بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خوابوں کا ری سائیکل بن،تحریر:سمیرا اکرام

نقطہ نظر

نمرہ کا کام پرانے لیپ ٹاپ ٹھیک کرنا تھا۔ ابا کی چھوٹی سی دکان تھی، جہاں لوگ اپنے سست لیپ ٹاپ بیچنے آتے۔ نمرہ کا کام ہارڈ ڈسک صاف کر کے انہیں دوبارہ بیچنے کے قابل بنانا تھا۔

ایک دن ایک بوسیدہ لیپ ٹاپ آیا۔ اس کا مالک ایک انکل تھے جو کہہ رہے تھے، بس ڈیلیٹ کر دو، سب کچھ۔ میرا بیٹا کہتا ہے اس میں کچھ نہیں رکھا۔ نمرہ نے جب اس کی ہارڈ ڈسک کھولی تو اسے ایک عجیب فولڈر نظر آیا جس کا نام تھا Recycle Bin، لیکن وہ ونڈوز والا نہیں تھا۔ اس کے اندر فائلز نہیں، آوازیں تھیں۔

اس نے ایک آواز پر کلک کیا۔ آواز آئی، ”میں ایک ناول لکھنا چاہتی تھی، لیکن سب نے کہا لڑکیاں ناول نہیں لکھتیں، اس لیے ڈیلیٹ۔“ دوسری آواز، ”میں یوٹیوب چینل بنانا چاہتا تھا، دوستوں نے مذاق اڑایا، ڈیلیٹ۔“ تیسری آواز، ”میں دسویں کے بعد کرکٹ اکیڈمی جانا چاہتا تھا، گھر والوں نے کہا نوکری نہیں ملے گی، ڈیلیٹ۔“

نمرہ حیران رہ گئی۔ یہ کسی ایک شخص کا نہیں، اس لیپ ٹاپ میں پچھلے پانچ سال میں جتنے لوگ آئے تھے، ان سب کے ڈیلیٹ کیے ہوئے خواب تھے۔ ہر بار جب کوئی اپنا خواب لوگوں کے ڈر سے ڈیلیٹ کرتا، تو وہ فائل اس عجیب ری سائیکل بن میں آ جاتی۔ اس رات نمرہ سو نہ سکی۔ اسے اپنا خواب یاد آیا۔ وہ بچپن میں کارٹون بنا کر کہانیاں بناتی تھی، لیکن جب رشتہ داروں نے کہا، اس سے پیسہ نہیں آتا، تو اس نے اپنی ڈرائنگ کی کاپی ردی میں بیچ دی تھی۔ اس کا خواب بھی کہیں اسی بن میں ہوگا۔ اگلے دن اس نے ایک انوکھا کام شروع کیا۔ اس نے دکان کے باہر ایک بورڈ لگایا، ”یہاں ڈیلیٹ شدہ خواب ری اسٹور کیے جاتے ہیں۔ مفت۔“ لوگ ہنسے۔ ایک لڑکا آیا اور بولا، باجی، میرا ایک خواب تھا، میں گیم بنانا چاہتا تھا۔

نمرہ نے اسے وہی پرانا لیپ ٹاپ دیا اور کہا، اس بن میں سے اپنا خواب تلاش کرو اور Restore پر کلک کرو۔ شرط صرف ایک ہے، Restore کرنے کے بعد تمہیں اس پر سات دن تک روز ایک گھنٹہ کام کرنا ہوگا، بغیر کسی کو بتائے۔ لڑکے نے حیرت سے کلک کیا۔ اسکرین پر لکھا آیا، ”کیا آپ واقعی اس خواب کو واپس لانا چاہتے ہیں؟ لوگ کیا کہیں گے، یہ فائل دوبارہ ڈیلیٹ ہو سکتی ہے۔“ اس نے Yes پر کلک کیا۔

سات دن بعد وہ لڑکا واپس آیا، اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ ”باجی، میں نے گیم کا پہلا لیول بنا لیا ہے۔ کوئی لائک نہیں آیا، لیکن مجھے مزہ آیا۔“ پھر ایک آنٹی آئیں، انہوں نے کہا، میرا خواب تھا کہ میں آن لائن قرآن کی تفسیر پڑھاؤں، لیکن ڈر لگتا تھا۔ انہوں نے بھی Restore کیا۔

آہستہ آہستہ دکان خوابوں کے ہسپتال بن گئی۔ نمرہ نے سمجھا، آج کل کے دور میں ہم فائلز نہیں، اپنے خواب ڈیلیٹ کر رہے ہیں۔ ایک انسٹاگرام کمنٹ پر، ایک رشتہ دار کے طعنے پر، ایک فیل ہونے کے ڈر سے۔ ہم سمجھتے ہیں ڈیلیٹ کرنے سے سکون ملے گا، لیکن وہ خواب ری سائیکل بن میں بیٹھ کر ہمیں اندر سے کھاتا رہتا ہے۔ ایک دن وہی انکل آئے جن کا لیپ ٹاپ تھا۔ نمرہ نے انہیں ان کی اپنی آواز سنوائی، ”میں اپنے بیٹے کے ساتھ لکڑی کا کام سیکھنا چاہتا تھا، لیکن بیٹا کہتا ہے یہ پرانا کام ہے۔“ انکل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بولے، بیٹی، کیا یہ خواب واپس آ سکتا ہے؟ نمرہ نے کہا، ہاں، Restore کریں۔

آج اس دکان پر لیپ ٹاپ کم اور لوگ زیادہ آتے ہیں۔ وہاں کوئی موٹیویشنل تقریر نہیں ہوتی۔ بس ایک سوال ہوتا ہے، تم نے آخری بار کون سا خواب کس کے کہنے پر ڈیلیٹ کیا تھا؟

نمرہ نے اپنی دیوار پر لکھ رکھا ہے، ”آج کے دور میں دنیا تمہیں نیا خواب نہیں دیتی، وہ تمہارا پرانا خواب ڈیلیٹ کرواتی ہے۔ کامیاب وہ نہیں جس کے پاس نئے خواب ہیں، کامیاب وہ ہے جس نے اپنے ڈیلیٹ شدہ خواب کو Restore کرنے کی ہمت کی۔“

جاؤ، اپنے اندر کے ری سائیکل بن کو کھولو۔ وہاں تمہارا اصل مستقبل تمہارا انتظار کر رہا ہے۔ کلک کرو، Restore۔