یہ کہانی ایک چھوٹے سے گاؤں کے ایک چھوٹے سے گھر کی ہے۔ اس گھر میں ایک شخص اپنی بیوی اور اپنی 9 سال کی بیٹی حنا کے ساتھ رہتا تھا۔ حنا اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی اور اپنے باپ کی جان تھی۔ باپ مزدور تھا، دن بھر اینٹیں اٹھاتا تھا، لیکن جب شام کو گھر آتا تو حنا کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ لاتا۔ کبھی دو روپے کی ٹافیاں، کبھی رنگ برنگے کلپ، کبھی ایک چھوٹی سی کہانی کی کتاب۔ حنا دوڑ کر اپنے باپ کے سینے سے لگ جاتی اور اس کا سارا دن کا تھکن اتر جاتا۔
حنا بہت ذہین تھی۔ سکول میں ہمیشہ اول آتی تھی۔ اس کا خواب تھا کہ وہ بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے گی اور اپنے ماں باپ کا علاج کرے گی۔ اس کے باپ کو اس پر بہت ناز تھا۔
پھر ایک دن قیامت ٹوٹ پڑی۔ حنا کا باپ کام پر گیا ہوا تھا، اچانک اسے سینے میں درد اٹھا اور وہ وہیں گر گیا۔ لوگ اسے ہسپتال لے کر گئے لیکن وہ راستے میں ہی اللہ کو پیارا ہو گیا۔
جب اس کی لاش گھر آئی تو حنا کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ کیا ہوا ہے۔ وہ اپنے باپ کے چہرے کو ہلا ہلا کر کہہ رہی تھی، "ابا اٹھو نا، آپ نے کہا تھا آج مجھے بازار لے کر جاؤ گے"۔ لیکن اس کا ابا اب کبھی نہیں اٹھنے والا تھا۔
اس دن کے بعد حنا کے گھر کی خوشیاں ختم ہو گئیں۔
باپ کو فوت ہوئے ابھی 10 دن بھی نہیں گزرے تھے کہ حنا کے چچا اور تایا آ گئے۔ وہ ہمدردی کے لیے نہیں، بلکہ حصے کے لیے آئے تھے۔
انہوں نے حنا کی ماں سے کہا، "بھابھی یہ گھر اور یہ دو ایکڑ زمین ہمارے باپ کی تھی، اس میں سے تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ تم اپنا سامان لو اور یہاں سے چلی جاؤ
حنا کی ماں روتی رہی، ہاتھ جوڑتی رہی، "میرے شوہر نے ساری زندگی اس گھر کو بنانے میں لگائی ہے، میری بچی یتیم ہے، ہم کہاں جائیں گے"۔ لیکن ان لوگوں کے دل میں لالچ بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے زبردستی مکان کے کاغذات چھین لیے اور ماں بیٹی کو گھر سے نکال دیا۔
اب حنا اور اس کی ماں ایک چھوٹے سے کرائے کے ایک کمرے میں آ گئیں۔ ماں نے لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھنے اور کپڑے دھونے کا کام شروع کر دیا۔
حنا اب بھی سکول جاتی تھی، لیکن اس کی زندگی بدل چکی تھی۔ جب سکول میں باپ کا دن منایا گیا تو سب بچے اپنے باپوں کے ساتھ کرسیوں پر بیٹھے تھے، حنا اکیلی دیوار کے ساتھ کھڑی رو رہی تھی۔
محلے میں جب کوئی شادی ہوتی تو حنا کو سب سے پیچھے بٹھایا جاتا۔ کہا جاتا "تم یتیم ہو، تمہارے کپڑے پرانے ہیں، تم پیچھے بیٹھو"۔ عید کے دن جب سب بچیاں مہندی لگا کر نئے کپڑے پہنتیں تو حنا پرانے جوڑے میں ایک کونے میں بیٹھی رہتی۔ کوئی اسے گلے نہیں لگاتا تھا، بس ترس کھا کر دیکھ لیتا تھا۔ لوگوں کے طعنے اس کے دل کو چیر دیتے
حنا کی ماں بیمار رہنے لگی۔ کرایہ دینا مشکل ہو گیا۔ آخر کار مجبوری میں حنا کو سکول سے ہٹا دیا گیا۔
وہ بچی جو کبھی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، اسے گاؤں کے ایک بڑے ہوٹل پر برتن دھونے کے کام پر لگا دیا گیا۔ 10 سال کی عمر میں حنا صبح 5 بجے اٹھتی، ٹھنڈے پانی سے چائے کے کپ دھوتی، میزیں صاف کرتی۔ اگر کوئی کپ ٹوٹ جاتا تو مالک اسے مارتا، گالی دیتا اور کہتا "یتیم ہے تو کام تو کرنا پڑے گا
اس کے نازک ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے، اس کی آنکھوں میں نیند کی جگہ آنسو آ گئے۔ اس کا بچپن، اس کے خواب، اس کے کھلونے، سب ختم ہو گئے۔
جب حنا 17 سال کی ہوئی تو اس پر ایک نیا ظلم شروع ہوا۔ اسے بوجھ سمجھا جانے لگا۔ اس کی ماں اس کے رشتے کے لیے پریشان تھی، لیکن جہاں بھی جاتی وہاں سے جواب ملتا "لڑکی یتیم ہے، جہیز کیا دے گی؟"۔ کوئی اس کی خوبصورتی یا سیرت نہیں دیکھتا تھا، سب اس کی یتیمی کو دیکھتے تھے۔
حنا راتوں کو چھت پر لیٹ کر آسمان کی طرف دیکھتی اور اپنے باپ کو یاد کر کے روتی کہ "ابا آپ کیوں چلے گئے؟ آپ ہوتے تو مجھے کوئی یتیم نہ کہتا
پھر اللہ نے اس کی سن لی۔ اسی محلے میں ایک ریٹائرڈ استانی رہتی تھی۔ اس نے حنا کو ہوٹل پر کام کرتے دیکھا تو اسے اپنے گھر بلایا۔ اس نے کہا بیٹی تم تو بہت ذہین تھی، تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ حنا پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
اس استانی نے حنا اور اس کی ماں کو اپنی بیٹی بنا لیا۔ اس نے حنا کو دوبارہ سکول میں داخل کرایا، اسے کتابیں لا کر دیں، اسے عزت دی۔ آج حنا دوبارہ پڑھ رہی ہے اور اس کا خواب پھر سے زندہ ہو گیا ہے
یہ کہانی صرف حنا کی نہیں، یہ ہمارے ارد گرد ہزاروں یتیم بچوں کی کہانی ہے۔ یتیم پر ظلم صرف مارنا نہیں ہوتا، اس کا حق کھانا، اسے طعنے دینا، اسے نظر انداز کرنا، یہ سب سے بڑا ظلم ہے۔
ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ہوں گے جیسے دو انگلیاں۔
اس لیے اگر آپ کے آس پاس کوئی یتیم ہے تو اس کے سر پر ہاتھ رکھیں، اسے پیار دیں، کیونکہ یتیم کی دعا سیدھی عرش پر جاتی ہے۔
مزید پڑھیں






