وی آئی پی پروٹوکول یا قانون کی حکمرانی،تحریر:پروفیسر عامر زریں
نقطہ نظر
میرے خیال میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کسی وزیر یا افسر کے ساتھ کتنی گاڑیاں چلتی ہیں۔ زیادہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی عہدہ شہری اور ریاست کے درمیان تعلق کو کس حد تک بدل دیتا ہے۔ایک جمہوری ریاست میں بنیادی تصور یہ ہونا چاہیے:عہدہ شخص کو عوام سے بالاتر نہیں بناتا؛ عہدہ اسے عوام کے سامنے زیادہ جواب دہ بناتا ہے۔پاکستان کا آئین بھی مساوات کے اصول کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25 کہتا ہے کہ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور انہیں قانون کا مساوی تحفظ حاصل ہے۔
یہاں ایک اہم فرق بھی سمجھنا چاہیے:ہر پروٹوکول غلط نہیں ہوتا۔وزیراعلیٰ، وزیراعظم، جج یا کسی حساس عہدے پر موجود شخص کے لیے سکیورٹی کی ضرورت حقیقی ہوسکتی ہے۔ سرکاری گاڑی، سکیورٹی اہلکار یا مخصوص پروٹوکول بعض حالات میں ریاستی ذمہ داری بھی ہوسکتے ہیں۔مثلاً وفاقی حکومت کے Staff Car Rules میں سرکاری گاڑیوں کے استعمال کے لیے باقاعدہ قواعد موجود ہیں، جبکہ Central Pool of Cars میں وزرائے اعلیٰ اور بعض دوسرے اعلیٰ عہدیداروں کے لیے گاڑیوں اور پروٹوکول کی گنجائش بھی موجود ہے۔لہٰذا مسئلہ ''سکیورٹی کیوں دی جاتی ہے؟'' نہیں بلکہ:سکیورٹی کہاں ختم ہوتی ہے اور شاہانہ سہولت کہاں سے شروع ہوتی ہے؟
پاکستان میں VIP کلچر پیدا کیوں ہوا؟اس کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔1. ریاستی اختیار کو ذاتی مرتبہ سمجھنا۔جب وزیر، افسر یا بااثر شخص یہ محسوس کرنے لگے کہ:''میرے لیے قانون کا طریقہ مختلف ہے ''تو ادارہ جاتی مساوات ختم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔یہ صرف سیاسی اشرافیہ کا مسئلہ نہیں؛ بیوروکریسی، کاروباری اشرافیہ، جاگیردار طبقہ، مذہبی و سماجی بااثر افراد اور بعض اوقات عام شہری بھی اپنے تعلقات استعمال کرکے یہی رویہ اختیار کرتے ہیں۔
''سفارش'' کا کلچر:پاکستان میں طاقت کا ایک بڑا مظہر یہ بھی ہے کہ عام شہری کو اپنا کام کروانے کے لیے قانون اور طریقہ کار کے بجائے کسی بااثر شخص کا حوالہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔
یہ صورتحال انتہائی نقصان دہ ہے، کیونکہ پھر شہری کے ذہن میں ریاست کی تعریف یہ نہیں رہتی:''قانون میرا حق دلوائے گا''بلکہ:''کوئی بڑا آدمی میرا کام کروائے گا۔''یہی ذہنیت VIP کلچر کو مسلسل زندہ رکھتی ہے۔
. کمزور احتساب:ورلڈ بینک کی پاکستان کے حکمرانی اور اداروں پر تحقیق میں اشرافیہ کی بالا دستی کو ایک اہم مسئلے کے طور پر زیر بحث لایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طاقت اور وسائل کا غیر مساوی ارتکاز بعض حالات میں سیاسی اور معاشی اداروں کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ اصلاحات، احتساب اور عوامی مفاد کے اقدامات مشکل ہوجاتے ہیں۔یعنی مسئلہ صرف چند لوگوں کا ''غرور'' نہیں؛ اس کے پیچھے ادارہ جاتی ترغیبات بھی ہیں۔
پھر بیرون ملک اس طریقہ کار یا رحجان کے بلکل متضاد کیوں کم نظر آتا ہے؟یہاں بھی ایک غلط عمومی تاثر سے بچنا چاہیے کہ ''مغرب میں سب برابر ہیں اور پاکستان میں سب VIP ہیں۔'' وہاں بھی سیاسی شخصیات کو تحفظ، سرکاری گاڑیاں اور بعض خصوصی انتظامات کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔اصل فرق اکثر اداراجاتی پیش گوئی کی صلاحیت کا ہوتا ہے۔مثلاً ایک عام شہری کو معلوم ہوتا ہے کہ:بینک کا طریقہ کارکیا ہے؛ٹریفک قانون کیا ہے؛عدالت کا طریقہ کیا ہے؛ٹیکس کا قانون کیا ہے؛سرکاری دفتر میں اس کی درخواست پر کیسے عمل درآمد ہوگا۔اور اگر کوئی وزیر یا افسر بھی اسی نظام کے اندر رہتا ہے تو اس کے عہدے کا اثر محدود اور قانون کا اثر نسبتاً زیادہ واضح رہتا ہے۔یہی قانون کی بالا دستی کا عملی مفہوم ہے۔
