پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فرانس میں احتجاج :کروڑوں یورو کا نقصان، ہرمیز اور لوئی ویٹوں جیسے لگژری اسٹورز لوٹ لیے گئے


فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور اسکولوں سمیت عوامی خدمات کی خرابی کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد احتجاج اور ہنگامہ آرائی سے کروڑوں یورو کا مالی نقصان اور جانی نقصان ہوا،جبکہ تقریباﹰ دو ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے-


پیرس، مارسیئے اور بورڈو سمیت کئی شہروں میں دکانوں اور تجارتی مراکز میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی،صرف بورڈو شہر میں تقریباً 100 دکانوں کو لوٹا گیا، جبکہ فرانسیسی ریٹیل کمپنی 'کیریفور' (Carrefour) کی 50 دکانوں کو نقصان پہنچا جن میں سے 20 میں لوٹ مار ہوئی، مارسیل اور لِیل کے سٹی ہالز اور بورڈو میں علاقائی گورنر کی رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا،مجموعی طور پر ملک کو پہنچنے والے مالی نقصان کا تخمینہ کروڑوں یورو لگایا گیا ہے-


جنوب مغربی فرانس کے شہر لیموجز میں 143 سال پرانے ٹاؤن ہال کو آگ لگادی گئی۔ شہر کے میئر گیلوم گیرن نے اس واقعے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کی مذمت کرتے ہوئے عمارت کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔


مظاہرین نے ایپل، ہرمیز اور لوئی ویٹوں سمیت معروف لگژری برانڈز کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کے بعد قیمتی سامان لوٹ لیا۔ مختلف شہروں میں سپر مارکیٹوں، کپڑوں کی دکانوں، فارمیسیوں اور سرکاری عمارتو ں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ گاڑیوں کو آگ لگانے اور پولیس پر حملوں کے واقعات بھی سامنے آئے۔


فرانسیسی اخبار ’لے پیرزیاں‘ کے مطابق پیرس، مارسیل، بورڈو اور لِل سمیت متعدد شہروں میں نقاب پوش افراد نے دکانوں کے شیشے توڑ کر سامان لوٹا۔ بورڈو میں ایپل اور لوئی ویٹوں کے اسٹورز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ لِل میں ایپل کی ایک اور دکان لوٹ لی گئی۔


فرانسیسی خبر رساں ادارے ’ماریٹیما‘ کے مطابق مارسیل میں ہجوم نے ہرمیز کے بوتیک میں بھی توڑ پھوڑ کی۔


سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں نقاب پوش افراد کو دکانوں میں داخل ہوتے، قیمتی اشیا اٹھاتے اور وہاں سے فرار ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔


احتجاج کے دوران صرف لگژری اسٹورز ہی نہیں بلکہ سپر مارکیٹوں، ملبوسات کی دکانوں اور فارمیسیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ مختلف شہروں میں سرکاری املاک پر حملے کیے گئے، جبکہ لیون، مارسیل اور لیموج میں بلدیاتی عمارتوں سمیت تاریخی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ متعدد گاڑیوں کو آگ لگانے کے علاوہ سرکاری دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔


فرانس کے وزیر داخلہ لاراں نونیز کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نے شرکت کی۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق پولیس نے تقریباً 1200 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ مزدور یونین سی جی ٹی نے مظاہرین کی تعداد 8 لاکھ کے لگ بھگ بتائی۔


پولیس یونین یو این ایس اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مختلف مقامات پر ہجوم کو لاٹھیوں اور اینٹوں سے پولیس کی گاڑیوں پر حملے کرتے دیکھا گیا۔


پولیس یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک بھر میں اہلکاروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ان پر پتھراؤ کیا جارہا ہے اور انہیں گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں جیسی صورت حال کا سامنا ہے۔ یونین نے خبردار کیا کہ یہ صورت حال غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی۔


فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو انتشار پھیلانے والوں کے خلاف متحد رہنا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر اداروں کو کمزور کرنے اور پُرامن انداز میں مطالبات پیش کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔


حالات خراب ہوتے دیکھ کر فرانسیسی صدر میکروں نے اتوار کو ٹیلی ویژن پر ملک سے خطاب کیا۔ انہوں نے تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر ناراضگی ظاہر کی۔ میکروں نے کہا کہ کوئی بھی چیز ان حرکتوں کو درست ثابت نہیں کر سکتی اور نہ ہی ان کے لیے کوئی بہانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فرانس کے شہری اپنے ہی ملک کے خلاف ایسی حرکتیں کیسے کر سکتے ہیں۔ میکروں نے تسلیم کیا کہ پُرامن مظاہرہ کرنے والے لوگوں کے بعض مطالبات جائز ہیں۔ مہنگائی اور عوامی خدمات سے متعلق مسائل کو لے کر لوگوں میں ناراضگی ہے۔


تاہم، انہوں نے کہا کہ پُرامن مظاہرین کے مطالبات کو تشدد کرنے والوں کی حرکتوں سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ میکروں نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان نہیں کیا، البتہ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر مقامی انتظامیہ کو بعض مظاہروں پر پابندی لگانے کا اختیار دیا جائے گا۔ اس کا مقصد سرکاری عمارتوں، دکانوں اور کاروبار کو نقصان سے بچانا ہے۔


کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہفتہ کے بعد اتوار کو بھی پیرس اور مارسیے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پیرس کے پلاز دی لا ریپبلک علاقے میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ اس دوران مظاہرین نے سائیکلوں کے ڈھیر میں آگ لگا دی۔ پولیس نے کئی مقامات پر دکانوں میں لوٹ مار روکنے کے لیے کارروائی کی۔ ہفتہ کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران مہنگی اشیا فروخت کرنے والی دکانوں اور سپر مارکیٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تشدد کے بعد کئی شہروں میں صفائی اور نقصان کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا۔


بتایا جا رہا ہے کہ وسطی فرانس کے شہر لیموج میں آگ لگنے سے تاریخی ٹاؤن ہال کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ آگ کے باعث عمارت کا گھڑی والا مینار منہدم ہو گیا۔ شہر کے میئر گیوم گیراں نے کہا کہ عمارت کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے وقت عمارت کے اندر موجود لوگوں کو اپنی جان کا خوف تھا۔ اس درمیان میئر نے خبردار کیا کہ اگر شہر کو مرمت کے لیے ضروری سرکاری امداد نہیں ملی تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر غور کر سکتے ہیں۔ ٹاؤن ہال میں ہونے والی تباہی نے لوگوں کو 2019 میں پیرس کے نوتردام کیتھیڈرل میں لگنے والی بھیانک آگ کی یاد دلا دی۔


فرانس میں جاری تشدد کے درمیان سیاسی رہنماؤں نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کی لیڈر مارین لے پین نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کوئی نظریہ نہیں ہے۔ اس توڑ پھوڑ کو اظہار کا ذریعہ نہیں مانا جا سکتا۔ فرانس کا مستقبل افراتفری کے سہارے نہیں بنایا جا سکتا۔ دوسری جانب بائیں بازو کے لیڈر ژاں لوک میلینشوں نے میکروں سے احتجاج کرنے والے ہائی اسکول کے طلبا کے مطالبات پر توجہ دینے کو کہا۔


وزیر اقتصادیات رولاں لیسکیور نے تشدد سے متاثرہ کاروباریوں کو سرکاری امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ نقصان کے ذمہ دار لوگوں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے گا اور ان سے نقصان کی تلافی بھی کرائی جائے گی۔


تشدد کا اثر کاروبار پر بہت زیادہ پڑا ہے۔ فرانس کی ریٹیل کمپنی کیریفور کے سربراہ الیگزینڈر بومپارڈ نے بتایا کہ کمپنی کے 50 اسٹورز کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے 20 اسٹورز میں لوٹ مار ہوئی۔ نقصان کا تخمینہ کئی کروڑ یورو لگایا گیا ہے۔ بہرحال، فرانس میں جاری تشدد نے میکروں حکومت کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ حکومت کو ایک طرف مہنگائی اور عوامی خدمات کے حوالے سے لوگوں کی ناراضگی دور کرنی ہے تو دوسری طرف تشدد اور توڑ پھوڑ پر قابو پانا ہے۔ میکروں کی مدت صدارت 2027 میں ختم ہو رہی ہے۔ ایسے میں بڑھتی ہوئی سماجی ناراضگی اور معاشی دباؤ ان کی حکومت کے لیے اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔


پیرس سمیت فرانس کے 3 بڑے شہروں میں فوج طلب کر لی گئی-


سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پیرس سمیت فرانس کے 3 بڑے شہروں میں فوج طلب کر لی ہے تاہم سرکاری سطح پر اور عالمی میڈیا کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی گئی،تاہم صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت نے رہن سہن کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور طلبہ کے وسیع پیمانے پر ہونے والے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے پولیس اور ملٹری پولیس (جینڈارمری) کو تعینات کیا ہے-


صدر میکرون نے ہنگامی حالت یا کرفیو نافذ کرنے سے گریز کیا؛ اس کے بجائے، انہوں نے قانون نافذ کر نے والے اداروں اور مقامی حکام پر انحصار کیا تاکہ ضرورت پڑنے پر بعض مظاہروں پر پابندی لگائی جا سکے۔