جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عمل تنویم ،تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

انسانی ذہن ایک پیچیدہ اور حیرت انگیز قوت کا حامل ہے۔ ہمارے خیالات، احساسات، یادداشت اور دوسروں کی باتوں سے متاثر ہونے کی صلاحیت ہماری زندگی اور فیصلوں پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ بعض اوقات کوئی بات، آواز یا خیال ہماری توجہ پر اس قدر غالب آ جاتا ہے کہ ہم اردگرد کی چیزوں سے بے خبر سے ہو جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں ہپنوسس (Hypnosis) کا تصور سامنے آتا ہے، جسے عام زبان میں بعض اوقات مسمریزم یا ذہنی سحر بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم سائنسی اعتبار سے یہ اصطلاحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے ان میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔عملِ تنویم (Hypnosis): وہ ذہنی کیفیت جس میں انسان کی توجہ بہت زیادہ مرکوز ہو جاتی ہے اور وہ تجاویز (Suggestions) کے لیے نسبتاً زیادہ آمادہ ہو سکتا ہے،جبکہ فنِ تنویم (Hypnotism): تنویم یا ہپناسس پیدا کرنے کے طریقہ کار اور اس کے فن کو کہا جاتا ہے۔

…………………………

ہپنوسس ایک ایسی نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان کی توجہ کسی خاص خیال، احساس یا ہدایت پر مرکوز ہو جاتی ہے اور وہ بعض تجاویز یا تلقین کو زیادہ گہرائی سے محسوس کر سکتا ہے۔ اس کیفیت میں بعض افراد کو ذہنی سکون، تخیل میں شدت یا اپنے احساسات پر زیادہ توجہ دینے کا تجربہ ہوتا ہے۔اسے سمجھنے کے لیے ایک عام مثال کافی ہے: کبھی ہم کوئی دلچسپ کتاب پڑھنے یا فلم دیکھنے میں اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ اردگرد کی آوازوں پر توجہ نہیں رہتی۔ یہ لازماً ہپنوسس نہیں، لیکن اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انسانی توجہ کس طرح کسی ایک چیز پر مرکوز ہو سکتی ہے۔

ہپنوسس نہ مکمل نیند ہے اور نہ ہی ذہن پر کسی دوسرے شخص کا مکمل قبضہ۔ اس دوران انسان عموماً کسی نہ کسی حد تک باخبر رہتا ہے۔ سائنسی شواہد اس خیال کی تائید نہیں کرتے کہ ہپنوسس کے ذریعے ہر شخص سے اس کی مرضی کے خلاف کوئی بھی کام کروایا جا سکتا ہے۔

…………………………

ہپنوسس کے تجربے میں کئی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں، جن میں توجہ کا ارتکاز، تخیل، توقعات، ماحول اور ہپنوسس کرنے والے شخص پر اعتماد شامل ہیں۔ جب انسان پُرسکون ماحول میں کسی مخصوص ہدایت یا تصور پر توجہ مرکوز کرتا ہے تو بعض حالات میں وہ اس کیفیت کا تجربہ کر سکتا ہے۔ تاہم ہر شخص کی حساسیت اور ردِعمل مختلف ہوتا ہے۔اس کے علاوہ خوف، ذہنی دباؤ، تنہائی اور جذباتی کمزوری انسان کو دوسروں کے اثرات کے لیے حساس بنا سکتی ہے۔ یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: یہ عوامل لازماً ہپنوسس پیدا نہیں کرتے، لیکن بعض اوقات انسان کو دھوکے، جذباتی دباؤ یا نفسیاتی استحصال کا شکار بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مثلاً اگر کوئی شخص بار بار یہ کہے کہ اس کے پاس غیر معمولی طاقت ہے اور وہ دوسرے انسان کے خیالات جان سکتا ہے، تو خوف یا اندھا اعتماد رکھنے والا فرد اس دعوے سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں معاملہ حقیقی ہپنوسس کے بجائے غلط معلومات، نفسیاتی اثراندازی یا فریب کا بھی ہو سکتا ہے۔آج کے دور میں سوشل میڈیا، اشتہارات، سیاسی تقاریر اور مسلسل دہرائے جانے والے پیغامات بھی انسانی سوچ کو متاثر کرتے ہیں۔ جب کوئی بات بار بار سنائی دے تو بعض اوقات انسان اسے درست سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ محض تکرار کسی بات کے سچ ہونے کی دلیل نہیں۔

……………………

ہپنوسس کے بارے میں عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ کوئی ماہر شخص چند الفاظ، نظروں یا مخصوص حرکات کے ذریعے دوسرے انسان کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کر سکتا ہے۔ فلموں اور ڈراموں نے اس تصور کو مزید مقبول بنایا ہے، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

ہپنوسس بعض افراد کے احساسات، توجہ اور تجربات پر اثر ڈال سکتا ہے، مگر یہ کسی انسان کی مرضی اور شعور کو لازماً ختم نہیں کرتا۔ اس کے باوجود حقیقی زندگی میں بعض لوگ خوف، دھمکی، جذباتی دباؤ اور دھوکے کے ذریعے دوسروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ہر غیر معمولی تجربے کو ہپنوسس قرار دینا درست نہیں؛ اس کے اصل سبب کو سمجھنا زیادہ اہم ہے۔

……………………………………

ہپنوسس بذاتِ خود کوئی ایسی بیماری نہیں جس سے ہر حال میں بچنا ضروری ہو۔ تاہم ذہنی اثراندازی، دھوکے اور نفسیاتی استحصال سے محفوظ رہنے کے لیے چند بنیادی اصول مفید ہیں۔…………سب سے پہلے، تنقیدی سوچ اپنائیں۔ کسی شخص کے دعوے کو صرف اس کی پُراعتماد گفتگو یا شہرت کی بنیاد پر قبول نہ کریں۔ معلومات کی تصدیق کریں اور اہم فیصلے جذبات کے بجائے حقائق کی روشنی میں کریں۔…………اپنی ذاتی حدود کا احترام کریں۔ اگر کوئی شخص آپ کو خوف زدہ کرکے اپنے تابع کرنے، مالی فائدہ اٹھانے یا خاندان اور دوستوں سے دور کرنے کی کوشش کرے تو محتاط ہو جائیں۔ ضرورت پڑنے پر کسی قابلِ اعتماد فرد سے مشورہ لیں۔…………ذہنی صحت کا خیال رکھیں۔ مناسب نیند، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، گہری سانسوں کی مشق اور متوازن طرزِ زندگی ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب انسان پریشان یا خوف زدہ ہو تو اہم فیصلے کرنے سے پہلے خود کو سنبھالنے کا وقت دینا مفید ہوتا ہے۔…………معلوماتی آگاہی پیدا کریں۔ انٹرنیٹ پر موجود ہر ویڈیو یا دعوے کو سائنسی حقیقت نہ سمجھیں۔ خصوصاً ایسے افراد سے محتاط رہیں جو ذہن پر مکمل قبضے، غیبی طاقت یا ہر مسئلے کے یقینی حل کا دعویٰ کرتے ہیں۔

…………………………

چونکہ ہپنوسس بذاتِ خود بیماری نہیں، اس لیے عام طور پر اس کے لیے کسی مخصوص علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ البتہ تربیت یافتہ ماہرین بعض طبی اور نفسیاتی مسائل، مثلاً درد کے انتظام اور کچھ اقسام کے اضطراب میں ہپنوتھراپی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے نتائج ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتے اور یہ ہر بیماری کا متبادل علاج نہیں ہے۔اگر کسی فرد کو مسلسل یہ محسوس ہو کہ کوئی اس کے ذہن کو قابو کر رہا ہے، اسے شدید خوف لاحق ہو یا اس کے خیالات اور روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہو، تو اسے مستند ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا چاہیے۔ اس کی پریشانی کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایسے افراد سے بھی بچنا چاہیے جو بھاری رقم کے عوض ذہنی یا پراسرار اثرات ختم کرنے کی یقینی ضمانت دیتے ہیں۔

………………………………

ہپنوسس انسانی ذہن کی ایک دلچسپ نفسیاتی کیفیت ہے، مگر اس کے بارے میں پھیلی ہوئی ہر بات سائنسی حقیقت نہیں۔ اس کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہپنوسس، عام نفسیاتی اثراندازی اور دھوکے کے درمیان فرق کریں۔انسانی ذہن پر دوسروں کی باتوں، ماحول اور جذبات کا اثر پڑنا ایک فطری بات ہے۔ اصل دانش مندی یہ ہے کہ انسان اپنی سوچ کو سوال کرنے، حقائق کی جانچ کرنے اور مناسب فیصلہ کرنے کے قابل رکھے۔ سائنسی شعور، ذہنی صحت کی حفاظت اور حقیقت پسندانہ سوچ ہی وہ بنیادی ذرائع ہیں جن کے ذریعے ہم غیر ضروری خوف، غلط فہمیوں اور نفسیاتی استحصال سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