منشیات کے خلاف کارروائی میں امریکی اہلکاروں کی شرکت، میکسیکو میں سابق پراسیکیوٹر پر غداری کا الزام

میکسیکو نے امریکی اہلکاروں کو منشیات کے خلاف کارروائی میں شرکت کی اجازت دینے کے الزام میں ریاست چیواوا کے سابق اٹارنی جنرل سیزر جاوریگی کےخلاف غداری کا مقدمہ قائم کر دیا ہے-
رائٹرز کے مطابق سابق پراسیکیوٹر پر الزام ہے کہ انہوں نے اپریل میں شما ل مغربی سرحدی ریاست چیواوا میں منشیات کی ایک تجربہ گاہ کے خلاف کارروائی میں امریکی اہلکا روں کی شرکت کی اجازت دی، تاہم اس معاملے میں وفاقی حکومت کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔
یہ معاملہ 19 اپریل کو پیش آنے والے ایک کار حادثے کے بعد سامنے آیا تھا، جس میں 2 امریکی اہلکار اور میکسیکو کے 2 قانون نافذ کرنے والے اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔,ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی اہلکار منشیات تیار کرنے والی ایک تجربہ گاہ کو تباہ کرنے کے لیے مقا می حکام کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
جاوریگی نے اس وقت غیر ملکی اہلکاروں کی منشیات کے خلاف کارروائی میں شرکت کی تردید کی تھی ان کا کہنا تھا کہ امریکی اہلکار قریبی مقام پر ڈرون سے متعلق تربیتی سرگرمی میں شریک تھے اور بعد میں انہوں نے میکسیکن اہلکاروں کے قافلے کے ساتھ ہوائی اڈے جانے کی درخواست کی تھی۔ وہ اسی ماہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کو امریکی اہلکاروں کی کارروائی میں شر کت کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دیکھا جائے کہ آیا ملکی آئین اور قومی سلامتی کے قانون کی پابندی کی گئی یا نہیں۔
میکسیکو کے قانون کے تحت ملک میں غیر ملکی فورسز کی سرگرمیوں کے لیے وفاقی منظوری ضروری ہے۔ عدالت نے جاوریگی کو ابتدائی سماعت تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ مقدمے کو آگے بڑھانے کے لیے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق میکسیکو میں غداری کی قانونی تعریف وسیع ہے اور اس جرم میں سزا کی مثالیں انتہائی کم ملتی ہیں۔
مزید پڑھیں

ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت
