خیبرپختونخوا میں ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
محکمہ قانون نے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق فارغ کیے گئے افسران میں 26 ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور 31 اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شامل ہیں، جبکہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے عہدوں پر تعینات 4 افسران کو بھی ہٹایا گیا ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس نے بھی گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اپنے استعفے میں انہوں نے ان اقدامات کی آئینی اور قانونی حیثیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ غیر معمولی اقدامات کو صوبائی خودمختاری مجروح کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
شاہ فیصل الیاس کے مطابق ان کا فیصلہ آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی سے وابستگی کا نتیجہ ہےسرکاری عہدے پر برقرار رہنا ان کے آئینی مؤقف اور پیشہ ورانہ اصولوں کے منافی ہوگا ان کے استعفے کو متنازع اقدامات کی قبولیت یا ان کے آئینی جواز کے اعتراف کے طور پر نہ سمجھا جائے انہوں نے استعفیٰ آئینی بنیادوں پر احتجاج کے طور پر قبول کرنے کی درخواست بھی کی۔
محکمہ قانون کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے عہدوں سے ہٹائے گئے 26 افسران میں نعمان الحق کاکاخیل، عقیل حسین، ایم ریاض خان پائندہ خیل، عامر زیب، ایوب زمان، عبدالرؤوف آفریدی، عمیر اعظم خان، مدثر اعجاز، ندیم شاہ، اسد جان درانی، تیمور حیدر، نیاز محمد، ایم شہزاد نواز، عالم خان عدنزی، مہرین منور/مہرش منور، نصیر الدین شاہ، شاہ فیصل الیاس، الطاف خان، مزمل خان، محمد بشار نوید، سردار بشارت خان، ملک امجد عنایت، غلام محمد سپال، حق نواز خان، منصور صادق اور سیف الرحمن شامل ہیں۔
ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے عہدوں سے ہٹائے گئے چار افسران میں زاہد یوسف قریشی، ایم اجمل خان، فرید اللہ کنڈی اور ملک اختر حسین اعوان شامل ہیں۔
اسی طرح اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے عہدوں سے ہٹائے گئے 31 افسران میں تسکین الدین خٹک، جاوید خان، جاوید اللہ، یاسر خالد، بلال خان، رحمت علی، ارباب فخرِ عالم، حمیرا گل، جواد علی، ارشد اعظم، فرحان قدیر، وقار اورکزئی، عمر خان، عابد الرحمان، شاہد خان، سید بلال شفیع اندرابی، مشتاق رحیم، عامر خان، شعیب علی، یاسر سلیم، ایم عدنان شیر، انعام اللہ خان، احمد ابو حنیفہ امام، رحیم اللہ، کمال، محمد فرقان، عمران خان، نجیب اللہ، عبدالوحید، ارشاد احمد خان اور عبدالقیوم شامل ہیں۔
واضح رہے کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کی گزشتہ روز منظوری دی گئی تھی صدر مملکت نے وزیرا عظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ان اقدامات کی منظوری دی، جس کے بعد وفاقی حکومت نے صوبے کے انتظا می ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں کیں۔
وفاقی حکومت نے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کو عہدے سے ہٹا کر گریڈ 22 کے افسر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو نیا چیف سیکریٹری مقرر کیا اس کے علاوہ صوبے میں بیوروکریسی اور پولیس افسران کے تبادلے اور تعیناتیاں بھی کی گئیں۔
وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں پاک فوج کی تعیناتی کا حکم نامہ بھی جاری کیا۔ فوج سول انتظامیہ کی معاونت اور شہریوں کی جان و مال سمیت سرکاری تنصیبات کے تحفظ کے لیے تعینات کی جائے گی وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق نئے انتظامی نظام میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سیکیورٹی کے لحاظ سے حساس 12 اضلاع کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے، جو گورنر اور چیف سیکریٹری کے ماتحت کام کرے گا محمد یحییٰ اخونزادہ کو ان 12 حساس اضلاع کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تعیناتی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔





