ایوانِ اقتدار سے گلی کوچوں تک،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ
نقطہ نظر
پاکستان کی گلیوں، بازاروں، چوکوں اور دیہات میں بسنے والے لوگوں کی آنکھوں میں آج بھی بہتر مستقبل کے خواب پلتے ہیں۔ کوئی باپ اپنے بچوں کو خوش حال زندگی دینے کی آرزو رکھتا ہے، کوئی نوجوان روزگار کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے، کوئی کسان اپنی محنت کا صلہ چاہتا ہے اور کوئی غریب اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ دوسری طرف ایوانِ اقتدار میں ملک و قوم کے مستقبل کے حوالے سے فیصلے ہوتے ہیں، سیاسی بیانات سامنے آتے ہیں اور اقتدار کی رسہ کشی جاری رہتی ہے۔ ایسے میں ایک سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی بحثوں اور فیصلوں میں عام آدمی کی مشکلات کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جتنی اہمیت سیاسی مفادات کو حاصل ہے؟ سیاست دراصل عوام کی خدمت کا نام ہے۔ اقتدار کوئی اعزاز ہی نہیں، ایک بھاری ذمہ داری بھی ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کو اس امید پر منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل سنیں گے، ان کی مشکلات کم کریں گے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ لیکن جب عام شہری اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو، جب ایک محنت کش پورا دن مزدوری کرنے کے باوجود اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کر سکے اور جب ایک غریب باپ اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے پیسوں کا بندوبست نہ کر پائے تو اس کے دل میں اٹھنے والے سوالات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ذرا شہر کی چمکتی سڑکوں سے نکل کر ان گلیوں کا رخ کیجیے جہاں زندگی روزانہ ایک نئی آزمائش لے کر آتی ہے۔ کہیں بجلی کے بل نے گھر کا بجٹ بگاڑ رکھا ہے، کہیں مہنگائی نے دسترخوان سے ضروری اشیا کم کر دی ہیں، کہیں بے روزگار نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں اور کہیں کسان اپنی فصل کی مناسب قیمت اور زرعی اخراجات کے بوجھ کے درمیان پس رہا ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کا تعلق کسی ایک طبقے سے نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی معاشی اور سماجی حالت سے ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ملک میں مسائل کیوں ہیں؛ سوال یہ ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کتنی ہے؟ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن جب اختلاف کی شدت عوامی مسائل کو پسِ پشت ڈال دے تو قومی ترجیحات پر نظرثانی ضروری ہو جاتی ہے۔ حکومت ہو یا حزبِ اختلاف، ہر سیاسی جماعت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کو محض بیانات، وعدوں اور الزامات سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں ایسے اقدامات درکار ہیں جن کے نتائج ان کی روزمرہ زندگی میں محسوس ہوں۔ تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی، انصاف اور بنیادی سہولتیں کسی قوم پر احسان نہیں بلکہ عوام کی جائز ضروریات ہیں۔ ایک عام شہری کو سرکاری دفتر میں عزت ملے، نوجوان کو میرٹ پر ملازمت کے مواقع میسر آئیں، کسان کو اپنی محنت کا مناسب معاوضہ ملے اور غریب کو علاج کے لیے اپنی جمع پونجی فروخت نہ کرنی پڑے تو یہی وہ تبدیلی ہے جسے حقیقی معنوں میں عوامی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ تاہم مسائل کی تمام ذمہ داری صرف حکمرانوں پر ڈال کر شہریوں کی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر بھی درست نہیں۔ قومی ترقی کے لیے دیانت دار قیادت کے ساتھ باشعور عوام، قانون کی پاسداری، ٹیکسوں کی منصفانہ ادائیگی، میرٹ کی حمایت اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا بھی ضروری ہے۔ سیاسی وابستگی اپنی جگہ، مگر ملک اور عوام کا مفاد ہر وابستگی سے مقدم ہونا چاہیے۔ میڈیا، سول سوسائٹی اور اہلِ قلم کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کریں، حقائق کی بنیاد پر سوال اٹھائیں اور جہاں کوئی اچھا کام ہو، وہاں اس کا اعتراف بھی کریں۔ تنقید کا مقصد کسی کی تضحیک نہیں، بلکہ اصلاح اور بہتری کی راہیں ہموار کرنا ہونا چاہیے۔ آج پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں اقتدار کی مدت سے زیادہ عوام کی مشکلات کو اہمیت دی جائے، سیاسی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات دکھائی دیں اور ذاتی مفادات سے بڑھ کر قومی مفاد کو ترجیح حاصل ہو۔ کیونکہ تاریخ میں وہی قیادت عزت پاتی ہے جو اپنے دورِ اقتدار میں عوام کے دلوں میں جگہ بناتی ہے۔ آخر میں سوال وہی ہے کہ ایوانِ اقتدار سے گلی کوچوں تک عوام کی آواز کب پوری سنجیدگی سے پہنچے گی؟ اس کا جواب محض تقریروں میں نہیں، بلکہ ان فیصلوں میں پوشیدہ ہے جو عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا کریں۔ یاد رکھیے، ملک کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں؛ اگر ان کے چہروں پر اطمینان، گھروں میں خوش حالی اور دلوں میں امید باقی رہے تو یہی ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد ہے۔
مزید پڑھیں





