سعودی فلم انڈسٹری عالمی سطح پر ثقافت اور تشخص اجاگر کرنے کا مؤثر ذریعہ بن گئی

ریاض: سعودی عرب میں فلم انڈسٹری کو ملکی ثقافتی شناخت اجاگر کرنے، عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص پیش کرنے اور سیاحت، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
جنرل اتھارٹی فار میڈیا ریگولیشن کے چیف ایگزیکٹو عبداللطیف بن محمد العبداللطیف نے سعودی فلم کانفیکس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ فلم اور ڈرامے کے ذریعے کسی ملک کی جو تصویر دنیا کے سامنے پیش کی جاتی ہے، اس کے مثبت اثرات نہ صرف ثقافتی شعبے بلکہ سیاحت، تجارت، سرمایہ کاری اور غیر ملکی افراد کو ملک کی جانب راغب کرنے پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈرامہ اور فلم سازی کسی بھی معاشرے اور ملک کی ذہنی و ثقافتی تصویر دنیا تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ میڈیا کا بنیادی کردار یہ ہے کہ وہ ثقافتی شعبے میں تیار ہونے والے مواد اور قومی تشخص کو ملک کے اندر بھی فروغ دے اور بیرون ملک بھی متعارف کرائے۔
افتتاحی سیشن میں سعودی فلم کمیشن کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ العیاف بھی شریک تھے۔ انہوں نے فلم اور میڈیا کے شعبوں کو پیدائشی جڑواں قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینما کے آغاز سے ہی فلمیں میڈیا کے لیے مؤثر مواد فراہم کرتی رہی ہیں، جبکہ فلم انڈسٹری کو بھی اخبارات، رسائل، ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ سے بھرپور فائدہ پہنچا ہے۔عبداللہ العیاف نے بتایا کہ سعودی عرب میں گزشتہ سال مقامی فلموں نے باکس آفس پر 12 کروڑ 20 لاکھ سعودی ریال کا کاروبار کیا، جبکہ 2024 میں یہ آمدن 5 کروڑ 68 لاکھ ریال تھی۔ اس طرح سعودی فلموں کی آمدن میں 114 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سعودی عرب کے سینما گھروں میں مجموعی طور پر 538 فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئیں، جن میں سعودی فلموں کا تناسب 3 فیصد سے بھی کم تھا، تاہم مقامی فلموں نے مجموعی باکس آفس آمدن کا تقریباً 13 فیصد حاصل کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی فلموں کو سینما گھروں میں دیکھنے والے ناظرین کی تعداد کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ذریعے ان فلموں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بھی بہت زیادہ رہی۔ میڈیا نے مقامی فلموں اور سعودی تخلیقی صلاحیتوں کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سعودی فلم کانفیکس کا چوتھا ایڈیشن درعیہ کے جیکس اسٹوڈیوز میں اختتام پذیر ہوا۔ یہ کانفرنس وزیر ثقافت اور سعودی فلم کمیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ایونٹ میں فلم سازی، پروڈکشن، کاسٹنگ، مالی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف موضوعات پر مباحثے اور ورکشاپس منعقد کی گئیں۔ شرکا نے فلم انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، فلموں کی تیاری سے تقسیم تک کے مراحل اور سعودی مارکیٹ میں نئے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔کانفرنس میں فلمی صنعت سے وابستہ نمایاں شخصیات اور اداروں کے نمائندوں نے غیر منافع بخش شعبے کے ذریعے نئے ٹیلنٹ کی سرپرستی، فلمی منصوبوں کی معاونت اور سعودی فلم انڈسٹری کی ترقی کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔اس موقع پر متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں فلم لیب اور سینی ویو کے ساتھ تین نئی فلموں کی تقسیم کے معاہدے بھی شامل ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد سعودی کہانیوں اور مقامی فلمی تخلیقات کو وسیع عالمی ناظرین تک پہنچانا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال منعقدہ فلم کانفیکس کے دوران سعودی فلم کمیشن کے تعاون سے جاری منصوبوں پر مجموعی اخراجات 1.3 ارب سعودی ریال (34 کروڑ 70 لاکھ ڈالر) تک پہنچ گئے تھے
مزید پڑھیں





