پی ٹی آئی کا ہر لانگ مارچ دراصل ٹی ٹی پی کو لانگ لائف دینے کی کوشش ہے
جب حکومت بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کر رہی تھی، تو پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے روڑے اٹھکانا افسوسناک ہے۔
اور جب اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع میں وفاقی حکومت کا ساتھ دیا جائے یا نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار پھر قومی سلامتی پر سیاست کریں گے؟ پی ٹی آئی والے مکالمے کے بجائے محاذ آرائی کی سیاست پر یقین رکھتے نظر آتے ہیں لیکن قوم اس وقت ایسی سیاست کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ملک کو اتحاد چاہیے، ٹکراؤ نہیں۔
جب ایک بار سیاسی مکالمہ ہو جائے اور فیصلہ ہو جائے، تو کو مذاکراتی ٹیم کے فیصلے پر قائم رہنا چاہیے، فیصلوں پر عمل درآمد کرنا ہی جمہوری اخلاق ہے,اگر یہ روش برقرار رہی تو یہ سلسلہ کہیں نہیں رکے گا، یہ واضح کرتا ہے کہ یہ سب ریاست کے لیے نہیں، اپنی سیاست چمکانے کے لیے کیا جا رہا ہے-
دوپہر 2 بجے سے رات 2 بجے تک طویل بیٹھک کے باوجود حکومت نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے سنجیدگی سے بھرپور کوشش کی۔ PTI سے صرف تعاون، کوآرڈینیشن اور نیشنل ایکشن پلان 2.0 پر عملدرآمد مانگا گیا، لیکن PTI کے نمائندے مذاکرات کی میز پر بھی خیبر پختونخوا کی PTI حکومت سے ہدایات لیتے رہے، جس سے واضح ہوگیا کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے میں ان کی سنجیدگی کتنی تھی۔
ایک بار پھر ثابت ہوا کہ PTI دہشتگردی کے خاتمے کے لیے وفاق کا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔ ایک طرف فتنہ خان کی رہائی کا بیانیہ، دوسری طرف اپنے اتحادی TTP کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ یہی تضاد PTI کی اصل ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے,اگر گورنر راج لگتا ہے تو یہی PTI والے ایک بار پھر خود کو مظلوم ثابت کرنے کی مہم شروع کر دیں گے۔
عمران خان کے سیاسی چمچوں کو ایک بار پھر فتنے کو مصلحت کا نام دے کر مذاکرات کے لئے بھیجا گیا اس نے فتنہ پھیلانے پر اپنے تلوے چاٹنے والوں کو کبھی مصلحت کا سبق پڑھایا ہی نہیں جس نے خود اس فتنہ سیاست سے کچھ حاصل نہیں کیا، تو اس کے یہ نام نہاد بڑے وفادار بھی کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے،صاف نظر آ رہا ہے، 9 مئی کی دوسری قسط کی ماسٹر مائنڈ پلاننگ چل رہی ہے، سب سے پہلے پاکستان ہے، پھر کوئی دوسرا یا تیسرا، لیکن یہ تو کہیں بھی نہیں ہیں-
محسن نقوی کسی کے “پیغام رساں” نہیں تھے۔ مذاکرات اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں رانا ثناءاللہ، امیر مقام اور PPP قیادت کی موجودگی میں ہوئے، بعد ازاں وزیراعظم اور صدر کو بریف کیا گیا، یعنی واضح سویلین سیاسی چین ہے پر ڈالرخور چورنالسٹ ہمیشہ کچھ اور ہی دیکھتے ہیں
اصل تعطل ایک ہی نقطہ پر رہا، PTI نے KP میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون دینے سے انکار کیا کوئی بھی کسی پشتون کو دہشت گرد نہیں کہتا یہ سب ڈالر خور چورنالسٹ کے ذہنوں کی اختراع ہے۔ KP میں پولیس، شہری اور ریاستی اہلکار مسلسل حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور ڈالر خوروں کا بیانیہ یہ ہے کہ ریاست ہمین دہشت گرد کہ رہی ہے۔ آپکو ڈیجیٹل دہشت گرد کہا تھا، ریکارڈ درست کر لیں-
سیاسی مشاورت ضروری ہے اور وہ اس حکومت نے کی بھی ہے مگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کسی جماعت کے سیاسی ویٹو سے نہیں رکے گی پرامن احتجاج حق ہے، مگر ہجوم کو دارالحکومت میں بزور داخل ہونے کا لائسنس نہیں مل جاتا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ دوبارہ پڑھ لیں۔
گورنر راج کوئی خفیہ فوجی حکم نہیں بلکہ ایک آئینی آپشن ہے، جس پر فیصلہ صرف آئینی طریقہ کار سے ہوسکتا ہے، پوری دنیا کو جو نظر آیا وہ پاکستان کا ثالثی والا کردار تھا۔ لیکن آفتاب اقبال جیسے چورنالسٹ کبھی کہتے ہیں کہ فوج دہشت گردی خود کروا رہی، کبھی کہتے ہیں کہ بلوچستان دے وچوں دی امریکہ دا کوریڈور گزرے دا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ تاریخ پھر دہرا دی گئی! 2014 میں بھی دھرنے کی آڑ میں ٹی ٹی پی کو بچایا، 2022 میں 40 ہزار دہشتگردوں کو واپس بسایا، آج پھر نیشنل ایکشن پلان سے انکار۔ پی ٹی آئی کا ہر لانگ مارچ دراصل ٹی ٹی پی کو لانگ لائف دینے کی کوشش ہے اب واضح ہو گیا ٹی ٹی پی کا عسکری ونگ پہاڑوں میں، اور سیاسی ونگ زمان پارک میں۔ ایک خون بہاتا ہے، دوسرا اس خون کا دفاع کرتا ہے، رات کو مذ ا کرات کے لیے گڑگڑاتے ہیں، دن کو لانگ مارچ کی ٹیں ٹیں کرتے ہیں۔ یہ لیڈر نہیں، سیاسی بھانڈ ہیں۔ نہ ان کے پاس مینڈیٹ ہے، نہ عقل۔ صرف اڈیالہ سے ہدایت آتی ہے اور یہ فساد شروع کر دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں




گوگل میسجز میں نیا لانگ پریس مینو متعارف

