انتخابی جلسے میں شرکا کی مخالفانہ نعرے بازی اور ہاتھا پائی، صدرٹرمپ کو خطاب روکنا پڑا

امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کے شہر کلمسن میں مڈٹرم انتخابات کی مہم کے سلسلے میں منعقدہ جلسے کے دوران بدنظمی اور ہاتھا پائی کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا خطاب کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کلمسن یونیورسٹی کے ‘ٹی ایڈ گیریسن ایرینا’ میں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں ریلی سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران ہال میں موجود کئی مظاہرین نے ان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی, جس پر ٹرمپ کے حامیوں اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی (مکا بازی) ہوگئی-
https://x.com/CBSNews/status/2113057878567166247?s=20
خطاب کے دوران اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب ہال میں موجود ٹرمپ کے ایک حامی اور سیکیورٹی اہلکا روں کیجانب سے ہٹائے جانے والے مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ایک حامی نے مظاہر ین میں سے ایک شخص کو مکا دے مارا،صورتحال کشیدہ ہونے پر سیکیورٹی اہلکاروں نے فوراً مداخلت کی، حملہ آور کو قابو کیا اور مظاہرین کو وہاں سے ہٹا دیا، جس کے بعد جلسہ دوبارہ جاری رہا۔
واقعے کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیج سے منظر کا جائزہ لیتے ہوئے اپنا خطاب روک دیا۔ ٹرمپ نے اسٹیج سے گھونسا مارنے والے اپنے حامی کی تعریف کرتے ہوئے طنزاً کہا ’یہ زبردست تھا، مجھے یہ پسند آیا۔
انہوں نے شرکاء کی خیریت دریافت کی اور پولیس کو ہدایت کی کہ مظاہرین کو باہر منتقل کیا جائے۔





