ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

افسانہ: ٹوٹے آئینے کا عکس،تحریر:ایم زیڈ کنول

نقطہ نظر

شہر پر شام اتر رہی تھی۔ پرانی عمارتوں کے شکستہ کنگروں سے پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے، مگر چوک کے گرد پھیلے بازار میں زندگی کا ہنگامہ جاگ رہا تھا۔ دکانوں کے روشن بورڈ دھندلکے کے سینے پر رنگین دھبوں کی طرح ابھر آئے تھے۔ کہیں بھاؤ تاؤ پر جھگڑا ہو رہا تھا، کہیں سیاست دان کی تقریر سننے کے لیے ہجوم جمع تھا، اور کہیں ایک بھکاری خالی کاسہ لیے ان قدموں کی چاپ سن رہا تھا جو اس کے پاس سے گزرتے ہوئے بھی اس کی طرف نہیں دیکھتے تھے۔

چوک کے عین وسط میں ایک عظیم آئینہ نصب تھا۔ اس کا پیتل کا حاشیہ وقت کی انگلیوں سے سیاہ پڑ چکا تھا، مگر شیشے میں ایک عجیب سی شفافیت تھی۔ اس کے سامنے کھڑے ہونے والا شخص صرف اپنا چہرہ نہیں دیکھتا تھا بلکہ اس کا باطن بھی اس پر عیاں ہوتا تھا اور اس کے چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی نیت بھی اس کے سامنے آ کھڑی ہوتی تھی۔

شہر کے بوڑھے بتایا کرتے تھے کہ یہ آئینہ کسی بادشاہ نے نہیں، ایک گمنام درویش نے تعمیر کروایا تھا۔ درویش نے آئینہ نصب کرتے وقت صرف اتنا کہا تھا:

’’یہ شہر اس دن تک آباد رہے گا، جب تک اس کے لوگ اپنے چہروں سے زیادہ اپنے کردار کی فکر کریں گے۔ جس روز انہیں اپنا عکس برا لگنے لگے، سمجھ لینا کہ آئینہ خطرے میں ہے۔‘‘

درویش دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر آئینہ وہیں رہا۔

کئی نسلوں سے ایسا ہو رہا تھا۔ لوگ اس کے سامنے رکتے، اپنے گریبان میں جھانکتے اور خاموشی سے گزر جاتے۔ پھر وقت نے پانسہ پلٹا۔ شہر کا نقشہ بدلنے لگا۔ پرانی حویلیوں کی جگہ شیشے کی عمارتیں بن گئیں، کچے راستے کشادہ سڑکوں میں ڈھل گئے، گلیوں میں بجلی کے قمقمے روشن ہو گئے۔ شہر نے ترقی کے نئے معنی سیکھ لیے، اور اس کے باسی اپنے اندر کے اندھیروں سے آہستہ آہستہ مانوس ہوتے گئے۔

ایک روز شہر کا ایک بااثر تاجر حارث ملک کا اس آئینے سے سامنا ہوا۔ حارث ملک کی انگلیوں میں قیمتی انگوٹھیاں، جسم پر نفیس لباس اور چہرے پر کامیابی کا فاتحانہ اطمینان تھا۔ یہ تو اس کا ظاہری روپ تھا لیکن بباطن۔۔۔۔ اس نے ابھی گزشتہ ہفتے ہی مزدوروں کی اجرت روک کر ایک نئی عمارت خریدی تھی جس کے نتیجے میں کئی خاندانوں کو قرض کے بدلے اپنے گھر چھوڑنے پڑے تھے، مگر اس کے نزدیک یہ سب کاروبار کے معمولی تقاضے تھے۔

اس نے آئینے میں دیکھا تو اسے اپنے پیچھے ایک لمبی قطار دکھائی دی۔ جن میں کچھ گرد آلود چہروں والے مزدور تھے، انہی میں ایک عورت بھی تھی جس کی گود میں بیمار بچہ تھا، اور وہیں ایک بوڑھا شخص اپنی زمین کے کاغذات سینے سے لگائے کھڑا تھا۔

حارث نے پلٹ کر دیکھا تو وہاں اسے کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔

اس نے دوبارہ آئینے کی طرف نگاہ ڈالی۔ اس بار اس نے دیکھا کہ اس کے اپنے ہاتھوں پر سیاہی پھیلی ہوئی تھی۔

’’یہ کیا تماشا ہے؟‘‘ وہ جھنجھلا کر بولا۔ ’’میں شہر کے بڑے تاجروں میں شمار ہوتا ہوں۔ فلاحی اداروں کو چندہ دیتا ہوں۔ میرے نام سے مسجد بھی تعمیر ہوئی ہے۔ یہ آئینہ میری توہین کیوں کر رہا ہے؟‘‘

قریب کھڑے ایک بوڑھے شیشہ گر نے، جو اکثر آئینے کے حاشیے کی صفائی کرتا تھا، دھیرے سے جواب دیا: ’’صاحب، آئینہ تو وہی دکھاتا ہے جو اس کے سامنے ہوتا ہے۔ شاید آپ پہلی مرتبہ خود کو دیکھ رہے ہیں۔‘‘

حارث کا چہرہ سرخ ہو گیا۔

’’بکواس! ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔‘‘

بوڑھے نے سر جھکا لیا۔

’’جی، ہر چیز کی حد ہوتی ہے۔ صرف انسان کی خود فریبی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔‘‘

حارث وہاں سے چلا گیا، مگر اس کے قدموں کی تیزی بتا رہی تھی کہ وہ آئینے سے نہیں، اس عکس سے بھاگ رہا تھا جس نے اس کے بنائے ہوئے تصورِ ذات میں دراڑ ڈال دی تھی۔

اس واقعے کے چند دن بعد شہر میں ایک نئی تحریک شروع ہوئی۔ اس کا نعرہ تھا۔ شہر کی مثبت شناخت، روشن مستقبل کی ضمانت۔

تحریک کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آئینہ شہریوں میں مایوسی پھیلا رہا ہے۔ اس کے سامنے لوگ اپنی خامیاں دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں، کاروبار متاثر ہوتا ہے، نوجوانوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور شہر کی نیک نامی پر سوال اٹھتے ہیں۔

ایک شام چوک میں جلسہ ہوا۔ اسٹیج پر رنگین جھنڈے لہرا رہے تھے۔ بلند آواز لاؤڈ اسپیکروں سے شہر کی عظمت کے قصیدے نشر ہو رہے تھے۔ سامنے بیٹھے لوگوں میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جنہوں نے کبھی اس آئینے میں جھانکنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی تھی، لیکن وہ اس کے خلاف نعرے لگانے میں پیش پیش تھے۔

حارث ملک نے اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

ساتھیو! ’’ہمیں ایسا شہر چاہیے جو اپنی کامیابیوں پر فخر کرے، نہ کہ اپنی ناکامیوں کا ماتم کرتا رہے۔ ہمیں ایسا آئینہ نہیں چاہیے جو ہر چہرے پر داغ تلاش کرے۔ ہمیں وہ آئینہ چاہیے جو ہماری ترقی، ہماری روایات اور ہماری عظمت دکھائے!‘‘

تالیوں کا شور بلند ہوا۔

مجمع کے آخری سرے پر ایک دبلا پتلا نوجوان کھڑا تھا۔ اس کا نام سلیم تھا۔ وہ اسی شہر کے سرکاری اسکول میں پڑھاتا تھا جہاں بارش کے دن چھت سے پانی ٹپکتا اور گرمیوں میں پنکھے اپنی تھکن کا شور مچاتے تھے۔ سلیم نے ہاتھ اٹھایا۔

’’جناب عالی، ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں ۔‘‘

حارث نے اسے دیکھا اور ناگواری سے کہا۔

’’پوچھیے۔‘‘

’’اگر آئینہ ہمیں ہماری خامیاں دکھاتا ہے تو خامیوں کو دور کرنے کے بجائے آئینہ ہٹانے سے شہر کیسے ترقی کرے گا؟‘‘ سلیم کے سوال کے جواب میں

حارث مسکرا کر کہنے لگا، ’’نوجوان! تم جذباتی ہو۔ شہر صرف سوالوں سے نہیں چلتے، فیصلوں سے چلتے ہیں۔‘‘

سلیم کہاں ہار ماننے والا تھا وہ بے اختیار بول اٹھا

’’بجا فرمایا آپ نے۔ لیکن۔۔ اگر فیصلے سوال سے ڈرنے لگیں تو پھر وہ اصلاح کے نہیں، اقتدار کے فیصلے ہوتے ہیں۔‘‘

اس بار تالیاں نہ بجیں۔ اسٹیج پر بیٹھے لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ جلسے کے منتظم نے مائیک بند کروا دیا، اور سلیم کو مجمع سے باہر نکلنے کا اشارہ کر دیا گیا۔

اگلی صبح شہر کی دیواروں پر ایک نیا اعلان چسپاں تھا۔

"عوامی مفاد کے پیشِ نظر چوک میں نصب متنازع آئینے کا جائزہ لیا جائے گا۔"

چوک کے گرد لکڑی کی باڑ لگا دی گئی۔ سرکاری اہل کاروں نے پیمائش کی، ماہرین نے رپورٹیں تیار کیں اور اخبارات میں بحث چھڑ گئی۔ کسی نے آئینے کو قدیم توہم پرستی کی علامت کہا، کسی نے اسے سماجی انتشار کا سبب قرار دیا۔ چند دانش وروں نے اس کی تاریخی اہمیت پر طویل مضامین لکھے، مگر ان میں سے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو دیکھنے کی ہمت کیسے پیدا کی جائے؟

آخرکار کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اعلان کیا گیا کہ آئینہ شہری نفسیات پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، اس لیے اسے ہٹا دیا جانے ۔

اس حکم نامے پر فوری عمل درآمد کی تیاریاں ہونے لگیں۔

جس روز آئینہ اتارا جانا تھا، چوک میں غیر معمولی ہجوم جمع ہو گیا۔ سب لوگ وہاں تماشائی بن کر آئے تھے۔ کسی کے چہرے پر افسوس نہیں تھا۔ بیشتر کے لیے یہ ایک پرانی چیز کی رخصتی تھی، جس کی موجودگی اب ان کی روزمرہ زندگی میں کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔

شیشہ گر بابا رحمت صبح ہی سے آئینے کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کی سفید داڑھی پر دھوپ کی ہلکی سنہری تہہ جمی تھی۔ وہ خاموشی سے اس کے پیتل کے حاشیے پر یوں ہاتھ پھیر رہا تھا، جیسے کسی بیمار دوست کی پیشانی چھو رہا ہو۔

سلیم بھی وہاں پہنچ گیا۔

’’بابا، آپ کچھ کہتے کیوں نہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’آپ برسوں سے اس آئینے کی حفاظت کر رہے ہیں۔ آج اسے توڑا جا رہا ہے۔‘‘

بابا رحمت نے اس کی طرف دیکھا۔

’’بیٹا، بعض اوقات آدمی کسی چیز کو بچانے کے لیے بولتا ہے، اور بعض اوقات اسے سمجھنے کے لیے خاموش رہتا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ شہر آئینے کو ہٹانے آیا ہے یا اپنے عکس سے نجات پانے؟‘‘

’’کیا دونوں میں فرق ہے؟‘‘ سلیم نے پوچھا

ہاں بیٹا’’بہت بڑا فرق ہے۔ آئینہ ہٹانے سے عکس ختم نہیں ہوتا، صرف دیکھنے کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ پھر انسان اپنے بارے میں وہی ماننے لگتا ہے جو اسے اچھا لگتا ہے۔‘‘

اسی وقت مزدوروں نے لوہے کے ہتھوڑے اور بھاری اوزار اٹھا لیے۔ ایک افسر نے حکم دیا، اور پہلی ضرب آئینے کے کنارے پر پڑی۔

ایک تیز آواز فضا میں ابھری۔

شیشے پر باریک دراڑ دوڑ گئی۔

مجمع کا جوش دیدنی تھا۔ ایک نے سیٹی بجائی۔ دوسرے نے قہقہہ لگاتے ہوئے نعرہ لگایا۔ تیسری ضرب کے ساتھ آئینہ کئی حصوں میں بٹ گیا۔ شیشے کے ٹکڑے زمین پر گرتے گئے، اور ہر ٹکڑے میں شہر کا ایک الگ منظر لرزتا رہا۔ کسی میں بلند عمارت کا سر جھکا ہوا تھا، کسی میں ایک مزدور کا زخمی ہاتھ، کسی میں مسجد کا مینار، کسی میں کوڑے کے ڈھیر پر روٹی تلاش کرتا بچہ۔

آخری بڑا ٹکڑا زمین پر گرا تو بابا رحمت کی آنکھیں بند ہو گئیں۔

سلیم نے جھک کر شیشے کا ایک ٹکڑا اٹھانا چاہا، مگر بابا نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

’’احتیاط، بیٹا! سچ کے ٹکڑے بھی ہاتھ زخمی کرتے ہیں۔‘‘

سلیم نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔

بابا نے ایک گہرا سانس لیا اور بولے

’’ یاد رکھنا، ہر زخمی ہاتھ سچ کی گواہی نہیں ہوتا۔ کبھی آدمی اپنی غلطی کا ملبہ اٹھاتے ہوئے بھی زخمی ہو جاتا ہے۔‘‘

آئینہ ٹوٹنے کے بعد شہر میں ایک عجیب سا سکون پھیل گیا۔

حارث ملک نے اپنے نئے تجارتی منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس کے اشتہاروں میں خوش حال خاندانوں کی تصویریں تھیں، جن کے چہروں پر ایسی مسکراہٹیں سجی تھیں جیسے دنیا میں کسی نے کبھی بھوک نہ دیکھی ہو۔ شہر کے ایک حصے میں جشن منایا جا رہا تھا اور دوسرے حصے میں بجلی کے بل ادا نہ کر سکنے والے خاندان اندھیرے میں بیٹھے تھے۔

چوک کی جگہ ایک خوب صورت فوارہ نصب کر دیا گیا۔ اس کے اطراف سنگِ مرمر کی نشستیں لگائی گئیں ۔ رات کو رنگین روشنیاں پانی پر قوسِ قزح کے نقوش ابھارتیں۔

افتتاحی تقریب میں انتہائی مسرت سے یہ اعلان کیا گیا کہ شہر نے ایک منفی علامت سے نجات پا کر روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھا دیا ہے۔

لوگ خوش تھے کہ اب کوئی ان سے ان کے کردار کا حساب نہیں مانگے گا۔

جلد ہی بازار میں نئے قسم کے آئینے فروخت ہونے لگے۔ ان کی دکان پر لکھا تھا: ’’اپنی پسند کا عکس، اپنی پسند کی حقیقت۔‘‘

ایک آئینہ صرف خوب صورتی دکھاتا تھا۔ دوسرا دولت کو کئی گنا بڑھا کر پیش کرتا۔ تیسرے میں آدمی اپنی ہر ناکامی کے لیے دوسروں کو ذمہ دار دیکھ سکتا تھا۔ ایک خاص آئینہ ایسا بھی تھا جس میں دیکھنے والے کو ہر وقت مظلومیت کا احساس ہوتا، خواہ وہ خود کسی دوسرے پر ظلم کیوں نہ کر رہا ہو۔

دکاندار گاہکوں کو ان آئینوں کے فائدے سمجھاتا۔

’’صاحب، زمانہ بدل گیا ہے۔ اب کون تلخ حقیقتیں دیکھنا چاہتا ہے؟ آدمی دن بھر کی پریشانیاں لے کر گھر آتا ہے۔ اسے سکون چاہیے، اپنے بارے میں اچھا محسوس کرنے کا حق چاہیے۔‘‘

ایک گاہک نے آئینہ خریدتے ہوئے پوچھا، ’’اور اگر اس میں دکھائی دینے والا چہرہ حقیقت سے مختلف ہوا تو؟‘‘

دکاندار نے پیکٹ لپیٹتے ہوئے جواب دیا:

