گلوبل وارمنگ یعنی زمین کا مسلسل بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس وقت پوری دنیا اور بالخصوص ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بقائی چیلنج بن چکا ہے۔ سورج کی حرارت کو اپنے اندر جذب کر کے کرہ ارض کو بتدریج گرم کرنے والی زہریلی گیسیں، جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین، ہمارے ماحولیاتی نظام کے قدرتی توازن کو برباد کر رہی ہیں۔ اس ہولناک مسئلے کی سب سے بڑی وجہ انسان کا فطرت سے دور ہونا، ایندھن کا اندھا دھند استعمال، جنگلات کی کٹائی اور صنعتی فضلے کی بے دردی سے پھیلاؤ ہے۔ جب سمندر گرم ہو رہے ہوں، گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہوں اور بے وقت کی بارشیں اور شدید سیلاب انسانی آبادیوں کو نگل رہے ہوں، تو ایسے میں "ماحول دوست" طرزِ زندگی ہی واحد روشنی کی کرن کے طور پر سامنے آتا ہے جو اس بڑھتی ہوئی تپش اور تباہی کا راستہ روک سکتا ہے۔
ماحول دوست پالیسیوں اور گلوبل وارمنگ کا باہمی تعلق انتہائی گہرا اور براہِ راست ہے۔ جب ہم ایک ایسا طرزِ عمل اپناتے ہیں جو قدرتی وسائل کو نقصان پہنچائے بغیر ہماری ضروریات پوری کرے، تو ہم دراصل ان زہریلی گیسوں کے اخراج کو روک رہے ہوتے ہیں جو عالمی حرارت کا بنیادی سبب ہیں۔ روایتی ایندھن یعنی کوئلے، پیٹرول اور گیس کو جلانے سے اربوں ٹن کاربن فضا میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب دنیا ماحول دوست ذرائع جیسے شمسی توانائی، بادی توانائی اور آبی توانائی کی طرف منتقل ہوتی ہے، تو فضا میں حرارت پیدا کرنے والے عناصر کی مقدار میں ڈرامائی کمی واقع ہوتی ہے۔ توانائی کے شعبے میں یہ تبدیلی گلوبل وارمنگ کی رفتار کو سست کرنے کے لیے سب سے پہلا اور اہم ترین قدم مانا جاتا ہے۔
اسی طرح جنگلات اور شجرکاری ماحول دوست فلسفے کا ایک مرکزی ستون ہیں اور گلوبل وارمنگ کا قدرتی علاج بھی۔ درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن فراہم کرتے ہیں، جس سے زمین کا پھیپھڑا کہلانے والے جنگلات کرہ ارض کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب ہم درختوں کی کٹائی روکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر مقامی پودے لگاتے ہیں، تو یہ صرف شجرکاری نہیں ہوتی بلکہ گلوبل وارمنگ کے خلاف ایک مؤثر جنگ ہوتی ہے۔ شہروں میں گرین بیلٹس اور جنگلات کی موجودگی مقامی سطح پر درجہ حرارت کو کم رکھتی ہے اور گرمی کی شدید لہروں یعنی ہیٹ ویوز کے اثرات کو توڑنے میں مدددگار ثابت ہوتی ہے۔
صنعتی پیداوار اور کچرے کا درست انتظام بھی اس حوالے سے انتہائی اہم پہلو ہیں۔ ہمارے کچرے کے ڈھیروں میں جب پلاسٹک اور نامیاتی مواد گلتا سڑتا ہے یا انہیں جلایا جاتا ہے، تو اس سے میتھین گیس خارج ہوتی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھی کئی گنا زیادہ خطرناک اور گرم ہوتی ہے۔ جب ہم ری سائیکلنگ اور اپ سائیکلنگ کو اپنا اصول بنا لیتے ہیں، تو نئے خام مال کی تیاری میں خرچ ہونے والی ایندھن اور توانائی کی بچت ہوتی ہے اور کچرے سے اٹھنے والا زہریلا دھواں ختم ہو جاتا ہے۔ ایلومینیم، کاغذ اور پلاسٹک کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانا فیکٹریوں کے چمنیوں سے نکلنے والے زہریلے دھوئیں کو روکتا ہے، جس سے فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ عالمی حرارت میں اضافہ رک جاتا ہے۔
روزمرہ کی خانگی زندگی اور انفرادی رویے بھی گلوبل وارمنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم اپنے گھروں میں بجلی کا بے جا استعمال کم کر کے، انورٹر اور سولر سسٹمز کو ترجیح دے کر، اور پبلک ٹرانسپورٹ یا سائیکلنگ کو فروغ دے کر اپنے کاربن فٹ پرنٹ کو نمایاں طور پر گھٹا سکتے ہیں۔ ہمارے بازاروں میں یک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک بیگز کا خاتمہ اور قدرتی کپڑے کے تھیلوں کا استعمال ایک ایسا چھوٹا سا اقدام ہے جو قومی سطح پر ایک بڑی ماحولیاتی تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ جب ہر فرد اپنے حصے کا شمع جلاتا ہے، تو زہریلی گیسوں کا مجموعی اخراج کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔
قومی اور بین الاقوامی سطح پر حکومتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ گلوبل وارمنگ کو صرف ایک کاغذ پر لکھا ہوا ماحولیاتی نعرہ نہ سمجھیں بلکہ اسے قومی سلامتی کا مسئلہ مان کر فوری پالیسیاں تشکیل دیں۔ سبز عمارتوں یعنی گرین آرکیٹیکچر کے قوانین لاگو کرنا، برقی گاڑیوں کو فروغ دینا، اور صنعتی فضلے کو ری سائیکل کرنے کی سخت پابندیاں عائد کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ وہ ملک جو ماحول دوست ٹیکنالوجی کو اپنا کر اپنی معیشت کو استوار کرتے ہیں، نہ صرف اپنے قدرتی وسائل کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ موسمیاتی تباہیوں سے پیدا ہونے والے معاشی نقصان سے بھی بچ جاتے ہیں۔
جیسا کہ میں اپنے پچھلے کالم میں تفصیلاً بتا چکا ہوں، ماحول دوست طرزِ زندگی اور ری سائیکلنگ کو اپنا کر ہم نہ صرف اپنے اردگرد کی آلودگی کو کم کر سکتے ہیں بلکہ زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو بھی معتدل بنا سکتے ہیں۔ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی حقیقت میں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ جب ہم اپنے پچھلے کالم میں بتائے گئے طریقوں، جیسے قدرتی وسائل کے محتاط استعمال، شجرکاری اور کچرے کو دوبارہ کارآمد بنانے کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، تو اس کا سیدھا اور سب سے بڑا فائدہ ہماری فضا کو پہنچتا ہے اور زمین کی تپش کم ہونے لگتی ہے۔
سادہ الفاظ میں سمجھا جائے تو گلوبل وارمنگ کوئی ایسا ناگزیر عذاب نہیں جسے روکا نہ جا سکے، بلکہ یہ ہماری اپنی چند غلط عادتوں اور لاپروائی کا نتیجہ ہے۔ جس طرح بیماری کی صحیح تشخیص کے بعد اس کا علاج ممکن ہوتا ہے، بالکل اسی طرح اگر ہم اپنے رویوں میں تھوڑی سی تبدیلی لے آئیں تو اس مسئلے کا حل بھی ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ جب ہم گھروں کی سطح پر بجلی اور پانی کا ضیاع روکتے ہیں، پلاسٹک کا استعمال ترک کرتے ہیں، اور گلی محلوں میں پودے لگاتے ہیں، تو ہم دراصل عالمی حرارت کو بڑھانے والی زہریلی گیسوں کا راستہ روک رہے ہوتے ہیں۔
قومی اور صنعتی سطح پر بھی وہی اصول کارآمد ثابت ہوتے ہیں جن کا ذکر ہم نے پہلے کیا۔ حکومتیں اور کارخانے جب روایتی ایندھن کے بجائے شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی بنانے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں اور فیکٹریوں کے فضلے کو ری سائیکل کرتے ہیں، تو زہریلے دھوئیں اور حرارت کا اخراج رک جاتا ہے۔ اگر ہم بطور قوم اور فرد ان ماحول دوست اصولوں پر قائم رہیں، تو نہ صرف ہم عالمی حرارت کے اس خطرے کو بڑی حد تک قابو میں لا سکتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صاف، صحت مند اور خوبصورت ماحول تحفے میں دے سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں






