اسرائیلی اداکارہ کی فلسطینی زمینوں پر قبضے اور یہودی بستیوں کی توسیع پر کڑی تنقید

اسرائیلی اداکارہ چیلی گولڈن برگ نے فلسطینی زمینوں پر قبضے، یہودی بستیوں کی توسیع اور اسرائیلی معاشرے میں مذہبی اثر و رسوخ کے بڑھنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسرائیلی ہونے پر شرمندگی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 13 کو دیے گئے انٹرویو کی ایک مختصر ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں اداکارہ کو اسرائیل کی موجودہ صورتِ حال پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق چیلی گولڈن برگ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کی گفتگو براہِ راست نشر ہو رہی ہے۔ وہ یہ سمجھ رہی تھیں کہ پروگرام میں وقفہ ہے اور کیمرے بند ہیں۔انٹرویو کا آغاز اداکارہ کے فنی سفر اور اسرائیل کی ثقافتی زندگی میں ان کی خدمات کے حوالے سے ہوا، تاہم بعد ازاں گفتگو اسرائیل فلسطین تنازع اور اسرائیلی معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کی جانب مڑ گئی۔اسرائیل سے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے چیلی گولڈن برگ نے کہا کہ وہ خود کو محبِ وطن سمجھتی ہیں اور اپنے ملک سے محبت کرتی ہیں، لیکن اب انہیں اسرائیلی ہونے پر پہلے جیسا فخر محسوس نہیں ہوتا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ واقعی چاہتی ہیں کہ دوبارہ اسرائیلی ہونے پر خوشی اور فخر محسوس کر سکیں، تاہم موجودہ صورتِ حال نے ان کے احساسات کو بدل دیا ہے۔انہوں نے اسرائیلی معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے فلسطینی زمینوں پر قبضے، یہودی بستیوں کی توسیع، مذہبی اثر و رسوخ میں اضافے، یہودی انتہا پسندی اور تکبر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔گفتگو نے اس وقت غیر متوقع رخ اختیار کیا جب پروگرام کے میزبانوں نے اداکارہ کو بتایا کہ ان کی گفتگو براہِ راست نشر ہو چکی ہے۔ یہ سن کر چیلی گولڈن برگ واضح طور پر پریشان ہو گئیں۔
انہوں نے میزبانوں سے سوال کیا کہ انہیں یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ پروگرام کی نشریات جاری تھیں۔ اداکارہ نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کیا ان کی یہ گفتگو براہِ راست نشر ہو رہی تھی؟ یہ درست نہیں ہے۔چیلی گولڈن برگ نے مزید کہا کہ وہ سمجھ رہی تھیں کہ پروگرام میں وقفہ ہے اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ کیمرے بدستور چل رہے ہیں۔ اس صورتِ حال پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں۔
مزید پڑھیں





