Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وفاقی آئینی عدالت کا ہراسگی سے متعلق اہم فیصلہ جاری

constitutional court

وفاقی آئینی عدالت نے کام کی جگہ پر ہراسمنٹ سے متعلق قانون کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ 2010 کے قانون کے تحت قابلِ کارروائی ہراسمنٹ کے لیے جنسی نوعیت یا جنسی پہلو کا موجود ہونا ضروری ہے۔


عدالت کے مطابق محض بدتمیزی، نامناسب رویے، توہین آمیز برتاؤ یا کسی ملازم کے ساتھ غلط سلوک کو اس قانون کے تحت ہراسمنٹ نہیں کہا جاسکتا، جب تک اس طرزِ عمل میں جنسی عنصر موجود نہ ہو۔ ایسے معاملات وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔


وفاقی آئینی عدالت کی یہ تشریح سپریم کورٹ کے 2023 کے فیصلے سے مختلف ہے، جس میں جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ کام کی جگہ پر ہراسیت کو صرف جنسی نوعیت تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ جنس کی بنیاد پر امتیاز، توہین آمیز رویہ اور ایسا ماحول بھی اس کے دائرے میں آسکتا ہے جو ملازم کے لیے دشمنانہ یا ناموافق ہو۔


وفاقی آئینی عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے، ہر نامناسب یا ناپسندیدہ رویہ جنسی ہراسگی کے زمرے میں نہیں آتا، جنسی عنصر کے بغیر شکایت ہراسگی ایکٹ کے تحت وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی-


عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ ادارہ نامناسب رویے پر اپنے سروس رولز کے تحت تادیبی کاررو ائی کر سکتا ہے، ہراسگی قانون کا مقصد خواتین اور مردوں کو کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی سے تحفظ دینا ہے، ہراسگی ایکٹ کا اطلاق عمومی نوعیت کی ہر شکایت پر نہیں کیا جا سکتا-


وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ صدرِ مملکت وفاقی محتسب کے فیصلے کیخلاف نمائندگی سننے کے مجاز ہیں، ہائی کورٹ محتسب کے فیصلے میں محدود آئینی بنیادوں پر ہی مداخلت کر سکتی ہے، وفاقی محتسب نے دو بینک افسران کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنائی تھی، صدرِ مملکت نے برطرفی کی سزا تبدیل کرکے سرزنش کی سزا دی تھی-


تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدر کا حکم کالعدم کرکے وفاقی محتسب کا فیصلہ بحال کیا تھا وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 31 دسمبر 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیااور وفاقی آئینی عدالت نے صدرِ مملکت کا حکم بحال کر دیا-


یوں ورک پلیس ہراسمنٹ سے متعلق قانون کی تشریح کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے سابقہ مؤقف میں نمایاں فرق سامنے آگیا ہے۔


اپیلوں کی سماعت چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی اٹھارہ صفحات پر مبنی تفصیلی فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا-