پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دفاع، تجارت، آئی ٹی اور صحت سمیت 20 شعبوں میں معاہدوں پر دستخط

پاکستان اور مالدیپ نے اپنے 60 سالہ دیرینہ سفارتی تعلقات کو مضبوط اقتصادی و استراتیجی شراکت داری میں ڈھالنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے دفاع، آئی ٹی، مصنوعات، صحت، زراعت، تعلیم اور سیاحت سمیت 20 مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کر دیے ہیں۔
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے تاریخی دورۂ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ تقریب کے دوران دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے 20 مفاہمتی یادداشتوں اور دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے صدر معیزو کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ 11 سال بعد مالدیپ کے کسی صدر کا دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو 60 سال مکمل ہو چکے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ برادرانہ روابط مختلف شعبوں میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صدر معیزو کے ساتھ تعمیری اور مثبت بات چیت ہوئی ہے جس میں دفاع، تجارت، تعلیم، اور صحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا پاکستان کے طبی ماہرین اور ڈاکٹرز مالدیپ میں خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ مالدیپ کے طلبہ کی بڑی تعداد پاکستانی جامعات میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، مالدیپ کی مزید ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ اس موقع پر انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی جانب سے صدر معیزو کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری ملنے پر بھی مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ مالدیپ، مالے اور دیگر علاقوں میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے لیے تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔ یہ یقیناً ایک اچھی خبر ہے۔ خوش قسمتی سے، پاکستان نے بھی اس شعبے میں مناسب مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت حاصل کر لی ہے ہم پاکستان کے مختلف علاقوں میں ڈیٹا سینٹرز قائم کر چکے ہیں، جن کی استعداد نصف میگاواٹ سے لے کر ساڑھے آٹھ میگاواٹ تک ہے۔ اس بڑے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح میں نے حال ہی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ کیا تھا-
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے گرمجوش استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر حکومتِ پاکستان اور عوام کا شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ طے پانے والی 20 مفاہمتی یادداشتیں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں سنگِ میل ثابت ہوں گی، دونوں ممالک نےباہمی دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئےآئندہ 2 برسوں کے اندر دوطرفہ تجارتی حجم کو 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کے لیے مشترکہ کاوشیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان مالدیپ بزنس فورم‘ سے تجارتی اور معاشی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، جبکہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹلائزیشن جیسی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تقریب کے دوران دونوں ممالک کے متعلقہ حکام نے اہم شعبوں میں تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ کیا ان میں آئی ٹی، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹلائزیشن میں مشترکہ تعاونمدفاعی شعبے اور بحری سلامتی (Maritime Security) میں باہمی اشتراکِ عمل کو مزید وسعت دینے کی دستاویزات کا تبادلہ شامل ہے-
اسی طرح ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (DRAP) اور مالدیپ فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے درمیان اتفاق، اور پاکستانی طبی ماہرین کی مالدیپ میں بھرتی کے لیے مفاہمتی یادداشت، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) اور اسٹیٹ ٹریڈنگ آرگنائزیشن مالدیپ کے درمیان تجارتی معاہدہ، نیز زراعت، ماہی گیری اور ماحولیات میں تعاون،شامل ہیں-
علاوہ ازیں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور مالدیپ کی وزارتِ تعلیم کے درمیان معاہدہ، فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور یوتھ ایکسچینج پروگرام کا آغاز،قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سول سروس نیشنل پولیس اکیڈمی پاکستان اور مالدیپ کے نیشنل کالج آف پالیسی اینڈ لا انفورسمنٹ کے درمیان شراکت داری، نیز دونوں ممالک کے سول سروس کمیشنز اور سول سروس اکیڈمیز کے درمیان تعاون کے معاہدوں پر تبادلہ کیا گیا-
جبکہ دیگر شعبوں میں انسداد منشیات، سماجی تحفظ، ہوابازی (فضائی روابط کی بہتری)، سیاحت، اور فنونِ لطیفہ، ثقافت و ورثے میں تعاون کی یادداشتیں شامل ہیں-
پریس کانفرنس کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے تمام طے پانے والے معاہدوں اور مشترکہ اعلامیے پر کامل جذبے سے عمل درآمد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔





