میں جو ادھورے خوابوں اور ادھوری خواہشوں کے ساتھ بھی مطمئن رہا کرتی تھی۔ اب بے چینیوں میں ڈوب گئی ہوں۔ عجیب بات ہے، پہلے کمیوں کے باوجود سکون تھا، اور اب سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دل ویران ہے۔
کبھی میری ہنسی پہ لوگ رشک کیا کرتے تھے۔ میرے قہقہے کمروں کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹتے تھے، مگر اب خاموشی میرے اندر ایسے بسی ہے جیسے کوئی پرانا زخم جو بھرنے سے انکار کر دے۔
کہنے کو باتیں آج بھی بہت ہیں۔ اتنی کہ شاید پوری رات بھی کم پڑ جائے۔ مگر سننے والا کوئی نہیں۔ اب سمجھ آئی ہے کہ باتیں لفظوں سے نہیں، انسانوں سے زندہ رہتی ہیں… اور تمہارے جانے کے بعد جیسے سب لفظ مر گئے۔
تمہارے ہونے سے یہ دنیا مکمل لگتی تھی۔
تمہارے بعد زندگی رکی نہیں،مگر زندگی جیسی
بھی نہیں رہی۔
میں چلتی ہوں، بولتی ہوں، لوگوں سے ملتی ہوں۔ مگر مجھے خود اپنی آواز اجنبی لگتی ہے۔
اب کبھی آئینے میں خود کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں۔
کیا یہ وہی لڑکی ہے جو تمہارے ساتھ خواب دیکھا کرتی تھی۔
نہیں کوئی اور ہے تھکی ہوئی، خاموش، اور اندر سے ہاری ہوئی۔
پہلے میں ہر بات پہ ہنس دیتی تھی، اب ہر بات دل پہ لگ جاتی ہے۔
پہلے مجھے یقین تھا کہ کوئی ہے جو مجھے سمجھتا ہے اب اس بات پر بھی دل دکھا دیتی ہے۔
لوگ کہتے ہیں ہمیشہ درد میں اپنوں کی یاد آتی ہے مگر میں تو خوشی کے لمحوں میں بھی بے اختیار تمہیں تلاش کرتی ہوں۔ کبھی کوئی بات یاد آتی ہے، کوئی قصہ ذہن میں بنتا ہے تو دل چاہتا ہے تمہیں سناؤں… مگر لفظ ہونٹوں تک آتے ہی رک جاتے ہیں، اور آنکھوں میں چمک کی جگہ نمی اتر آتی ہے۔
تمہیں یاد ہے؟
تم گھنٹوں میری سنتے رہتے تھے، اور میں بولتی رہتی تھی۔ رات کب صبح میں بدل جاتی، ہمیں خبر ہی نہ ہوتی۔ وہ لمحے جیسے وقت سے چرائے ہوئے تھے اور شاید اسی لیے وقت نے وہ سب مجھ سے واپس لے لیا۔
اب تو لگتا ہے وقت چلتا ہی نہیں، بس رکا ہوا ہے ایک ہی لمحے میں قید، جہاں تم نہیں ہو۔
میں تم سے کہا کرتی تھی کہ میں اکیلی نہیں ہوں، میرے پاس لوگ ہیں، رشتے ہیں، دوست ہیں… تمہارے ہونے نہ ہونے سے مجھے کیا فرق پڑے گا۔
کتنی بڑی غلطی تھی میرا یہ سمجھنا کہ ہجوم تنہائی کو ختم کر دیتا ہے۔
اب تم نہیں ہو تو محسوس ہوتا ہے کہ میرے ہونے نہ ہونے سے بھی کسی کو فرق نہیں پڑتا۔ دن ہفتے پھر مہینوں میں بدل جاتے ہیں مگر کوئی آواز نہیں آتی جو میرا نام لے۔
اس رنگین دنیا میں ایک بد نصیب کو بھلا کون یاد رکھتا ہے۔
کبھی سوچتی ہوں یہ برا وقت ہے، گزر جائے گا۔ پھر خیال آتا ہے میرا اچھا وقت تھا ہی کب؟
وہ تو صرف تم تھے جو بہار بن کر آئے تھے، ورنہ میری زندگی تو ہمیشہ خزاں ہی رہی۔
لوگ کہتے ہیں ملنا اور بچھڑنا زندگی کا دستور ہے، مگر تمہارا بچھڑنا دستور نہیں، سزا لگتا ہے۔ تم میری غلطیوں میں کھو گئےاور تمہارا کھونا میری آنکھوں کی روشنی لے گیا۔
اب تو ایسا لگتا ہے جیسے آنکھیں ہوتے ہوئے بھی دیکھ نہیں سکتی، کیونکہ جسے دیکھنا تھا وہی نہیں رہا۔
یہ ایک عجیب سی بے بسی ہے۔ ایسی بے بسی جو انسان کو زندہ رکھ کر بھی ختم کر دیتی ہے۔
اب صرف سانسوں کی ایک تھکی ہوئی ڈور باقی ہے، جو نہ جانے کب تک قائم رہے…
اور اس کے ٹوٹنے تک شاید مجھے اسی طرح یادوں کے ویران راستوں پر بھٹکتے رہنا ہے۔
کبھی کبھی رات کے آخری پہر جب سب سو جاتے ہیں اور دنیا کی آوازیں تھم جاتی ہیں، تب مجھے اپنی سانسوں کی آواز سنائی دیتی ہے… ایسی جیسے کوئی تھکا ہوا مسافر ابھی تک چل رہا ہو، حالانکہ منزل بہت پہلے کھو چکی ہے۔
میں سوچتی ہوں۔ اگر کسی دن اچانک میں نہ رہوں تو کیا واقعی کوئی محسوس کرے گا کہ ایک آواز کم ہو گئی ہے؟
میرے اندر سے آواز آتی ہے نہیں زندگی ویسے ہی چلتی رہے گی جیسے ہمیشہ چلتی آئی ہے۔
کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا…
ہاں مگر میرے ساتھ بہت سی باتیں بھی ختم ہو جائیں گی۔وہ باتیں جو صرف تمہارے لیے تھیں، وہ خواب جو صرف تمہارے ساتھ دیکھے تھے، مگر حقیقت نہ بن سکے،وہ دعائیں جن میں ہمیشہ تم شامل رہے۔
مجھے اب بھی یاد ہے تمہارا کہنا کہ میں مضبوط ہوں…
کتنی عجیب بات ہے، مضبوط وہ نہیں ہوتا جو نہیں ٹوٹتا مضبوط وہ ہوتا ہے جو ٹوٹ کر بھی سانس لیتا رہے۔
میں بھی سانس لے رہی ہوں…
بس زندہ نہیں ہوں۔
کبھی کبھی دل چاہتا ہے وقت کو وہیں روک دوں جہاں تم تھے،
جہاں ہنسی سچی تھی،
جہاں امید باقی تھی،
جہاں دل خالی نہیں تھا۔
مگر وقت کبھی واپس نہیں آتا، اور کچھ لوگ بھی نہیں۔
اب تو بس یہی لگتا ہے کہ میری زندگی ایک ادھوری کہانی ہے، جس کا اہم کردار بیچ میں ہی کھو گیا اور باقی صفحے صرف خاموشی سے بھر گئے۔
شاید ایک دن میں واقعی تھک جاؤں گی…
اتنا کہ یادیں بھی بوجھ لگنے لگیں گی۔
اور پھر شاید پہلی بار سکون ملے گا۔
جب نہ تمہیں ڈھونڈنا پڑے گا،
نہ خود کو سنبھالنا پڑے گا۔
مگر اس دن تک
میں اسی طرح جیتی رہوں گی۔
تمہاری یاد کے سہارے،
تمہاری کمی کے ساتھ۔
کیونکہ کچھ محبتیں ملنے سے نہیں،
بچھڑ جانے سے مکمل ہوتی ہیں۔
اور تم
میری زندگی کی وہ محبت ہو
جو ادھوری رہ کر بھی پوری رہے گی۔
مزید پڑھیں





