پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آج کے ذہنی اور جسمانی معذور نوجوان،تحریر: کلثوم افتخار

نقطہ نظر

معذوری کیا ہے ؟ جب کوئی انسان اپنے معمول اور قدرتی نظام زندگی کو عام انسان کی طرح سر انجام دینے کی سکت سے محروم ہو تو یہ ذہنی یا جسمانی معذوری کہلاتی ہے ۔ بہت سے بچے پیدائشی طور پر عام بچوں کے مقابلے میں بولنا ،چلنا ، سننا یا دیکھنا جیسی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں لیکن آج کے ترقی یافتہ دور اور سائنسی طریقہ علاج کی بدولت یہ بچے بہت سی محرومیوں کے باوجود بہترین طرز زندگی گزار رہے ہیں اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔ ۔

لیکن۔ ان بچوں کا کیا ؟ جو تمام صلاحیتوں کے ہوتے ہوئے بھی جسمانی اور ذہنی طور پر معذور ہیں۔ دماغ تو ہے لیکن اس کا استعمال معلوم نہیں ۔ ٹانگیں ،بازو ،آنکھیں یعنی بینائی اور سماعت بھی ہے لیکن سننے ، بولنے ، چلنے ،جاگنے ،اٹھنے بیٹھنے کا درست طریقہ معلوم نہیں۔ چل پھر سکتے ہیں لیکن ذہنی طور پر دھند کی کیفیت کا شکار نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جوکسی ان دیکھیے ان سنے ان کہے مسئلوں کا شکار ہیں کوئ تو ہو جو ان کو ان کی نظر سے سمجھے پرکھے اور ان کی رہنمائی کرے۔

بیٹا بڑا ہو کے ڈاکٹر یا انجینیئر بنے گا اور بیٹی بھی ڈاکٹر انجینیئر ہی بنے گی اس کے علاوہ کوئی شعبہ ہے یا اختیار کرنے کا نہ ان کو حق دیا جاتا ہے اور نہ ان کی سنی جاتی ہے۔ معاشرے کے خود ساختہ اصولوں نے ان ذہنی طور پر مفلوج نوجوانوں کو جسمانی طور پر بھی مفلوج کر دیا ہے جسمانی ورزش کی کمی، کھیل کود کے میدانوں کا فقدان اور کھیلوں کو صحت مند جسمانی اور ذہنی سرگرمی کا درجہ دینے کی روایت اہستہ اہستہ مفقود ہوتی چلی گئی ہے اور اب ان نوجوانوں کے پاس سوائے موبائل لیپ ٹاپ اور ایک ہی کمرے میں ایک ہی نشست پر گھنٹوں بیٹھے رہنے کے علاوہ کوئی مقصد حیات نہیں رہ گیا۔

انہوں نے کہا جی دو دن بعد بتائیں گے اب دو دن تو گزر گئے ہیں ۔

بیٹا تم صرف پڑھا کرو باقی سب ہم دیکھ لیں گیں۔ باقی سب ہم کر لیں گیں۔ یہ وہ جملے ہیں جو والدین کی اکثریت اپنے بچوں سے کہتی چلی ارہی ہے


اور یہ کہتے کہتے ان کی زندگی کے کتنے خوبصورت پل والدین نے کھو دیے کتنے اہم اسباق والدین ان کو نہیں دے سکے اور اس بات کا اندازہ ہماری 1990 سے لے کر اج تک کی نسل جو والدین بنی نہیں سمجھ سکی والدین اپنی اپنی خواہشات کو اولاد کے ذریعے پورا کرنے لگ گئے ۔ والدین نے اولاد سے پوچھنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ بیٹا آپ کیا چاہتے ہو۔

پھر ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس قدر تبدیلیاں تیزی سے رونما ہوئیں کہ اس نسل کے لوگ ان رونما ہوتی ہوئی تبدیلیوں کو سمجھنے سے ایک حد تک قاصر ہی رہ گئے جنہوں نے خود کو بہتری کی طرف گامزن کیا انہوں نے ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کی اور بچوں اور بحیثیت والدین اپنے درمیان بہترین رابطہ کار قائم کر لیا اور وہ والدین جو اس ٹیکنالوجی کی دنیا میں مار کھا گئے معاشرے کے جدت پسندی کی طرف بڑھتے ہوئے رجحانات کو سمجھنے سے قاصر رہے جدید دور کی دنیا میں بھی انہوں نے صرف پیسہ کمانا ہی سیکھا اور بچوں کے نظریات اور جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنے میں لاپرواہی برتی اج کافی حد تک پریشان دکھائی دیتے ہیں


اگر گھر میں جب کبھی مہمان آئے تو کہا، تم کمرے میں جاؤ، تمہارا امتحان ہے۔ ٹیسٹ ہے کسی ذمہ داری میں ہاتھ بٹانا چاہا تو کہا، تم اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔ تم کیوں ایسے کاموں میں الجھ رہے ہو یہ بیٹا آپ کے کرنے کے کام تو نہیں ہیں۔ میں ہوں نا ۔ میں برتن دھو لوں گی بیٹی تم صرف پڑھائ کرو وقت ضائع نہ کرو ۔ ہم نے ہاتھ سے کام کرنے محنت کرنے کو بچوں کو عار محسوس کروانا شروع کر دیا اور نتیجہ ہمارے سامنے آج ہمارے نوجوان صفائی ستھرائی کرنا ۔ کپڑے دھونا۔ برتن دھونے کو ماسیوں والا کام کہ کرگھٹیاسمجھتے ہیں ۔ لڑکے اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی باہر کسی کو پیسے دے کر کروانا پسند کرتے ہیں اپنا بستر سمیٹنے کی عادت بھی ہم نے ان سے چھین لی محنت طلبی کی عادت ختم کرکے آج کاہل ، سست، لاچار ، ذہنی مریض پیدا کرکے خوش ہوگئے ۔ ایک میٹر پیدل چلنا بچوں کو ناممکن لگتا ہے ۔ اور پھر ہم خوش ہیں کہ ہم نے بڑی کامیاب نسل نو کو پروان چڑھایا ہے کسی بھی معاملے میں اگر بچوں کے رائے کا اظہار کیا تو کہا، ابھی تمہیں ان باتوں کی سمجھ نہیں ہے یہ کوئ عمر ہے تمہاری یہ باتیں پوچھنے کی ہمت بھول جاتے ہیں کہ محمد بن قاسم نے سترہ برس کی عمر میں سندھ فتح کر لیا ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی نے دس برس کی عمر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گھر کا پہرا دیا تھااور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب چھوٹے چھوٹے بچوں نے اپنی زندگیاں اسلام کے لیے وقف کر دیں اور ہم اپنے بچوں کو کہتے ہیں تم ہماری عمر ابھی نہیں ہے کہ تم یہ بات کر سکو یا اپنی کسی رائے کا اظہار کر سکو ابھی تم صرف پڑھائی کرو بحیثیت والدین کاش ہم یہ سمجھ سکیں یہ ہم انہیں زندگی کا کون سا سبق دے رہے ہیں جس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں اور ہم ذہنی طور پر صرف معذور نسل ہی پیدا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ کوئی سوال پوچھا تو کہا، یہ تمہارے نصاب میں نہیں، اپنے کام کی بات کرو۔۔ ہر کام تمہارے کرنے کا نہیں ہے

پھر ایک دن اس کی تعلیم مکمل ہوئی ڈگری ہاتھ میں آئی اور ہم نے اس بچے سے مطالبہ کیا کما کر لاؤ ، اور ہم نے اچانک سامنے پوری زندگی رکھ دی ۔ اس بچے کو ذہنی طور پر عائلی زندگی کے مسائل سے متعلق اگاہی بھی نہ اس کو بلوغت کے مسائل سکھائے نہ اس کو معاشرتی اداب سکھائے نہ اس کو حرام اور حلال کا سبب دیا نہ اس کو اچھا باپ اچھا شوہر اور اچھا بیٹا بنانا سکھایا اور پھر ہم نے اس سے امیدیں رکھنا شروع کر دیں اس سے توقعات لگا لیں کہ اب یہ عملی زندگی میں ایک اچھا باپ اچھا شوہر اور سب سے پہلے اچھا بیٹا بن کر دکھائے گا اور ہمارے بڑھاپے کا سہارا بن جائے گا اور جب وہ ان تمام باتوں میں ناکام ہو گیا تو ہم نے اس پر ایک ٹھپہ لگا دیا ہم نے اس کو نافرمان اولاد کہنا شروع کر دیا ہم نے یہ اعلان کر دیا کہ یہ تو اس معاشرے میں رہنے کے قابل ہی نہیں ہے ہم نے کہیں بھی اپنی غلطی اور اپنا محاسبہ نہ کیا کیونکہ ہم تو اپنی خواہشوں کے بے لگام گھوڑے کے پیچھے دوڑتے چلے جا رہے تھے اپنی خواہشوں کی تکمیل کو ہم نے اولاد کی خواہشات کی تکمیل کا نام دے دیا ایک سال کے بچے کو کوئی بھی کپڑا پہنا دو اسے یہ نہیں معلوم پڑے گا یہ کون سے برینڈ کا ہے یا کون سی اعلی کمپنی کا ہے اس بچے کی ضرورت صرف اتنی ہے کہ گرم سرد موسم کے حساب سے اس کو کپڑا پہنایا جائے یہ خواہش تو ہماری اپنی تھی جو ہمارے دل کے نہال خانوں میں کہیں دفن تھی اور ہم نے اپنی مسائل کو پورا کرنے کے لیے ایک دن کے بچے پر بھی طبع ازمائی کرنا شروع کر دی اور اسے ہماری خواہشات کا عملی نمونہ بنا کر اس پر صرف خواہشات کا بوجھ لادتے چلے گئے۔


ذمہ داریاں بچے کے سپر د کر کے ہم نے ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد اس کو کہنا شروع کر دیا ہے کہ اب جاؤ جا کر لوگوں سے اپنے مسئلے خود طے کرو

اپنے فیصلے بھی خود ہی کیا کرو۔ ذمہ داریاں بھی خود ہی اٹھاؤ کرو ۔ لوگوں کی نیتں بھی جانو اور پہچانو۔ اپنے غصے کو بھی قابو میں رکھا کرو جبکہ ہم نے بطور والدین اس کو کچھ نہ سکھایا ۔ ناکامی بھی برداشت کرو۔ اپنا راستہ بھی تلاش کرو۔ اور اپنی زندگی کی جنگ تمہاری جنگ ہے جاؤ لڑو اور لڑتے جاؤ ہار جاؤ تو ہم سے کبھی مشورہ نہ کرو ۔اخر اتنے سال سکول کالج یونیورسٹی میں جا کر تم نے سیکھا ہی کیا ہے قطع نظر اس کے سکول کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کا تعلق صرف ایک ڈگری اور کاغذ کے پرزے سے ہی ہے شخصیت سازی فیصلہ سازی اور مضبوط کردار کا اس سے کچھ تعلق نہیں ۔

بطور والدین ہم نے اس کو سکول کالج اور یونیورسٹی کی چکی میں پسنے کے لیے تو چھوڑ دیا اور ہمیں اس کا نتیجہ صرف 80 فیصد سے اوپر چاہیے کبھی یہ سوچا کہ مشکل حالات میں وہ فیصلہ کس طرح کرے گا اور کبھی یہ اندازہ لگایا کہ زندگی کے امتحانات وہ کس طرح پاس کرے گا


وہ معصوم بچہ جو نوجوان ہے بیس پچیس سال کی عمر کو پہنچ گیا ہے ہماری طرف دیکھتا ہی رہ گیا ہے کہ کیا والدین کو صرف میری ڈگری یا ایک صفحے سے غرض ہی تھی کہ معاشرے میں وہ اپنا سر فخر سے بلند کر سکیں

والدین کاسر فخر سے بلند تو ہوگیا لیکن اس نوجوان جسے ہم جین زی یعنی نسل نو کہتے ہیں وہ روزگار کی تلاش میں اپنی نوجوانی کو بڑھاپے کی طرح گزارنے پر مجبور ہو گیا ۔

کاش والدین نے پڑھائ کااس قدر بوجھ نہ لادا ہوتا ۔ اور کاش اسکی تعلیم پر بے دریغ پیسہ خرچ کرنے کی بجائے ساتھ کوئ ہنر بھی سکھا دیا ہوتا کہ وہ اپنی ذاتی ضروریات کی پوری کرنے کے قابل ہو سکتا ۔

ڈگری نوکری کی ضمانت ہے بھی اور نہیں بھی۔ لیکن کوئ کوئ نہ کوئ ہنر ، مہارت اسکو جینے کا ڈھنگ سکھا دے گا اور وہ وا لدین کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے ب بھی جائے گا ۔


جس بچے کو ہم نے برسوں یہہی کہا تھا کہ تم صرف پڑھای کرو آج اسی سے پوچھ رہے ہیں کہ تمہیں پڑھائی کے علاوہ کیا کچھ اور اتا ہے

ہم نے تعلیم کا مطلب ڈگری تک محدود کر دیا ہے تربیت کے لیے جگہ ہی نہیں رکھی گئی ہے ۔ اسکول، کالج، یونیورسٹی، امتحان، نمبر، ڈگری سب مرحلہ وار بچے اور والدین کی زندگی میں داخل ہوتے رہتے ہیں اور گزرتے رہتے ہیں اور والدین یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ بچہ انے والی زندگی کے لیے تیار ہو رہا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔

آج نوجوان پریشانی کا شکار اس لیے بھی نظر اتا ہے کہ ذہنی کوفت کو نکالنے کے لیے جسمانی ورزشوں کا کوئی انتظام نہیں نہ کھیل کے میدان ہے نہ والدین نے بچوں کو کبھی کھیل کے میدان میں جانے کی اجازت دی یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اچھا کھیل کے میدان کا کھلاڑی اپنی زندگی کو ایک عام بچے کی نسبت بہت ہی زبردست طریقے سے گزار سکتا ہے کیونکہ اس میں صبر و تحمل اور برداشت کا مادہ کافی مقدار میں ہوتا ہے۔

بچوں کو اپنی خواہشات پوری کرنے کے پیچھے لگا دینا کہاں کی عقلمندی ہے اگر ان کا سکول یا کالج شروع ہونے سے پہلے ان کی دلچسپیوں کو مد نظر رکھا جائے یا معجزہ دور کے تقاضوں کے مطابق انے والے مہارتوں اور ہنر کو سامنے رکھا جائے تو روزگار کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے معاشی خود مختاری کے لیے کوئی نہ کوئی ہنر سیکھنا بہت ضروری ہے ۔ ان کے پاس صلاحیت ہوتی ہے، خواہش بھی ہوتی ہے، مگر اسے استعمال کرنے کا اعتماد اور طریقہ مفقود ہے

بچوں نے اپنی قیمتی زندگی کے قیمتی سال سمیت اپنی ذہنی صلاحیتوں کااستعمال کیا اور والدین نے

فیسیں دیں۔ اپنی ضرورتیں روکیں۔ بچوں نے صبحیں، شامیں، نیندیں اور کھیل کے کئی موقعے قربان کیے۔ اتنی محنت کے بعد کیا حاصل ۔ کیاوصول۔ کہیں انجانے میں بچوں سے اس وقت کے تحت چلتے چلتے بچوں کی خواہشات کو قربان تو نہیں کر دیا انجانے میں کچھ اچھا اور بہترین کرتے کرتے تھوڑا بہت غلط تو نہیں ہو گیا ہے ۔ یا نوجوان زندگی گزارنے کے لیے کس قدر تیار ہے کیا وہ انے والے وقت کے ساتھ چل سکتے ہیں کیا وہ انے والے وقت اور دور کے تقاضوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کے چل سکتے ہیں کہ یہ وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے تو نہیں رہ رہے یہ وہ سوال ہے جو ہم سے جواب مانگتے ہیں بطور والدین ہماری محنت ہماری قربانیاں ہمارا خلوص اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے لیکن کیا ہم نے اس خلوص کا استعمال درست کیا اور بچوں کو مستقبل کی تیاری کروائی

انسان اندر سے کتنا تیار ہے، یہ سوال ہم خود سے اور اپنے بچوں سے کب پوچھنا شروع کریں گیں ؟


دنیا بدل رہی ہے۔اور بدل چکی ہے انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، کام کرنے کے طریقے اور رابطے کے ذرائع اور طور طریقے بدل رہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو نئی چیزیں سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بڑھانے اور اس درجہ پر سخت محنت کی ضرورت ہے۔