’’جناب، حقیقت سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آدمی حقیقت کے بارے میں کیا محسوس کرتا ہے۔‘‘

دونوں ہنس پڑے۔

ادھر بابا رحمت ہر شام فوارے کے پیچھے پڑے ملبے سے شیشے کے ٹکڑے چنتا۔ انہیں کپڑے میں لپیٹتا اور اپنی چھوٹی سی جھونپڑی میں لے جاتا۔ بچے اسے دیکھ کر آوازیں کستے۔

’’بابا، کیا ان ٹکڑوں سے نیا آئینہ بنے گا؟‘‘

وہ مسکرا کر کہتا، ’’بن بھی گیا تو تمہیں دیکھنا پڑے گا کہ اسے بنانے والے نے کیا جوڑا ہے اور کیا چھوڑ دیا ہے۔‘‘

ایک دن سلیم اپنے اسکول سے لوٹتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ میں بچوں کی امتحانی کاپیاں تھیں۔ سرخ قلم سے لگائے گئے نشانوں کے درمیان اسے ایک طالب علم کا جملہ بار بار یاد آ رہا تھا:

’’سر، اگر اسکول میں سب بچوں کو برابر سمجھا جاتا ہے تو امیر بچوں کے لیے الگ کمرے اور غریب بچوں کے لیے ٹوٹی کرسیاں کیوں ہیں؟‘‘

سلیم نے کاپی بند کر دی۔

’’بابا، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم بچوں کو سچ بولنا سکھاتے ہیں، پھر بڑے ہو کر انہیں وہی سچ چھپانے کے طریقے سکھا دیتے ہیں۔‘‘

بابا رحمت نے ایک ٹکڑا اس کے سامنے رکھا۔

’’یہ دیکھو۔‘‘

سلیم نے اس میں جھانکا۔ اسے اپنا چہرہ دکھائی دیا، مگر شیشے کی دراڑ نے اس کی پیشانی کو دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا۔

’’اس میں تو میں ٹیڑھا دکھائی دے رہا ہوں۔‘‘

بابا نے پوچھا، ’’کیا تم واقعی ٹیڑھے ہو؟‘‘

’’نہیں۔‘‘

’’تو پھر ٹکڑے کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کرو کہ وہ تمہیں پورا کیوں نہیں دکھا سکتا۔‘‘

سلیم کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا،

’’یعنی ہر ٹکڑا مکمل سچ نہیں ہوتا؟‘‘

’’بالکل۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر ٹکڑا جھوٹ ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی اپنے ہاتھ میں موجود ٹکڑے کو پورا آئینہ قرار دے دیتا ہے۔‘‘

بابا نے ٹکڑے سمیٹتے ہوئے مزید کہا:

’’کسی ایک شخص کا دکھ پورے معاشرے کی تصویر نہیں، لیکن اس دکھ کو جھٹلا دینا بھی حقیقت سے انکار ہے۔ کسی ایک جماعت کی نیکی تمام انسانوں کی نیکی کا ثبوت نہیں، اور کسی ایک فرد کی بدی پوری قوم کا فیصلہ نہیں ہو سکتی۔ سچ کو دیکھنے کے لیے صرف آنکھیں نہیں، انصاف بھی چاہیے۔‘‘

سلیم کو پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ ٹوٹے ہوئے آئینے کا مسئلہ محض شکستگی نہیں تھا۔ ہر ٹکڑے کو اس کی جگہ دینا، اس کے زاویے کو سمجھنا اور پھر اس سے آگے دیکھنے کی کوشش کرنا بھی ضروری تھا۔

ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ شہر میں بارشوں نے ڈیرے ڈال دیئے۔

ایک رات بہت موسلا دھار بارش ہوئی۔ فوارے کے اردگرد جمع پانی سڑکوں پر پھیل گیا۔ نشیبی بستیوں کے گھر ڈوبنے لگے۔ جن نالوں کو ترقیاتی منصوبوں کے نام پر تنگ کر دیا گیا تھا، وہ پانی کا راستہ نہ سنبھال سکے۔ صبح ہوئی تو شہر کے خوب صورت اشتہاری بورڈوں کے نیچے کیچڑ، ٹوٹی چارپائیاں اور بھیگے ہوئے بستے پڑے تھے۔

حارث ملک کی نئی عمارت کے تہہ خانے میں بھی پانی بھر گیا۔ اس کے کاغذات اور قیمتی سامان بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ وہ غصے میں بلدیہ کے دفتر پہنچا۔

’’یہ انتظام کس نے کیا تھا؟‘‘ اس نے افسر سے پوچھا۔ ’’نکاسیء آب کا نظام کہاں ہے؟‘‘

افسر نے فائل کھولی۔

’’منصوبہ منظور ہوا تھا، صاحب۔ بجٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔ کام کا بڑا حصہ مکمل دکھایا گیا ہے۔‘‘

’’مکمل دکھایا گیا ہے؟‘‘ حارث چلایا۔ ’’میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ شہر ڈوبا ہوا ہے!‘‘

افسر نے نظریں جھکا لیں۔

’’صاحب، یہ دیکھیئے کاغذات میں تو سب ٹھیک ہے۔‘‘

مزید کشھ بحث نہیں ہو سکتی تھی۔

حارث اس افتاد پر بہت ہراساں تھا۔ وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ سوچوں میں غلطاں

اسے برسوں پہلے آئینے کے سامنے کھڑے ہونے کا لمحہ یاد آ گیا۔ وہی بے چینی، وہی احساس کہ سامنے موجود منظر اس کی تسلیم شدہ حقیقت سے میل نہیں کھاتا۔

دفتر سے نکل کر وہ گاڑی میں بیٹھا تو اس کا ڈرائیور ایک بھیگی ہوئی بچی کو سڑک کے کنارے کھڑا دیکھ کر رک گیا۔ بچی کی عمر کوئی دس برس ہو گی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پھٹا ہوا بستہ تھا، جس میں سے کتابوں کے کنارے باہر نکل رہے تھے۔

حارث نے شیشہ نیچے کیا۔

’’تم یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘

بچی نے جواب دیا، ’’اسکول جا رہی تھی، صاحب۔ راستہ بند ہے۔ ہمارے گھر میں پانی بھر گیا ہے۔ امی نے کہا تھا کتابیں بچا لینا، اس لیے انہیں لے کر نکل آئی۔‘‘

حارث نے اس کے بستے کی طرف دیکھا۔

’’گھر میں اور کچھ نہیں بچایا؟‘‘

بچی نے معصوم حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

’’گھر تو دوبارہ بن جائے گا، صاحب۔ کتابیں بھیگ گئیں تو میں پڑھوں گی کیسے؟‘‘

گاڑی کے اندر خاموشی اتر آئی۔

اس نے بچی کو گاڑی میں بٹھانے کا حکم دیا۔ راستے بھر وہ کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا۔ پہلی مرتبہ اسے شہر کی سڑکیں اپنی کامیابی کا راستہ نہیں، دوسروں کی محرومیوں کا نقشہ دکھائی دے رہی تھیں۔

اس شام وہ بابا رحمت کی جھونپڑی میں جا پہنچا۔ بوڑھا ایک ٹوٹی میز پر شیشے کے ٹکڑے ترتیب دے رہا تھا۔

حارث کچھ دیر خاموش کھڑا رہا، پھر بولا:

’’بابا، اگر وہ آئینہ آج بھی موجود ہوتا تو کیا مجھے دوبارہ وہی عکس دکھائی دیتا؟‘‘

بابا رحمت نے ہاتھ روک لیا۔

’’عکس بدلنے کے لیے آئینہ بدلنا ضروری نہیں ہوتا، صاحب۔ کبھی دیکھنے والے کی نگاہ بدل جائے تو وہی منظر نیا ہو جاتا ہے۔‘‘

’’کیا انسان اپنی غلطیاں درست کر سکتا ہے؟‘‘

’’کر سکتا ہے۔ مگر غلطی تسلیم کرنا اور غلطی کا فائدہ چھوڑ دینا، دو الگ مرحلے ہیں۔ پہلے مرحلے میں زبان بولتی ہے، دوسرے میں کردار۔‘‘