اس معاملے میں پاکستان میں بہتری کیسے آسکتی ہے؟میرے خیال میں محض یہ اعلان کافی نہیں ہوگا کہ ''VIP کلچر ختم کیا جائے گا۔'' اسے نظام کے اندر سے ختم کرنا ہوگا۔. VIP نہیں، لاحق خطرے کے تحت تحفظ، ہر عہدیدار کے لیے ایک جیسا پروٹوکول نہیں ہونا چاہیے۔ تحفظ کا تعین ہونا چاہیے:عہدے + حقیقی خطرے + ایک محتا ط اندازے کی بنیاد پر۔یعنی اگر خطرہ کم ہے تو 20 گاڑیوں کا قافلہ نہیں، مناسب تحفظ کو انتظام ہو۔
. پروٹوکول کی باقاعدہ Audit رپورٹ ہر صوبے اور وفاق میں سالانہ عوامی رپورٹ ہونی چاہیے۔کتنی تحفظ پر مامور گاڑیوں کی تعدادکتنی ہے؟کس عہدے کے لیے کتنی گاڑیاں مختص ہیں؟ ایندھن کا خرچ کتنا ہے؟ حفاظتی گارڈکتنے ہیں؟سرکاری گاڑیوں کا ذاتی استعمال کتنا ہوا؟وفاقی حکومت پہلے ہی اسٹاف کار قوانین اور ٹرانسپوٹ پالیسی رکھتی ہے۔ اصل سوال اان قوانین کے نفاذ اور نگرانی کا ہے۔
دفتری ذمہ داری ' اور ' ذاتی سہولت' الگ کیے جائیں۔مثلاً وزیراعلیٰ کا سرکاری اجلاس میں جانا ریاستی ذمہ داری ہے۔لیکن:ذاتی خریدو فرخت،نجی دعوت، خاندان کی نجی سرگرمی، سیاسی/پارٹی سرگرمی،کے لیے ریاستی وسائل استعمال ہونے کی صورت میں واضح قواعد اور ادائیگی تلافی کا طریقہ کار ہونا چاہیے۔
. سرکاری گاڑیوں پر GPS اور Public Dashboard، یہ ایک عملی اصلاح ہوسکتی ہے۔ہر سرکاری ضابطہ کار گاڑی میں GPS ہو اور مجموعی معلومات عوام کے لیے دستیاب ہو: گاڑی کی شناخت، محکمہ، سرکاری ذمہ داری، اس کے کتنے فاصلے پر کتنا ایندھن کا خرچ،اس سے ''سرکاری گاڑی کس کام کے لیے استعمال ہوئی؟'' ایک قابلِ جانچ سوال بن جائے گا۔
عوام کو بھی ''سفارش'' سے انکار کرنا ہوگا۔یہ سب سے مشکل حصہ ہے۔اگر ہم خود کہتے ہیں:'میرا کام قانون کے مطابق نہیں ہوسکتا، کسی MPA/MNA/افسر کو فون کروا دیں۔“تو ہم اسی نظام کو دوبارہ پیدا کررہے ہوتے ہیں جس کی شکایت کرتے ہیں۔اصلاح صرف حکمران طبقے سے نہیں؛ شہری رویے سے بھی آتی ہے۔
. سرکاری خدمات کو دجیٹل ور قطار ساز بنانا۔جس کام کے لیے سفارش ضروری ہو، وہاں VIP کلچر پیدا ہوگا۔اور جس کام کے لیے: درخواست، ٹوکن، قطار یا فیصلہ سازی کا خود کار نظام ہو، وہاں کسی بااثر شخص کا فون نسبتاً بے معنی ہوجاتا ہے۔اسی لیے ای۔گورنمنٹ دراصل صرف سہولت نہیں بلکہ VIP کے تدارک کا نظام بھی ہوسکتاہے۔
. عوامی عہدے کو استحقاق نہیں، ذمہ داری بنانا،یہ ذہنیت بدلنی ہوگی:''وہ وزیر ہے، اسے راستہ دو۔''اس کے بجائے:''وہ وزیر ہے، اس سے زیادہ شفافیت اور جواب دہی ہونی چاہیے۔''یہ فرق معمولی معلوم ہوتا ہے لیکن جمہوری ریاست کے لیے بنیادی ہے۔
ورلڈ بینک نے بھی پاکستان کے لیے احتساب کے سلسلے میں شہریوں کو معلومات، ردِعمل اورعوامی نمائندوں کو جواب دہ بنانے کے طریقہ کار کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ میرے نزدیک پاکستان کا مسئلہ صرف ''VIP کلچر نہیں بلکہ ریاست تک عدم رسائی ہے۔جب ایک غریب آدمی سرکاری اسپتال میں گھنٹوں انتظار کرے، عدالت میں سالوں مقدمہ چلے، تھانے میں اس کی بات نہ سنی جائے، دفتر میں فائل آگے بڑھانے کے لیے سفارش درکار ہو۔اور دوسری طرف بااثر شخص کا ایک فون پورا نظام تبدیل کردے —تو شہری کے اندر ریاست کے بارے میں ایک بنیادی احساس پیدا ہوتا ہے:''قانون سب کے لیے ایک نہیں ہے۔''اور یہی احساس ریاست پر اعتماد کو کھوکھلا کرتا ہے۔اس لیے حل بھی صرف یہ نہیں کہ وزراء کی گاڑیوں کی تعداد کم کردی جائے۔ اصل اصلاح یہ ہے کہ پاکستان میں کسی عام شہری کا کام بھی اتنی ہی آسانی، عزت اور رفتار سے ہو جتنی ایک بااثر شخص کا کام ہوتا ہے۔اگر ہم واقعی اس ایک اصول کو نافذ کردیں کہ ''شناخت نہیں، قانون فیصلہ کرے گا'' تو VIP کلچر خود بخود بہت کمزور ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں





