صدر اردوان نے غزہ کو دورِ حاضر کا سب سے ظالمانہ اور شرمناک کنسنٹریشن کیمپ قرار دیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں ترک صدر رجب طیب اردوان کی تند و تیز تقریر کے دوران اسرائیلی وفد ہال سے واک آؤٹ کر گیا۔
اپنے خطان میں صدر اردوان نے غزہ میں جاری مظالم اور مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی آباد کاروں کے تشدد کا ذکر کیا، ترک صدر کے خطاب پر فلسطینی وفد نے بھرپور تالیاں بجا کر ان کے موقف کی حما یت کی جس پر اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن کی قیادت میں اسرائیلی سفارت کار اپنی نشستوں سے اٹھے اور باہر نکل گئے-
https://x.com/PalMediaOrg/status/2102449296364716078?s=20
اپنے خطاب میں رجب طیب اردوان نے اسرائیل کی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دنیا پر زور دیا کہ وہ فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل پر دباؤ بڑھائے،ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد سے سیز فائر میں اپنا کردار ادا کر چکے ہیں، لیکن اس نام نہاد وقفے کے باوجود غزہ میں 1300 سے زائد شہریوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔
اردوان نے کہا کہ آج غزہ نہ صرف بچوں کے لیے دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے، بلکہ یہ وہ جگہ بھی ہے جہاں بچوں کے اعضا کٹنے (ایمپوٹیشن) کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ غزہ ہمارے دور کا انتہائی غیر انسانی اور شرمناک حراستی کیمپ بن چکا ہے۔
https://x.com/Palestine_UN/status/2102426662193267112?s=20
اردوان نے کہا کہ صرف غزہ میں، گزشتہ تین سالوں کے دوران ہم نے اپنے 74,000 بھائیوں اور بہنوں کو کھو دیا ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے ہم نے انہیں اسرائیل کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کے ایسے اقدامات کی نذر ہوتے دیکھا جنہیں ہم ریاستی دہشت گردی ہی سمجھتے ہیں غزہ کے لوگ اب بھی ملبے تلے اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں۔ وہ اپنے شریکِ حیات، بچوں یا والدین کی لاشیں نکال رہے ہیں اسرائیلی حملوں میں اپنے ہاتھ اور پاؤں گنوا دینے والے معصوم بچے دوبارہ اسکول جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دریں اثنا، مغربی کنارہ اس صورتحال کے شدید ترین دور سے گزر رہا ہے جسے ہم آباد کاروں کی جانب سے تشدد اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں۔ یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو مقدس مقامات تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ’انروا‘ (UNRWA) کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ہمارا اجتماعی اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں نے سیز فائر کے فریم ورک کے دوسرے مرحلے کو تسلیم کر لیا ہے لیکن اسرائیل غزہ میں اپنی کارروائیاں ختم نہیں کر رہا ہے اور اس وقت مغربی کنارہ اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے جہاں غیر قانونی صیہونی آباد کار قبضہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے غزہ کو دورِ حاضر کا سب سے ظالمانہ اور شرمناک کنسنٹریشن کیمپ قرار دیا اور کہا کہ دنیا ایک ایسی نسل کشی کی سوچ کا سامنا کر رہی ہے جو قتل و غارت سے کبھی نہیں بھرتی، اور انسائیت یا ضمیر رکھنے والا کوئی بھی شخص اس پر آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔
اپنے خطاب کے دوران ترکیہ کے صدر نے اقوام متحدہ کی کارکردگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 81 سال قبل دنیا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے قائم ہونے والا یہ ادارہ اپنا فرض پورا کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔
https://x.com/Palestine_UN/status/2102425384780222699?s=20
انہوں نے کہا کہ میں ایک معاملے پر اپنے دکھ کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ یہاں موجود رکن ممالک کی بھاری اکثریت کی جانب سے ’ریاستِ فلسطین‘ کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود، ریاستِ فلسطین کے معزز صدر جناب محمود عباس گزشتہ دو برسوں سے مسلسل ان اجلاسوں میں شرکت کرنے سے قاصر رہے ہیں ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہونے والی یہ ناانصافی انسانی ضمیر کو شدید ٹھیس پہنچاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ معطل ہو کر رہ گیا ہے اور فلسطین، لبنان اور سوڈان میں بے بس نظر آتا ہے، اس کے علاوہ امریکی ویزا نہ ملنے کے باعث فلسطینی صدر محمود عباس کی اجلاس میں عدم موجودگی کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے رجب طیب اردوان نے کہاکہ صدر عباس کی جسمانی موجودگی کے بغیر بھی ترکیہ دنیا بھر میں آزاد اور خودمختار فلسطین کی آواز بن کر سامنے آتا رہے گا،اور اس منبر سے، اس پلیٹ فارم سے، ہم فلسطینی عوام کی جدوجہد کو پوری دنیا تک پہنچاتے رہیں گے۔“
انہوں نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کا ذکر کرتے ہوئے یوکرین کی خودمختاری کے ساتھ اس جنگ کو فوری ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مزید پڑھیں




