیار سمجھنے کا ہے۔


ڈگری روزگار دے سکتی ہے، مگر کردار نہیں۔

ڈگری پیشہ دے سکتی ہے، مگر بصیرت نہیں۔

ڈگری عہدہ دلا سکتی ہے، مگر احترام نہیں۔

ڈگری معلومات کی سند ہو سکتی ہے، مگر شعور کی ضمانت نہیں۔


ایک شخص کے پاس کئی ڈگریاں ہو سکتی ہیں اور وہ پھر بھی متعصب، بدعنوان، خودغرض یا عدم برداشت کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص رسمی ڈگری سے محروم ہونے کے باوجود زندگی، انسان اور معاشرے کو سمجھنے کا ایسا گہرا شعور رکھ سکتا ہے جو اسے بہت سے ڈگری یافتہ لوگوں سے زیادہ باوقار بنا دے۔


یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ ڈگری ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ڈگری کے ساتھ شعور بھی ہے یا نہیں۔


کیونکہ ایک تعلیم یافتہ شخص سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ صرف مشکل الفاظ جانتا ہو؛ اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ آسان انسانی قدریں بھی سمجھتا ہو۔


وہ جانتا ہو کہ اختلاف، توہین نہیں ہوتا۔

وہ سمجھتا ہو کہ طاقت، دوسروں کو دبانے کا لائسنس نہیں۔

وہ جانتا ہو کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔

وہ سمجھتا ہو کہ کامیابی صرف آگے نکل جانے کا نام نہیں؛ کبھی کسی گرتے ہوئے انسان کو سہارا دینا بھی کامیابی ہوتی ہے۔


اگر ہماری درس گاہوں سے نکلنے والا نوجوان اپنی ڈگری تو دکھا سکتا ہے مگر اپنے رویے میں برداشت، گفتگو میں تہذیب، فیصلوں میں انصاف اور زندگی میں ذمہ داری نہیں دکھا سکتا تو ہمیں صرف اس نوجوان سے سوال نہیں کرنا چاہیے؛ اپنے تعلیمی نظام سے بھی سوال کرنا چاہیے۔


کیونکہ تعلیم کا اصل امتحان امتحانی ہال میں نہیں ہوتا۔


تعلیم کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب انسان کو اختیار ملتا ہے، اختلاف ملتا ہے، مفاد سامنے آتا ہے اور کوئی اسے دیکھنے والا نہیں ہوتا۔


وہاں اس کی ڈگری خاموش ہوتی ہے؛ اس کا شعور بولتا ہے۔


ہماری ایک بڑی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ ہم ڈگریوں کی تعداد کو معاشرے کی ترقی کا پیمانہ سمجھ لیتے ہیں۔ یقیناً اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہیں، لیکن صرف ڈگری یافتہ افراد کا معاشرہ لازماً باشعور معاشرہ نہیں ہوتا۔ اگر علم بڑھتا جائے مگر برداشت کم ہوتی جائے، معلومات بڑھتی جائیں مگر تحقیق کم ہو، ڈگریاں بڑھتی جائیں مگر دیانت کم ہوتی جائے، تو ہمیں اپنی ترقی کے مفہوم پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔


کتابیں بڑھ جانا اور بصیرت بڑھ جانا ایک چیز نہیں۔

ڈگریاں بڑھ جانا اور انسانیت بڑھ جانا بھی ایک چیز نہیں۔


تعلیم کا مقصد صرف یہ نہیں کہ انسان اپنے لیے بہتر روزگار حاصل کر لے؛ تعلیم کا مقصد یہ بھی ہے کہ وہ اپنے لیے، اپنے معاشرے کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر انسان بن سکے۔


تعلیم انسان کو صرف کامیاب نہیں، ذمہ دار بنائے۔

صرف قابل نہیں، باصلاحیت اور باکردار بنائے۔

صرف صاحبِ علم نہیں، صاحبِ شعور بنائے۔


اسی لیے ڈگری کو اس کے مقام پر رکھنا ضروری ہے۔ ڈگری ایک اہم وسیلہ ہے، مگر منزل نہیں۔ یہ پیشہ ورانہ زندگی کا دروازہ کھول سکتی ہے، مگر انسان کے باطن کے دروازے خود بخود نہیں کھولتی۔ وہاں مطالعہ، تجربہ، فکر، تربیت، اخلاق اور مسلسل خود احتسابی کی ضرورت ہوتی ہے۔


آخرکار سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "آپ کے پاس کتنی ڈگریاں ہیں؟"


سوال یہ ہونا چاہیے:


"آپ کی تعلیم نے آپ کو کتنا بدلا ہے؟"


کیا آپ زیادہ برداشت کرنے والے ہوئے؟

کیا آپ نے اختلاف کو سمجھنا سیکھا؟

کیا آپ کے اندر انصاف کا احساس بڑھا؟

کیا آپ کمزور کے لیے نرم اور طاقتور کے سامنے اصول پسند ہوئے؟

کیا آپ نے علم کو تکبر کے بجائے خدمت کا ذریعہ بنایا؟


اگر ان سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو تعلیم نے اپنا کام کیا ہے۔


اور اگر ڈگری ہاتھ میں ہے مگر شعور زندگی میں نظر نہیں آتا تو پھر ہمارے پاس ایک سند ضرور ہے، مگر تعلیم کا مقصد ابھی ادھورا ہے۔


ڈگری غلط یا ناقص چیز نہیں؛ یہ علمی اور پیشہ ورانہ زندگی کی ایک اہم ضرورت ہو سکتی ہے۔ مگر شعور اس سے کہیں زیادہ مؤثر حقیقت ہے، کیونکہ ڈگری انسان کو کسی شعبے کے قابل بناتی ہے، جبکہ شعور اسے زندگی کے قابل بناتا ہے۔


آخرکار معاشرے کو صرف ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد اور افسر نہیں چاہییں؛ اسے بااصول ڈاکٹر، دیانت دار انجینئر، منصف مزاج وکیل، ذمہ دار استاد اور باشعور افسر بھی چاہییں۔


کیونکہ معاشرے کی اصل تعمیر اینٹوں، عمارتوں اور ڈگریوں سے نہیں؛ باشعور انسانوں سے ہوتی ہے۔


اسی لیے تعلیم کا آخری ہدف ڈگری نہیں ہونا چاہیے۔


ڈگری تعلیم کا ایک نتیجہ ہو سکتی ہے، مگر شعور تعلیم کا اصل مقصود ہے۔


اور جب تعلیم انسان کو یہ سکھا دے کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی ذمہ دار ہے؛ صرف جاننے والا نہیں، سمجھنے والا ہے؛ صرف سمجھنے والا نہیں، درست عمل کرنے والا ہے—تب تعلیم اپنے حقیقی مفہوم تک پہنچتی ہے۔


آخر میں ڈگری کاغذ پر ثبت ہوتی ہے، مگر شعور انسان کے کردار پر۔

ڈگری ختمِ تعلیم کا اعلان کر سکتی ہے، مگر شعور انسان کی آخری سانس تک اس کی تربیت جاری رکھتا ہے۔


اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ تعلیم یا ڈگری؟


اصل سوال یہ ہے:


ہمیں ڈگری یافتہ انسان چاہیے یا باشعور انسان؟


اور اس سوال کا جواب شاید ہماری پوری تعلیمی ترجیحات کی سمت متعین کر سکتا ہے۔