جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فرانس میں پر تشدد واقعات، تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

فرانس محض یورپ کا ایک ملک نہیں، بلکہ تہذیب، فنون، فیشن، فلسفے، ادب، سیاحت اور سیاسی تاریخ کا ایک ایسا مرکز ہے جس کی کشش سرحدوں سے آگے تک محسوس کی جاتی ہے۔ پیرس کا ایفل ٹاور، لوور میوزیم، خوشبوؤں کی صنعت، عالمی معیار کے تعلیمی ادارے اور فرانسیسی ادب و فلسفے کی روایت اسے دنیا بھر کے لوگوں کے لیے غیر معمولی دلچسپی کا باعث بناتی ہے۔ فرانسیسی انقلاب نے آزادی، مساوات اور اخوت کے تصورات کو عالمی سیاسی مباحث میں نمایاں مقام دیا، جب کہ فرانس کی ثقافتی زندگی آج بھی لاکھوں سیاحوں اور طالب علموں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ لیکن جب اسی سرزمین کی سڑکوں پر آگ کے شعلے بلند ہوں، سرکاری عمارتیں نشانہ بنیں اور شہری عدم تحفظ کا شکار ہوں تو سوال صرف امن و امان کا نہیں رہتا؛ یہ اس معاشرے کے اندر پنپنے والی بے چینی اور اس کے سیاسی نظام کی صلاحیت کا سوال بھی بن جاتا ہے۔


اکتوبر 2026ء کے وسط میں فرانس کے مختلف شہروں، خصوصاً پیرس، مارسیے، لیون اور بوردو میں شدید بدامنی دیکھنے میں آئی۔ ابتدائی مظاہروں کا تعلق طلبہ کے تعلیمی حالات، زندگی کے بڑھتے اخراجات اور ایندھن کی قیمتوں سے متعلق شکایات سے تھا، لیکن بعض مقامات پر احتجاج نے پُرتشدد صورت اختیار کرلی۔ گاڑیوں کو آگ لگانے، دکانوں کو لوٹنے، پولیس سے تصادم اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات سامنے آئے۔ 17 اور 18 اکتوبر کے دوران صورتِ حال اس حد تک بگڑی کہ حکومت کو اضافی حفاظتی اقدامات کرنا پڑے۔ ان واقعات کے بعد یہ بحث شدت اختیار کرگئی کہ آیا حکومت عوامی اضطراب کا بروقت ادراک کرنے میں ناکام رہی یا احتجاج کے اندر ایسے عناصر شامل ہوگئے جنہوں نے اصل مطالبات کو تشدد میں تبدیل کردیا۔ (اے پی، رائٹرز اور لی موند، اکتوبر 2026ء)

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: پُرامن احتجاج جمہوری معاشرے کا حق ہے، لیکن عوامی املاک کو جلانا، شہریوں کو خوف زدہ کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے کرنا کسی جائز مطالبے کا قابلِ قبول اظہار نہیں۔ اسی طرح چند افراد کے تشدد کو تمام مظاہرین کی نمائندگی سمجھنا بھی حقیقت سے دور ہوگا۔


فرانس میں حالیہ تشدد کو کسی ایک وجہ سے منسوب کرنا درست نہیں۔ اس کے پس منظر میں کئی عوامل ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔

اول: معاشی دباؤ اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی۔…………مہنگائی، رہائش کے اخراجات، ایندھن کی قیمتیں اور روزگار سے متعلق خدشات عام شہریوں کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ جب نوجوانوں کو محسوس ہو کہ تعلیم اور محنت کے باوجود بہتر مستقبل کی ضمانت موجود نہیں تو ان میں مایوسی جنم لے سکتی ہے۔ معاشی مشکلات لازماً تشدد پیدا نہیں کرتیں، لیکن سیاسی بے اعتمادی کے ساتھ مل کر احتجاج کو زیادہ شدید بنا سکتی ہیں۔

