لاس ویگاس کو ہوائی کا ’’نواں جزیرہ‘‘ کیوں کہا جاتا ہے

امریکی شہر لاس ویگاس، جو جوئے کے اڈوں اور رنگا رنگ تفریحی مقامات کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے، اب ہوائی جزائر سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے بھی ایک اہم مرکز بن چکا ہے، اسی وجہ سے اسے غیر رسمی طور پر ہوائی کا ’’نواں جزیرہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
امریکی ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں مقیم ہوائی باشندوں اور بحرالکاہل کے جزائر سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد تقریباً 50 ہزار بتائی جاتی ہے۔ یہ کمیونٹی اپنی روایات، زبان، موسیقی، رقص اور روایتی کھانوں کے ذریعے اپنی ثقافت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔رپورٹ کے مطابق لاس ویگاس میں ہر ماہ منعقد ہونے والی ’’کِلہ کائن نائٹ مارکیٹ‘‘ اس ثقافتی رنگا رنگی کی نمایاں مثال ہے، جہاں ہوائی باشندوں کی ملکیت والے کاروبار، کھانے پینے کے اسٹالز، روایتی موسیقی اور ہولا رقص لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ ان تقریبات میں مقامی افراد کے ساتھ دیگر علاقوں سے آنے والے لوگ بھی شرکت کرتے ہیں۔
لاس ویگاس میں ہوائی باشندوں کی آمد کا سلسلہ تقریباً نصف صدی قبل شروع ہوا، جب کاروباری شخصیت سیم بوئڈ نے 1975 میں کیلیفورنیا ہوٹل اینڈ کیسینو قائم کیا۔ ابتدائی طور پر اس ہوٹل کا ہدف جنوبی کیلیفورنیا کے سیاح تھے، تاہم بعد میں ہوائی جزائر سے تعلق رکھنے والے افراد کو متوجہ کرنے کے لیے خصوصی سفری پیکجز متعارف کرائے گئے۔ان پیکجز میں ہوائی جہاز کا کرایہ، ہوٹل میں قیام اور کھانے پینے کی سہولتیں شامل تھیں۔ ہوٹل میں ہوائی طرز کے کھانے اور جزائر کی ثقافت سے مشابہ ماحول نے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کیا، جس کے نتیجے میں ہوائی اور لاس ویگاس کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا چلا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بوئڈ گیمنگ کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں ہوائی سے آنے والے مہمانوں نے کیلیفورنیا ہوٹل میں زیرِ استعمال کمروں کی مجموعی راتوں کا تقریباً 75 فیصد حصہ استعمال کیا، جبکہ مین اسٹریٹ اسٹیشن ہوٹل اینڈ کیسینو میں یہ شرح 45 فیصد اور فریمونٹ ہوٹل اینڈ کیسینو میں 37 فیصد رہی۔لاس ویگاس میں ہوائی ثقافت کی پہچان بننے والے کھانوں میں لہسن والے جھینگے، ٹیریاکی برگر، چکن ، چاول، میکرونی سلاد اور دیگر روایتی پکوان شامل ہیں۔ شہر میں متعدد فوڈ ٹرکس اور ریستوران ہوائی طرز کے کھانے پیش کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جزائر سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے یہ کھانے اپنے آبائی علاقے کی یاد تازہ کرتے ہیں، جبکہ مقامی کاروباروں کے لیے بھی یہ ایک اہم ذریعہ آمدن بن چکے ہیں۔
ہوائی باشندوں کی لاس ویگاس منتقلی کی اہم وجوہات میں زندگی کے اخراجات، روزگار کے مواقع اور گھر خریدنے کی نسبتاً بہتر صلاحیت شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہوائی میں اشیائے ضروریہ اور ایندھن کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باعث بہت سے افراد لاس ویگاس میں مستقل رہائش اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔نیواڈا میں انفرادی آمدنی پر ریاستی ٹیکس بھی عائد نہیں ہوتا، جبکہ ہوائی میں انکم ٹیکس کی شرح 11 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ ان عوامل نے بھی لاس ویگاس کو ہوائی باشندوں کے لیے پرکشش بنایا ہے۔لاس ویگاس میں ہوائی باشندوں کی کمیونٹی اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف تقریبات اور سرگرمیوں کا اہتمام کرتی ہے۔ لاس ویگاس ہوائی سوک کلب نامی غیر منافع بخش تنظیم مقامی افراد کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور ہوائی روایات، زبان، فنون اور اقدار کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔
شہر میں ہولا رقص سکھانے والے ادارے بھی قائم ہیں، جہاں بچوں، نوجوانوں اور بڑوں کو روایتی رقص کی تربیت دی جاتی ہے۔ بعض تعلیمی اداروں میں ہوائی زبان کی تعلیم کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق لاس ویگاس میں ہونے والے ثقافتی میلوں میں ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک سالانہ میلے میں 150 سے زائد مقامی کاروباری اسٹالز اور درجنوں ہولا رقاصوں اور موسیقاروں نے حصہ لیا، جبکہ آٹھ گھنٹوں کے دوران 10 ہزار سے زائد افراد وہاں پہنچے۔یوں صحرائے موجاوی کے وسط میں واقع لاس ویگاس محض تفریحی سرگرمیوں کا شہر نہیں رہا بلکہ ہوائی اور بحرالکاہل کے جزائر سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ثقافتی وابستگی، خاندانی تعلقات اور نئی زندگی کی تعمیر کا اہم مرکز بھی بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر کو پیار سے ہوائی کا ’’نواں جزیرہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں



ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر

