منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

‘کشمیر یومِ سیاہ’ کے موقع پر صدر مملکت کا خصوصی پیغام


صدر مملکت آصف علی زرداری نے 27 اکتوبر ‘کشمیر یومِ سیاہ’ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ اور حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتِ حال کا فوری نو ٹس لیں۔


صدر مملکت نے اپنے خصوصی پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر مناسب بین الاقوامی فورم پر ان کی آواز بلند کرتا رہے گا تاکہ ان کی جائز خواہشات کی تکمیل ممکن ہو سکے۔


انہوں نے کہا کہ ’جموں و کشمیر کا یومِ سیاہ صرف ایک یادگار دن نہیں، بلکہ یہ تنازع کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے ہمارے غیر متزلزل عزم کی تجدید کا موقع ہے۔‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور خوش حالی کا دارومدار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی منشا کے مطابق اس دیرینہ تنازع کے حل پر ہے۔


صدر زرداری نے کہا کہ آج کے دن ہم کشمیری عوام کی بے شمار قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور اپنے کشمیری بھائی بہنوں کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان انصاف، امن، وقار اور حقِ خودارادیت کے حصول کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ شان بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر کے عوام اپنی خواہشات کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے اور یہ تنازع اپنے منصفانہ انجام کو پہنچے گا۔


27 اکتوبر 1947 کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ یہ وہ سیاہ دن تھا جب بھارتی افواج نے سری نگر میں اتر کر جموں و کشمیر کی تاریخ کے ایک طویل اور دردناک باب کا آغاز کیا۔ یہ دن ہمیں کشمیریوں کی دہائیوں پر محیط جدوجہد اور ان کے بنیادی و ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی یاد دلاتا ہے۔


انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 8 دہائیوں سے مقبوضہ وادی کے عوام تشدد، جبر اور بنیادی حقوق کی شدید پامالیوں کا سامنا کر رہے ہیں کشمیریوں کی نسلوں نے آزادی، وقار اور انصاف کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں اور تمام تر مصائب کے باوجود ان کا ثبات و عزم ان کے مقصد کی سچائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


صدر زرداری نےکہا کہ 27 اکتوبر 1947ء سے لے کر اب تک مقبوضہ کشمیر کے لوگ مسلسل پابندیوں اور حقوق کی سلب کا شکار ہیں بنیادی آزادیوں پر سلب، شدید عسکریت پسندی، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہئیں، جس پر مسلسل بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے،5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی و قانونی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کے بعد سے وادی میں صورتِ حال مزید ابتر اور تشویشناک ہو چکی ہے-


وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 27 اکتوبر ‘کشمیر یومِ سیاہ’ کے موقع پر اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسلۂ کشمیر پر پاکستان کا موقف بالکل واضح، مستقل اور اصولی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تنازع جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا قیام ممکن نہیں۔


وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ‘کشمیر یومِ سیاہ’ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ اس غم انگیز اور تاریخی دن پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی قوم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے-


وزیراعظم نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان کشمیری عوام کو ان کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کی فراہمی جاری رکھے گا اور ہر قومی و بین الاقوامی فورم پر ان کے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔


انہوں نے کہا کہ 79 برس قبل بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوئی تھیں، جس سے جموں و کشمیر کی تاریخ کے ایک دردناک اور سیاہ باب کا آغاز ہوا، جس کا تاریک سایہ آج بھی اس خطے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس دن سے لے کر آج تک کشمیریوں کو ان کے بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس کی ضمانت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں دی گئی ہے۔


وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ وادی کے لوگوں نے بے پناہ مصائب، ستم اور جابرانہ اقدامات برداشت کیے ہیں، لیکن ان کے حوصلے، ہمت اور آزادی کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی کشمیریوں کی نسل در نسل دی جانے والی عظیم قربانیاں ان کے آزادی، وقار اور انصاف کے ساتھ جڑےرہنے کا ایک محکم ثبوت ہیں، بھارت مسلسل کشمیریوں کی جائز سیاسی آوازوں کو دبانے اور ان کی نمائندگی کرنے والی قیادت کو خامو ش کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ حریت رہنماؤں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو طویل عرصے تک قید رکھنا انتہائی تشویشناک ہے، جو عالمی برادری کی فوری توجہ اور بنیادی آزادیوں کے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔


وزیراعظم نے مزید کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ وادی میں یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس کے ساتھ بنیادی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں علاقے کی سیاسی، قانونی اور آبادیاتی (ڈیموگرافک) ہیئت کو تبدیل کرنے کی ان کوششوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے پاکستان نے ہمیشہ مطالبہ کیا ہے کہ ان اقدامات کا بین الاقوامی قوانین اور سلا متی کونسل کی قراردادوں کے تحت تدارک کیا جائے۔


وزیراعظم نے ان تمام کشمیری مردوں، خواتین اور بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق کی خاطر عظیم قربانیاں دیں اور کہا کہ ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ انہوں نے دعا کی کہ کشمیریوں کو ان کا مسلمہ حقِ خودارادیت ملے اور خطہ پائیدار امن، وقار اور سلامتی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔


نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے مسلسل جدوجہد اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی قوم کی امنگوں کو جبر اور تشدد کے ذریعے نہیں دبایا جا سکتا۔


یومِ سیاہ جموں و کشمیر پر اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج سرینگر میں داخل ہوئی، جس سے جموں و کشمیر کی تاریخ کے ایک طویل اور دردناک باب کا آغاز ہوا۔ قریباً 8 دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیری عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔


انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام دہائیوں سے بنیادی آزادیوں پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم ان کا عزم اور استقامت برقرار ہے۔ کشمیری نسلوں کی قربانیاں انصاف، امن اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق کے لیے ان کی جدوجہد کی عکاس ہیں, اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جموں و کشمیر تنازع کے حل کے لیے متعدد قراردادیں منظور کی ہیں پاکستان کا مؤقف ہے کہ تنازع کے منصفانہ، پرامن اور پائیدار حل کے لیے عالمی برادری کا کردار انتہائی اہم ہے۔


نائب وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اقدامات کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بین الاقو امی تشویش میں اضافہ ہوا ہے بعد ازاں کی گئی قانون سازی، بنیادی آزادیوں پر پابندیوں، آبادیاتی اور سیاسی تبدیلیوں اور کشمیری سیاسی رہنماؤں و کار کنوں کی مسلسل نظر بندی نے عوام میں عدم تحفظ اور احساسِ محرومی کو مزید گہرا کیا ہے۔


وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش ظاہر کی ہے، جو عالمی برادری کی مسلسل توجہ اور عملی اقدامات کی ضرورت اجاگر کرتی ہے۔


اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے مصائب کے خاتمے اور ان کے بنیادی حقوق کے احترام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور ہر متعلقہ بین الاقوامی فورم پر ان کی آواز بلند کرتا رہے گا۔