برطانیہ میں "امریکی کووڈ" ویرینٹXFG کے کیسز میں تیزی سے اضافہ

برطانیہ بھر میں "امریکی کووڈ" ویرینٹ (XFG یا Stratus) کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے؛ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ماہانہ کیسز کی تعداد میں 230 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ہسپتالوں میں (ٹیسٹ کے) مثبت آنے کی شرح 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (UKSHA) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اگست سے ستمبر کے درمیان ماہانہ رپورٹ ہونے والے کیسز میں 230 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ہسپتالوں میں کووڈ ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 5.9 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
صرف ایک ہفتے کے دوران کیسز میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا 23 ستمبر تک کے سات دنوں میں، کیسز کی تعداد پچھلے ہفتے کے 1,061 سے بڑھ کر 1,364 ہو گئی۔31 اگست تک کے ہفتے میں ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی 15 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ تعداد 261 تک پہنچ گئی۔
تاہم، انفیکشنز کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ یو کے ایچ ایس اے کے اعداد و شمار این ایچ ایس انگلینڈ (NHS England) کی ان رپورٹس پر مبنی ہیں جو وائرس کی وجہ سے شدید بیمار ہونے والے مریضوں کے ٹیسٹ سے حاصل کی گئی ہیں۔
کیسز بڑھنے کے ساتھ ہی ہسپتالوں میں داخلے کی شرح میں بھی پانچ گنا اضافہ ہوا ہے، جو اگست میں 950 سے بڑھ کر ستمبر میں 4,939 تک جا پہنچی ہے,XFG (جسے میڈیا میں Stratus یا "امریکن کووڈ" بھی کہا جا رہا ہے) دراصل اومیکرون (Omicron) خاندان کا حصہ ہے۔ یہ پہلی بار جنوری 2025 میں سامنے آیا تھا اور امریکہ میں تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا۔
ماہرینِ صحت کے مطابق یہ ویرینٹ پہلے سے موجود قوتِ مدافعت کو چکمہ دینے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ پچھلے ویرینٹس کے مقابلے میں زیادہ شدید بیماری کا باعث بنتا ہے۔ عام علامات میں گلے کی خرابی، کھانسی، بخار اور خاص طور پر آواز کا بیٹھ جانا (Hoarse Voice) شامل ہیں-




