تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟ تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ
نقطہ نظر
تعلیم انسان کی زندگی کا وہ چراغ ہے جو صرف راستہ روشن نہیں کرتا بلکہ یہ شعور بھی عطا کرتا ہے کہ کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔ یہ انسان کو صرف الفاظ پڑھنا نہیں سکھاتی بلکہ الفاظ کے پیچھے چھپے معنی سمجھنے، حالات کو پرکھنے اور درست و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت بھی دیتی ہے۔ مگر آج ہمارے معاشرے میں ایک سوال مسلسل ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا تعلیم کا مقصد صرف ایک ڈگری حاصل کرنا ہے یا اس کا اصل مقصد ایک باشعور، باکردار اور ذمہ دار انسان بنانا بھی ہے؟ ہم نے شاید تعلیم کو کاغذ کے ایک ٹکڑے تک محدود کر دیا ہے۔ ڈگری ہاتھ میں آتے ہی ہم خود کو تعلیم یافتہ سمجھنے لگتے ہیں، لیکن کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ ہماری گفتگو، ہمارے رویے، ہمارے فیصلے اور دوسروں کے ساتھ ہمارا برتاؤ ہماری تعلیم کی گواہی بھی دیتے ہیں یا نہیں۔ آج ہمارے پاس پہلے سے زیادہ ڈگریاں ہیں، تعلیمی ادارے زیادہ ہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، لیکن سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہمارے اندر شعور بھی اسی رفتار سے بڑھا ہے؟ اگر ایک شخص کئی ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود جھوٹ کو معمولی بات، دھوکے کو چالاکی، بدتمیزی کو آزادی اور دوسروں کا حق مارنے کو کامیابی سمجھتا ہے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ اس کی تعلیم نے اسے آخر دیا کیا ہے؟ کیونکہ تعلیم کا اصل کمال انسان کے نام کے ساتھ لگنے والے حروف میں نہیں بلکہ اس کے کردار میں دکھائی دیتا ہے۔ علم اگر انسان کو عاجزی نہیں دیتا، شعور اگر اسے برداشت نہیں سکھاتا اور ڈگری اگر اسے انسانوں کی قدر کرنا نہیں سکھاتی تو پھر تعلیم کا مقصد کہیں نہ کہیں ادھورا رہ جاتا ہے۔ حقیقی تعلیم انسان کو صرف کتاب پڑھنا نہیں سکھاتی بلکہ انسان کو انسان سمجھنا سکھاتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، طاقت کمزور کو دبانے کے لیے نہیں بلکہ اس کا سہارا بننے کے لیے ہوتی ہے، اور کامیابی صرف اپنی منزل تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ راستے میں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا نام بھی ہے۔ ایک باشعور انسان اپنے حقوق سے آگاہ ہونے کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا احترام بھی کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ معاشرہ صرف ’’میں‘‘ سے نہیں بلکہ ’’ہم‘‘ سے بنتا ہے۔ ہم اکثر بچوں سے پوچھتے ہیں کہ تم بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ کوئی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتا ہے، کوئی انجینئر، کوئی وکیل، کوئی استاد اور کوئی افسر۔ مگر شاید ہمیں اس سوال کے ساتھ ایک اور سوال بھی ضرور پوچھنا چاہیے کہ تم بڑے ہو کر کیسے انسان بنو گے؟ یہ سوال ہماری پوری تعلیمی سوچ کا رخ بدل سکتا ہے۔ کیونکہ معاشرے صرف بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں سے نہیں سنورتے بلکہ اچھے کردار والے انسانوں سے سنورتے ہیں۔ ایک ایماندار دکاندار، فرض شناس استاد، ذمہ دار صحافی، مخلص ڈاکٹر، دیانت دار افسر، محنتی مزدور اور قانون کا احترام کرنے والا عام شہری اپنی اپنی جگہ معاشرے کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے۔ ڈگری انسان کو ملازمت تک پہنچا سکتی ہے، مگر شعور اسے ذمہ داری نبھانا سکھاتا ہے۔ ڈگری کسی ادارے کا دروازہ کھول سکتی ہے، مگر کردار انسان کے لیے دلوں کے دروازے کھولتا ہے۔ ڈگری یہ بتا سکتی ہے کہ ہم نے کیا پڑھا ہے، لیکن شعور یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم نے پڑھا ہوا کتنا سمجھا اور اپنی زندگی میں کتنا اتارا ہے۔ اگر کوئی شخص پڑھ لکھ کر بھی اپنے والدین کی عزت نہیں کرتا، استاد کا احترام نہیں کرتا، چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں سے ادب سے پیش نہیں آتا، راستے میں کچرا پھینکتا ہے، قانون کی خلاف ورزی کو فخر سمجھتا ہے یا اپنے فائدے کے لیے کسی دوسرے کا حق مار لیتا ہے تو اس کی ڈگری خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اس کی تعلیم ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم اور تربیت کو الگ الگ سمجھ لیا گیا ہے۔ ہم بچوں کو کتابیں تو فراہم کرتے ہیں، مگر ہمیشہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کتابوں سے ان کی شخصیت میں کیا تبدیلی آ رہی ہے۔ ہم نمبروں کی دوڑ میں بچوں کو آگے دیکھنا چاہتے ہیں، مگر کردار کی تعمیر کو اکثر ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں۔ بچہ امتحان میں سو میں سے سو نمبر حاصل کر لیتا ہے، مگر زندگی کے امتحان میں صبر، برداشت، سچائی، دیانت اور ذمہ داری جیسے بنیادی مضامین میں کمزور رہ جاتا ہے۔ یہاں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ اسکول بچے کو تعلیم دیتا ہے، مگر گھر اس کی شخصیت بناتا ہے۔ بچہ صرف وہ نہیں سیکھتا جو اسے بتایا جاتا ہے، بلکہ وہ بھی سیکھتا ہے جو وہ اپنے اردگرد ہوتا دیکھتا ہے۔ اگر گھر میں احترام ہوگا تو بچہ احترام سیکھے گا، اگر سچائی ہوگی تو سچائی اس کی عادت بنے گی، اور اگر دوسروں کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا تو وہ بھی یہی رویہ اختیار کرے گا۔ اسی طرح استاد کا کردار صرف کتاب کا سبق مکمل کر دینا نہیں۔ ایک استاد جب اپنے شاگرد کو سوال کرنے، سوچنے، دلیل سمجھنے، اختلاف برداشت کرنے اور دوسروں کا احترام کرنے کا ہنر دیتا ہے تو وہ صرف ایک طالب علم نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شہری تیار کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم، تربیت اور شعور ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ڈگری کی اپنی اہمیت ہے۔ تعلیم انسان کو علم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ کسی پیشے میں مہارت کے لیے باقاعدہ تعلیم ضروری ہے اور ایک معاشرے کی ترقی کے لیے تعلیم یافتہ افراد ناگزیر ہیں۔ لیکن ڈگری منزل نہیں، ایک وسیلہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس وسیلے سے ہم اپنے لیے کیا بناتے ہیں اور معاشرے کے لیے کیا چھوڑ جاتے ہیں۔ ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو ہاتھ میں ہنر، ذہن میں علم، دل میں احساس، زبان میں شائستگی اور کردار میں مضبوطی پیدا کرے۔ ایسی تعلیم جو انسان کو صرف کامیاب ہونے کا طریقہ نہ بتائے بلکہ یہ بھی سکھائے کہ کامیابی کے راستے میں کسی کا حق نہ چھینا جائے۔ ایسی تعلیم جو انسان کو اپنے مستقبل کی فکر کے ساتھ اپنے معاشرے کی ذمہ داری کا احساس بھی دے۔ آخرکار ہمیں اپنے بچوں سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کتنے نمبر لے کر آئے ہیں، مگر اس سے زیادہ ضروری یہ پوچھنا ہے کہ وہ ان نمبروں کے ساتھ کتنے بہتر انسان بنے ہیں۔ ڈگری دیوار پر سجائی جا سکتی ہے، مگر شعور انسان کے عمل میں نظر آتا ہے۔ ڈگری انسان کا تعارف بن سکتی ہے، مگر کردار اس کی اصل پہچان بنتا ہے۔ تعلیم کا سفر یونیورسٹی کی آخری سیڑھی پر ختم نہیں ہونا چاہیے۔ حقیقت میں وہاں سے ایک نئے سفر کا آغاز ہونا چاہیے؛ ایسا سفر جس میں انسان اپنے علم سے خود بھی بہتر بنے اور دوسروں کے لیے بھی روشنی، آسانی اور امید کا سبب بنے۔ کیونکہ قومیں صرف ڈگریوں کی تعداد سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ ان ڈگریوں کے پیچھے موجود شعور، کردار، دیانت اور انسانیت سے ترقی کرتی ہیں۔ اور شاید تعلیم کا سب سے خوبصورت مفہوم یہی ہے کہ انسان کتابیں پڑھتے پڑھتے صرف علم والا نہ بنے، بلکہ علم کو زندگی میں اتارتے اتارتے ایک اچھا انسان بن جائے۔ کیونکہ ڈگری یافتہ ہونا کامیابی ہے، مگر تعلیم کو شعور، شعور کو کردار اور کردار کو انسانیت میں بدل دینا ہی تعلیم کی اصل کامیابی ہے۔
مزید پڑھیں