ابھی بھی ہم بطور والدین مہمانوں کے گھر تشریف لانے پر بچوں کو کسی کمرے میں بند کر کے قید کر دیں گے اور یہ حکم صادر کریں گے کہ تم صرف پڑھائی کرو مہمانوں سے ملنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وقت کاضیا ع ہو رہا ہے بلکہ بچے کی سوچنے سمجھنے اور گفتگو کرنے کی کرداری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔۔

اگر وہ کچھ وقت کھیل کے میدان میں ورزش کرنے چلا جائے گا تو اس سے وہ خراب نہیں ہو جائے گا


اپنے اور اپنے بچے کے درمیان صرف زندگی پر بات کیجئے زندگی گزارنے کی بنیادی مہارتوں پر گفتگو کیجئے مسئلہ حل ہو جائے گا۔

کیا ہم نے بچے کو گفتگو کا طور طریقہ سکھایا اختلاف رائے سکھائی اور بحث مباحثے میں اواز کے اتار چڑھاؤ کا سلیقہ طریقہ بتایا کیا وہ معاشرے میں بس سٹاپ پر جا کر اپنی باری کا انتظار کر سکتا ہے کیا اس میں اتنا صبر و تحمل ہے کہ اگر اس کی گاڑی چھوٹ جائے تو وہ دوسری گاڑی کے آنے کا انتظار سکون اور خاموشی سے کر سکتا ہے کیا وہ مختلف معاملات میں پرسکون ہو کر فیصلہ کر سکتا ہے یا وہ ذہنی طور پر معذور ہی رہ گیا ہے کیا اس کو اپنا بستر طے کرنا اتا ہے کیا وہ اپنے کپڑے ضرورت پڑنے پر خود دھو سکتا ہے کیا وہ اپنے لیے ضرورت پڑنے پر کچھ پکا سکتا ہے۔ کیا وہ گھریلو امور میں اپنی والدہ کی مدد کرنے کا اہل ہے کیا مہمانوں کے انے پر وہ کسی خاص مضمون میں اچھے نمبر نہ لینے پر ان کا سامنا بہادری سے کر سکتا ہے کیا وہ اپنی ناکامی کی وجوہات اپنے اندر تلاش کر سکتا ہے کیا وہ اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ہی تھوپنا سیکھ چکا ہے

وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی کس قدر مدد کرتا ہے یا اچھے نمبر لانے کی خوشی میں اس کو اتنا فخر اور غرور دیا گیا ہے کہ وہ اس مقام سے نیچے آ ہی نہیں سکتا کیا وہ ضرورت پڑنے پر والد کی سائیکل چلا کر بازار سے خریداری کا سامان لا سکتا ہے اور اس پر وہ فخر بھی محسوس کر سکتا ہے کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے لیے مفید رکن ثابت ہو رہا ہے کیا اس کو یہ معلوم ہے کہ بجٹ کیسے بنانا ہے اور بوقت ضرورت اپنے بجٹ کے مطابق اپنی بچت بھی کر سکتا ہے ۔

یا پھر وہ ایک ذہنی اور جسمانی معذور ی کا شکار نوجوان ہے جو بستر سے اٹھا اور بستر پر ہی اسکو بیٹھ کر چائے پانی ناشتہ کھانا کھانے کی اتنی عادت ڈال دی گئی ہے کہ وہ پڑھائ کی آڑ میں سست، کاہل اور نکما ںچہ بن چکا ہے۔

ذہنی اور جسمانی معذور نوجوان آج جابجا دکھائی دے رہے ہیں والد اور والدہ گھر کا،سامان تک اگر اسے اٹھانے نہیں دے رہے تو کل وہ بڑھاپے میں والدین کا کیا سہارا بنے گا ۔ زندگی کیسے گزارے گا ۔

دودھ دہی کی دکان اور تندور کی دکان پر جاتے ہوئے اگر آپ کا بچہ پیدل نہیں بن سکتا تو یقین مانیے آپ نے اپنی انے والی نسلوں کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور نسل پیدا کرتی ہے اور اگلے انے والے 10 سالوں میں ہی آپ کا گھر جنت بننے کی بجائے دوزخ کا نمونہ پیش کر رہا ہوگا اپنے کندھوں سے کچھ ذمہ داریوں کا بوجھ اتار کر اہستہ اہستہ اپنے بچوں پر لادنا شروع کر دیجئے اس سے اپ کے کندھوں کا بوجھ تو ہلکا ہوگا ہی لیکن آپ تربیت کا وہ معیار حاصل کر پائیں گے جس سے کم از کم اپ کے گھر میں کوئی ذہنی اور جسمانی معذور لڑکا یا لڑکی موجود نہیں ہوگی ذمہ داریوں کا تعین کرنا سیکھیں اور ساتھ ساتھ ذمہ داریوں کا تعین کروانا بھی سیکھیں ۔ حدود مقرر کرنا سیکھیں وہ بچہ یا بچی جو کم از کم اپنے کمرے کا فرنیچر اور اپنا بستر یا کپڑوں کی الماری درست انداز میں تیار نہیں کر سکتے وہ بھلا زندگی کے لیے کیا تیار ہوں گے؟

کچھ وقت کے لیے گھر سے غیر حاضر ہو جایا کریں اور بچوں کو متعین کردہ اصولوں کے اندر رہ کر گھر کو سنبھالنا سکھائیں گھر معاشرے کی ایک چھوٹی سی اکائی ہے اور یہیں سے بچوں کی معاشرت اور معیشت کے اصول نشو و نما پائیں گیں۔

ہمیشہ ہر بات کے لیے بچوں کو قصوروار ٹھہرانا ختم کر دیں اگر اپ نے اپنے بچے کو 50 روپے دے کر خریداری کرنے کے اصول بتائے ہوتے تو وہ ایک کامیاب تاجر بن سکتا تھا اگر والدہ نے بچے کو اپنا بستر تہ کرنا سکھایا ہوتا تو آج آپ بہت پرسکون ہوتے۔

یہ آپ کی مرضی ہے کہ بچے کو سکھائیں کہ وہ 500 روپے کو پانچ دنوں میں ، پانچ گھنٹوں میں یا پانچ منٹ میں کیسے خرچ کرتا ہے؟

ذہنی اور جسمانی معذور نسل کی اب اس معاشرے کو مزید ضرورت نہیں ہے جو صرف معاشرے پر بوجھ ہی ہو بچوں کی تربیت اور تعلیم کے اصولوں کو مزید بہتر کریں تاکہ ہمارے کھیل کے میدان بھی اباد رہے اور اس معاشرے میں مسجدیں بھی آباد رہ سکیں۔

متوازن زندگی کے اصول سکھانا اج کے دور کی انتہائی ضرورت ہے ہنر سکھانا ہاتھ سے محنت مزدوری کرنا اور اپنے لیے رزق حلال کمانا سکھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ 15 سال کا بچہ اور بچی کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کر اپنی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی خود انحصاری کی طرف بھی گامزن ہو سکیں

اپنی ترجیحات بطور والدین طے کرتے ہوئے بچے کی ترجیحات اور دلچسپیاں بھی مد نظر رکھیں تاکہ وہ اپ سے اپنے مسائل کا اظہار کھل کر سکے ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے باہر اور معاشرے کے دیگر افراد کی طرف رجوع کرے اور اپ کی ذات کو بھلا دیے ۔ اس سے سرزد غلطیوں کا ہر وقت حساب لینے نہ بیٹھ جایا کریں کبھی کبھی اس کے مسئلے کو سن بھی لیا کریں تاکہ جب وہ اپ کے پاس اپنا مسئلہ لے کر ائے تو اسے یقین ہو کہ اس معاشرے میں اس کے والدین واحد ہستی ہیں جو اس کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی بات کو سمجھتے ہیں ورنہ وہ ذہنی طور پر معذور ہو جائے گا چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے بچوں کو اپنے ساتھ شامل کریں تاکہ انہیں ہر کام کی اہمیت کا احساس ہو اور وہ کسی کام کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں یاد رہے بچے اپ کے مستقبل کی ضمانت ہے لیکن یہ مستقبل تبھی محفوظ رہے گا جب اس میں حال کا وقت اور لمحہ موجود بھی موجود ہو۔