دوم: تعلیمی نظام سے متعلق شکایات۔…………حالیہ احتجاج میں اسکولوں کے حالات اور تعلیمی سہولتوں کے مسائل اہم موضوعات رہے۔ نوجوان جب محسوس کرتے ہیں کہ ان کی آواز نہیں سنی جارہی تو وہ اجتماعی احتجاج کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت سنگین ہوتا ہے جب جائز مطالبات کے ساتھ غیر متعلقہ سیاسی گروہ یا موقع پرست عناصر بھی شامل ہوجائیں۔

سوم: سیاسی تقسیم اور اداروں پر اعتماد میں کمی۔………… فرانس میں مختلف نظریاتی گروہوں کے درمیان کشمکش، حکومت کی پالیسیوں پر اختلاف اور آئندہ صدارتی انتخاب کی سیاسی فضا نے بھی صورتِ حال کو پیچیدہ بنایا ہے۔ صدر عمانوئیل میکرون کی حکومت کو معاشی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں سخت سوالات کا سامنا ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی عوامی غصے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں۔ تاہم یہ طے کرنا کہ کسی ایک جماعت نے پورے تشدد کو منظم کیا، ٹھوس شواہد کے بغیر درست نہیں ہوگا۔

چہارم: احتجاج اور تشدد کے درمیان حد کا مٹنا۔…………سوشل میڈیا پر پیغامات اور ویڈیوز بہت تیزی سے لوگوں کو متحرک کرسکتے ہیں۔ یہ ذرائع جائز مسائل کو اجاگر کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن غیر منظم اجتماعات، اشتعال انگیز مواد اور موقع پرست گروہوں کی موجودگی میں حالات اچانک قابو سے باہر بھی ہوسکتے ہیں۔ حکام کو یہ اندازہ لگانے میں دشواری پیش آئی کہ مختلف شہروں میں احتجاج کس پیمانے پر پھیلے گا۔

اس لیے موجودہ بحران کو صرف بائیں بازو، دائیں بازو، تارکینِ وطن یا کسی مخصوص طبقے سے جوڑ دینا ایک پیچیدہ مسئلے کو غیر ضروری طور پر سادہ بنا دینا ہوگا۔



فرانسیسی حکومت نے بدامنی کے بعد امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس اور دیگر حفاظتی اداروں کی کارروائیاں تیز کی ہیں۔ وزیرِاعظم سباستیاں لکورنو نے 19 اکتوبر کو حکومتی بحران اجلاس کے بعد متعدد اقدامات کا اعلان کیا، جن میں متاثرہ علاقوں میں محدود کرفیو، عدالتی کارروائیوں کو مؤثر بنانا اور نقصان اٹھانے والے تاجروں کی معاونت شامل ہیں۔ حکومت نے ضرورت پڑنے پر ہنگامی حالت نافذ کرنے کا امکان بھی رد نہیں کیا۔ اطلاعات کے مطابق کرفیو کے بعد بعض متاثرہ علاقوں میں رات کے وقت نسبتاً سکون دیکھا گیا، تاہم مزید احتجاج کے خدشات برقرار ہیں۔ (فرانسیسی حکومت، اے ایف پی اور رائٹرز، 19–20 اکتوبر 2026ء)

حکام نے پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں پر زور دیا ہے۔ مختلف خبروں میں گرفتار افراد کی تعداد مختلف اوقات اور مراحل کے حوالے سے بیان ہوئی؛ اس لیے کسی ایک ابتدائی عدد کو حتمی مجموعی تعداد سمجھنا مناسب نہیں۔

حکومت کے لیے ایک دوسرا امتحان بھی ہے: پولیس کو امن بحال کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اس اختیار کا استعمال قانون، ضرورت اور تناسب کے اصولوں کے تابع ہونا چاہیے۔ مظاہروں کے دوران نوجوانوں کے شدید زخمی ہونے اور پولیس کے بعض طریقہ کار پر اعتراضات نے بھی بحث کو جنم دیا ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئیں تو ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف تشدد روکنا نہیں، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا بھی ہے۔محض گرفتاریاں، کرفیو اور اضافی نفری وقتی طور پر حالات سنبھال سکتے ہیں؛ دیرپا امن کے لیے حکومت کو تعلیمی سہولتوں، مہنگائی، نوجوانوں کے روزگار، رہائش اور سیاسی اعتماد جیسے مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔


یہ سوال اب محض مفروضہ نہیں رہا۔ اکتوبر 2026ء کے دوران فرانس کے علاوہ اٹلی، بیلجیم، پرتگال اور البانیہ میں بھی زندگی کے بڑھتے اخراجات، تعلیمی مسائل، حکومتی کفایت شعاری اور رہائش کی مشکلات کے خلاف بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ اٹلی کے شہر میلان میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا، جب کہ بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں بھی احتجاج کے دوران تشدد اور آتش زنی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پرتگال میں مکانات کی بڑھتی قیمتوں اور کرایوں کے خلاف مظاہرین نے احتجاجی کیمپ قائم کیے، جنہیں پولیس نے بعد میں خالی کرایا۔ (الجزیرہ اور رائٹرز، 17–20 اکتوبر 2026ء)

ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ یورپ کے مختلف معاشروں میں بے چینی کے کچھ اسباب مشترک ہیں، لیکن ہر ملک کے حالات اور احتجاج کی نوعیت مختلف ہے۔ فرانس میں تعلیمی شکایات اور مہنگائی کے ساتھ سیاسی کشیدگی بھی نمایاں ہے، جب کہ پرتگال میں رہائش کا بحران اور بیلجیم میں حکومتی کفایت شعاری کے اقدامات اہم محرکات ہیں۔یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی پُرتشدد واقعات کا امکان موجود ہے، خصوصاً وہاں جہاں معاشی مشکلات، نوجوانوں کی مایوسی، سیاسی تقسیم اور اداروں پر عدم اعتماد ایک ساتھ بڑھ رہے ہوں۔ سوشل میڈیا مختلف ممالک میں احتجاجی تحریکوں کو ایک دوسرے سے متاثر ہونے کا موقع دیتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا یورپ لازماً ایک ہی نوعیت کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بروقت اصلاحات، مؤثر مکالمہ اور ذمہ دارانہ حکمتِ عملی ان حالات کو بگڑنے سے روک سکتی ہے۔


فرانس کے موجودہ حالات یورپ کی جمہوری حکومتوں کے لیے ایک اہم سبق رکھتے ہیں۔ ریاست کی رِٹ برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ قانون کی عدم موجودگی میں سب سے زیادہ نقصان عام شہری، محنت کش، دکاندار اور طالب علم اٹھاتے ہیں۔ لیکن ریاستی طاقت اسی وقت مؤثر اور قابلِ احترام رہتی ہے جب اس کا استعمال منصفانہ، شفاف اور متناسب ہو۔

فرانسیسی حکومت نے سکیورٹی کی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے آئندہ احتجاج کے لیے بڑے پیمانے پر پولیس کی تعیناتی، حساس مقامات پر فوجی اہلکاروں کی معاونت اور انٹیلی جنس و حفاظتی حکمتِ عملی میں بہتری کا اعلان کیا ہے۔ 20 اکتوبر کی اطلاعات کے مطابق حکام نے پولیس کی تعیناتی میں خامیوں کا بھی اعتراف کیا، جب کہ واقعات کی وجوہات جاننے کے لیے پارلیمانی تحقیقاتی عمل شروع کرنے کی بات سامنے آئی۔ (رائٹرز، 20 اکتوبر 2026ء)۔یہ اقدامات فوری طور پر امن بحال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، مگر اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب حکومت نوجوانوں کی شکایات کو سننے، تعلیمی نظام بہتر بنانے، معاشی دباؤ کم کرنے اور عوامی اداروں پر اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوگی۔ محض طاقت کے ذریعے خاموشی پیدا کی جاسکتی ہے، دلوں میں اعتماد نہیں۔