جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

لندن: القاعدہ اورٹی ٹی پی کو سائبر سکیورٹی، کرپٹو کرنسی بارے مشورے دینے والے کو سزا

مصنف:

لندن: دہشت گرد تنظیموں کو سائبر سکیورٹی میں معاونت، خفیہ کرپٹو کرنسی ادائیگیوں کے طریقے بتانے اور دہشت گردی سے متعلق مواد جمع کرنے کے جرم میں 18 سالہ یوسف شاہ کو چار سال دو ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔


برطانوی شہر ایلفورڈ سے تعلق رکھنے والے یوسف شاہ کو سزا کے ساتھ 10 سالہ نوٹیفکیشن آرڈر کا بھی پابند بنایا گیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کاؤنٹر ٹیررازم پولیس لندن نے کیں۔تحقیقات کے مطابق یوسف شاہ 13 سے 14 سال کی عمر میں انتہا پسندانہ نظریات اور دہشت گردی سے متعلق مواد کی جانب راغب ہوا، جبکہ 16 سال کی عمر میں اس نے آن لائن دہشت گرد تنظیموں کو اپنی تکنیکی معلومات فراہم کرنا شروع کر دیں۔یوسف شاہ کو جنوری 2024 میں ہیتھرو ایئرپورٹ پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول 7 کے تحت روکا گیا تھا۔ اس کے موبائل فون اور کمپیوٹر کی جانچ کے دوران دہشت گردی سے متعلق مواد تک رسائی، اسے جمع کرنے اور سوشل میڈیا پر القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت کے شواہد سامنے آئے۔


تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یوسف شاہ نے ٹیلی گرام گروپ میں موجود افراد کو القاعدہ کے لیے عطیات بھیجنے کی غرض سے مخصوص ایسی کرپٹو کرنسی استعمال کرنے کا مشورہ دیا جس کے ذریعے ادائیگیوں کا سراغ لگانا مشکل ہو۔ اپریل 2024 میں اس کے تجویز کردہ طریقوں کے تحت ایک کیو آر کوڈ کے ذریعے 1,376.51 ڈالر عطیہ کیے گئے۔مارچ 2024 کے اختتام پر ٹیلی گرام کے ذریعے ایک شخص نے یوسف شاہ سے تحریک طالبان پاکستان کے لیے سائبر سکیورٹی گائیڈ تیار کرنے میں مدد طلب کی۔ پیغام بھیجنے والے نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ گائیڈ تیار کرنے کی درخواست کی ہے۔یوسف شاہ نے فوری طور پر ’’اے گائیڈ آن سائبر سکیورٹی‘‘ کے عنوان سے ایک دستاویز تیار کرکے شیئر کی، جس میں سائبر سکیورٹی اور کرپٹو کرنسی کے استعمال سے متعلق تفصیلات شامل تھیں۔ تحقیقات کے مطابق اس مواد کا مقصد تنظیم کو اپنی سرگرمیاں خفیہ رکھنے میں مدد دینا تھا۔


حکام کو یوسف شاہ کے فون سے القاعدہ کے آن لائن میگزین تک رسائی کے شواہد بھی ملے، جس میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں سے متعلق عملی معلومات موجود تھیں۔ اس کے علاوہ اس نے دھماکہ خیز مواد اور آلات بنانے اور مختلف اقسام کے ہتھیار استعمال کرنے سے متعلق دستاویزات بھی ڈاؤن لوڈ کر رکھی تھیں۔یوسف شاہ ٹیلی گرام کے ایسے گروپس میں بھی سرگرم رہا جہاں دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کی جاتی تھی۔ وہ خود کو ان تنظیموں کے نظریات سے ہم آہنگ ظاہر کرتا اور انہیں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کرتا تھا۔کنگسٹن کراؤن کورٹ میں پانچ ہفتے جاری رہنے والے مقدمے کی سماعت کے بعد یوسف شاہ کو دہشت گردی کے لیے رقم یا دیگر املاک دستیاب کرانے کے انتظام میں ملوث ہونے، دہشت گردی کے ارتکاب یا تیاری میں استعمال ہونے والی تربیت فراہم کرنے اور دہشت گردی سے متعلق مواد جمع کرنے کے تین الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔


کاؤنٹر ٹیررازم پولیس لندن کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلا ناگن نے کہا کہ یہ مقدمہ والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے ایک اور تنبیہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر بچوں کی سرگرمیوں سے آگاہ رہیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ یوسف شاہ محض 13 یا 14 سال کی عمر میں انتہا پسندانہ نظریات اور دہشت گردی سے متعلق مواد کی جانب راغب ہو رہا تھا۔ ان کے مطابق کم عمر افراد کے آن لائن انتہا پسندی اور پُرتشدد دہشت گرد نظریات کے زیرِ اثر آنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ہیلن فلا ناگن نے مزید کہا کہ صرف 16 سال کی عمر میں یوسف شاہ کو آن لائن دنیا کے بارے میں اتنی تکنیکی معلومات حاصل تھیں کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے گمنام ادائیگیاں کرنے کے عملی طریقے بتا سکتا تھا۔