بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

گیم چینجر،سی پیک اور صنعتی انقلاب ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

پاک چائنا اقتصادی راہداری یعنی سی پیک صرف دو دوست ممالک کے درمیان سڑکوں اور پلوں کا کاغذی معاہدہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے معاشی مستقبل کو ایک نئی سمت دینے والا وہ تاریخی منصوبہ ہے جس کے اندر اس خطے میں ایک عظیم صنعتی انقلاب برپا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ اگر ہم ماضی کی تاریخ اور دنیا کی معاشی پیش رفت کا جائزہ لیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ کوئی بھی ملک محض بنیادی خام مال کی برآمد سے پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتا، جب تک کہ وہ اپنے ہاں جدید صنعت کاری کو فروغ نہ دے۔ سی پیک کا پہلا مرحلہ اگرچہ زیادہ تر توانائی اور مواصلاتی ڈھانچے کو استوار کرنے پر محیط تھا، لیکن اس کا اصل مقصد، جس کا اب دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، پاکستان کی سرزمین پر ایک سچے اور مستحکم صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھنا ہے۔


کسی بھی ملک میں صنعتی سرگرمیوں کے آغاز اور کامیابی کے لیے سب سے پہلی اور بنیاد شرط بلا تعطل اور سستی توانائی کی فراہمی ہوتی ہے۔ ماضی میں پاکستان ایک شدید اور طویل توانائی کے بحران کا شکار رہا ہے، جس کی وجہ سے ہماری متعدد فیکٹریاں بند ہو گئیں، ٹیکسٹائل کی ملیں بیرون ملک منتقل ہو گئیں اور ملکی پیداوار کا پہیہ مفلوج ہو کر رہ گیا۔ سی پیک کے ابتدائی مرحلے کے تحت ملک بھر میں کوئلے، پانی اور قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے جو منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، انہوں نے قومی گرڈ کو ایک نیا توانا سہارا فراہم کیا ہے۔ جب فیکٹریوں کو بلا تعطل بجلی میسر آتی ہے تو پیداواری عمل نہ صرف بحال ہوتا ہے بلکہ پیداواری لاگت میں بھی خاطر خواہ کمی آتی ہے۔ یہی وہ بنیادی عنصر ہے جو مقامی صنعت کاروں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔


توانائی کے بعد دوسرا سب سے اہم پہلو مواصلاتی اور لاجسٹکس کا نظام ہے۔ سی پیک کے تحت تعمیر کی جانے والی جدید شاہراہیں، ڈیرہ اسماعیل خان سے لے کر گوادر اور خنجراب تک کا روڈ نیٹ ورک، اور ریلوے کے نظام کو جدید بنانے کے منصوبے ملک کے دور دراز علاقوں کو مرکزی منڈیوں سے جوڑ رہے ہیں۔ جب مصنوعات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا آسان اور سستا ہو جاتا ہے تو سپلائی چین کی لاگت گر جاتی ہے۔ گوادر بندرگاہ کی بین الاقوامی سطح پر فعالی نے پاکستان کو ایک ایسے اسٹریٹجک مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے نہ صرف چین بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کی تجارت کا راستہ بھی پاکستان کے دل سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ مواصلاتی انقلاب صنعتی ترقی کا وہ ایندھن ہے جس کے بغیر کسی بھی قسم کی معاشی پیش رفت کا تصور ممکن نہیں۔


سی پیک کے تحت صنعتی انقلاب کا سب سے بڑا محور وہ خصوصی اقتصادی زونز یعنی ایس ای ڈیز (SEZs) ہیں جو ملک کے تمام صوبوں میں قائم کیے جا رہے ہیں۔ رشکئی، دھابےجی، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور بوستان جیسے زونز محض صنعتی پلاٹ نہیں ہیں بلکہ یہ وہ معاشی جزیرے ہیں جہاں سرمایہ کاروں کو ٹیکس میں رعایتیں، آسان کسٹم قوانین، اور ایک ہی چھت تلے تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان زونز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ چین کی وہ صنعتیں جو اپنی لاگت بڑھنے کی وجہ سے متبادل جگہوں کی تلاش میں ہیں، وہ پاکستان کا رخ کر رہی ہیں۔ اس منتقل ہوتی ہوئی صنعتی لہر سے پاکستان کو نہ صرف جدید چینی ٹیکنالوجی اور پیداواری طریقے منتقل ہوں گے، بلکہ مقامی صنعتی شعبے کو بھی ایک نئی زندگی ملے گی۔


پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہمیشہ سے ٹیکسٹائل اور زراعت کا شعبہ رہی ہے۔ سی پیک کے تحت چلنے والے صنعتی منصوبوں سے ان دونوں روایتی شعبوں میں معجزانہ تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں جہاں پہلے ہم خام کپاس یا سادہ کپڑا برآمد کر کے معمولی زرِ مبادلہ کماتے تھے، اب جدید مشینری اور پراسیسنگ کے ذریعے اعلیٰ معیار کے گارمنٹس اور سپورٹس ویئر تیار کر کے عالمی منڈیوں میں پیش کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح، پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہرسال اربوں روپے کے خوراک کے اجزا درآمد کرتا ہے، جبکہ سی پیک کے تحت فوڈ پراسیسنگ اور زرعی صنعتی یونٹس قائم کر کے ہم اپنے پھلوں، سبزیوں، دودھ اور گوشت کو جدید طریقے سے محفوظ اور پروسیس کر کے دنیا بھر میں برآمد کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف کسان کی حالت بدلے گی بلکہ زرعی شعبہ ایک جدید صنعت کا روپ دھار لے گا۔


انڈسٹریل انقلاب کا ایک اور حیرت انگیز پہلو الیکٹرانکس، آٹو موبائل، اور ہائی ٹیک انڈسٹریز کی مقامی سطح پر پیداوار ہے۔ فی الوقت پاکستان موبائل فونز، گھریلو برقی آلات، گاڑیوں کے پرزہ جات اور ادویات کی تیاری کے لیے زیادہ تر خام مال اور اجزا کی درآمد پر منحصر ہے۔ سی پیک کے زونز میں جب چینی اور عالمی کمپنیاں اپنے اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ پلانٹس لگائیں گی تو نہ صرف ملک میں درآمدات پر انحصار کم ہوگا، بلکہ روپے کی قدر مستحکم ہوگی اور پاکستان خود مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو سکے گا۔ مزید برآں، آئی ٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں آپٹیکل فائبر کے جال اور سافٹ ویئر پارکس کا قیام ہماری نوجوان نسل کے لیے ڈیجیٹل معیشت کے وہ نئے دروازے کھول رہا ہے جن کا تصور چند سال پہلے تک ممکن نہ تھا۔


یہ بات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ صنعتی انقلاب کا اصل ثمر اس ملک کے عام شہریوں اور نوجوانوں کو ملتا ہے۔ سی پیک کے ان تمام منصوبوں اور فیکٹریوں کے قیام سے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ہزاروں پاکستانی انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور ہنر مند مزدور جب چینی ماہرین کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے ہیں تو ان کے ہنر میں جو نکھار آتا ہے، وہ ملک کا حقیقی اور دائمی اثاثہ ہے۔ یہ ہنر مندی ہماری افرادی قوت کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بناتی ہے اور ملک سے بے روزگاری و غربت کا خاتمہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔


تاہم، اس بات کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ اتنا بڑا صنعتی انقلاب خود بخود یا راتوں رات برپا نہیں ہو جاتا۔ اس عظیم خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے پاکستان کو کچھ اندرونی چیلنجز پر قابو پانا ہوگا۔ ہمیں اپنی پالیسیوں میں تسلسل قائم رکھنا ہوگا، سرخ فیتے اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کا خاتمہ کرنا ہوگا، اور سرمایہ کاروں کی سیکیورٹی کو ہر قیمت پر یقینی بنانا ہوگا۔ اگر ہماری حکومتی پالیسیاں اور انتظامی ڈھانچہ ان صنعتی زونز کو وقت پر تمام سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو سی پیک واقعی پاکستان کے لیے ایک تاریخ ساز 'گیم چینجر' ثابت ہوگا۔ یہ وہ موقع ہے جو تاریخ کسی قوم کو صدیوں میں ایک بار دیتی ہے۔ اگر ہم نے اس موقع سے پورا فائدہ اٹھایا اور صنعتی اصلاحات پر سختی سے عمل پیرا رہے تو پاک چائنا اقتصادی راہداری کی بدولت پاکستان نہ صرف اپنے معاشی بحرانوں سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر لے گا بلکہ ایشیا کے نقشے پر ایک مضبوط، خودمختار اور جدید صنعتی طاقت بن کر ابھرے گا۔