حارث نے سر جھکا لیا۔

بابا رحمت نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ بارش کے بعد آسمان پر بادلوں کے درمیان روشنی کی ایک باریک لکیر ابھر رہی تھی۔

’’جب تک کسی کے پاس اپنی غلطی درست کرنے کا ایک بھی موقع باقی ہے، دیر کا فیصلہ مت کرو۔ لیکن یاد رکھو، توبہ کا ثبوت ندامت کی شدت نہیں، نقصان کی تلافی ہے۔‘‘

اس رات حارث بہت دیر تک جاگتا رہا۔ پہلی مرتبہ اس نے اپنے نام سے منسوب فلاحی اداروں کی فائلیں کھولیں، مزدوروں کے واجبات کا حساب نکالا اور ان زمینوں کے کاغذات منگوائے جنہیں اس نے کمزور لوگوں سے معمولی قیمت پر خریدا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ایک رات میں اس کا ماضی صاف نہیں ہو سکتا، مگر یہ ادراک بھی اسے پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ مستقبل کا دروازہ اب بھی بند نہیں ہوا۔

اگلے چند برسوں میں شہر کے حالات یکسر نہ بدلے۔ بدعنوانی کے پرانے طریقے نئے ناموں سے واپس آتے رہے۔ کچھ لوگ اصلاح کے ہر منصوبے کو اپنے مفاد کے ترازو میں تولتے، کچھ اختلاف کو دشمنی سمجھتے، اور کچھ اپنی پسندیدہ حقیقت کے گرد ایسی دیواریں اٹھاتے جن کے پار سے کسی دوسرے کی آواز سنائی نہ دے۔

بابا رحمت کی جھونپڑی بھی رفتہ رفتہ بوسیدہ ہوتی گئی۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے، آنکھوں کی روشنی مدھم پڑ گئی، مگر وہ ٹوٹے ہوئے آئینے کے ٹکڑے جمع کرتا رہا۔

سلیم اب اسکول کا سربراہ بن چکا تھا۔ اس نے اپنے شاگردوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی مجلس قائم کی تھی، جہاں بچے شہر کے مسائل پر سوال اٹھاتے، مختلف نقطۂ نظر سنتے اور اپنی رائے کے حق میں دلیل پیش کرتے۔ وہاں کسی بچے کو محض اس لیے خاموش نہیں کرایا جاتا تھا کہ اس کا سوال کسی بڑے کو ناگوار گزرا تھا۔

ایک روز سلیم اپنے چند شاگردوں کو لے کر بابا رحمت کے پاس پہنچا۔ بچوں نے شیشے کے ٹکڑے دیکھے تو ایک لڑکے نے پوچھا:

’’بابا، کیا ہم ان سب کو جوڑ کر وہی پرانا آئینہ بنا سکتے ہیں؟‘‘

بابا رحمت کے لبوں پر تھکی ہوئی مسکراہٹ پھیل گئی۔

’’شیشہ جوڑنے والے بہت مل جائیں گے، بیٹا۔ اصل مشکل ان لوگوں کو جوڑنا ہے جو اپنے اپنے ٹکڑے کو پورا سچ سمجھ بیٹھے ہیں۔‘‘

ایک بچی نے سوال کیا، ’’تو پھر ہم کیا کریں؟‘‘

بابا نے صندوق کی طرف اشارہ کیا۔

’’ہر ٹکڑے کو غور سے دیکھو۔ معلوم کرو کہ اس میں کیا نظر آتا ہے اور کیا چھوٹ جاتا ہے۔ پھر دوسرے ٹکڑے کو اپنے ساتھ رکھو۔ اختلاف کو مٹائے بغیر سمجھنے کی کوشش کرو۔ اور سب سے بڑھ کر، اپنے حصے کی دراڑ کو دوسروں کی غلطی قرار دے کر مت چھپاؤ۔‘‘

بچوں نے شیشے کے ٹکڑوں کو احتیاط سے اٹھایا۔ کسی نے ان پر نمبر لکھے، کسی نے ان کے زاویے ناپے، اور کسی نے کاغذ پر ان کی مدد سے ایک نقشہ بنانا شروع کر دیا۔

سلیم نے حیرت سے پوچھا، ’’بابا، آپ نے یہ سب ٹکڑے اتنے برس کیوں سنبھالے؟‘‘

بوڑھے نے صندوق پر ہاتھ رکھا۔

’’کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ شہر اپنی شکست کی تاریخ بھول جائے۔ جو معاشرے اپنی غلطیوں کے آثار مٹا دیتے ہیں، وہ اکثر انہیں نئے نام دے کر دوبارہ دہراتے ہیں۔‘‘

یہ اس کی آخری گفتگو ثابت ہوئی۔

چند ہفتوں بعد بابا رحمت دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کی جھونپڑی میں اس کا واحد اثاثہ ایک لکڑی کا صندوق تھا۔ جس میں آئینے کے ٹکڑے کپڑے کی تہوں میں لپٹے ہوئے تھے۔ ہر ٹکڑے کے ساتھ ایک چھوٹی پرچی تھی۔ کسی پر لکھا تھا ’’بھوک‘‘، کسی پر ’’اختیار‘‘، کسی پر ’’تعلیم‘‘، کسی پر ’’انصاف‘‘ اور کسی پر ’’خود فریبی‘‘۔

صندوق کی تہہ میں ایک کاغذ رکھا تھا، جس پر لرزتے ہوئے ہاتھوں سے لکھا گیا تھا:

’’آئینہ انسان کو سچ دکھا سکتا ہے، مگر سچ قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ یہ کام ضمیر، علم اور اجتماعی انصاف کا ہے۔ اگر تم آئینہ دوبارہ بناؤ تو اس میں صرف حکمرانوں کے چہرے نہیں، عوام کی ذمہ داریاں بھی دکھائی دینی چاہییں۔ کیونکہ کوئی معاشرہ صرف اپنے رہنماؤں سے نہیں بنتا۔ اس کی خاموشیاں، اس کے تعصبات اور اس کی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی بے انصافیاں بھی اس کی تعمیر میں حصہ لیتی ہیں۔‘‘

وہ صندوق اپنی ملکیت میں لینے کے بعد سلیم نے شہر کے نوجوانوں، اساتذہ، کاریگروں اور چند دیانت دار سرکاری اہل کاروں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ شروع کیا۔ اس کا مقصد پرانا شیشہ دوبارہ بنانا نہیں تھا، بلکہ چوک کو ایسی جگہ میں تبدیل کرنا تھا جہاں شہری اپنے اجتماعی مسائل پر کھل کر گفتگو کر سکیں۔

ابتدا میں بہت مخالفت ہوئی۔

ایک تاجر نے کہا، ’’شہر کو فوارہ چاہیے، بحث مباحثے کا اکھاڑا نہیں۔‘‘

ایک سیاست دان نے اعتراض کیا، ’’عوام کو سوالوں میں الجھانے سے بہتر ہے کہ انہیں واضح جواب دیے جائیں۔‘‘

ایک شہری نے پوچھا، ’’اور اگر ہر شخص اپنی ہی بات منوانے پر اصرار کرے تو؟‘‘

سلیم نے جواب دیا، ’’تب ہمیں یہ سیکھنا ہو گا کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو سننا کیسے ہے؟ مکالمہ اس بات کا نام نہیں کہ ہر شخص اپنی رائے چھوڑ دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی رائے کو پورا سچ سمجھ کر دوسروں کے حقِ اظہار سے انکار نہ کرے۔‘‘

کئی مہینوں کی محنت کے بعد چوک میں ایک نئی تعمیر مکمل ہوئی۔ اس کے درمیان شیشے کا کوئی آئینہ نہیں تھا۔ وہاں ایک کشادہ دیوار تھی جس پر شہر کے مسائل، عوامی منصوبوں کے حسابات، اسکولوں کی صورتِ حال، پانی کی فراہمی اور بلدیاتی فیصلوں کی تفصیلات درج کی جاتی تھیں۔ اس کے ساتھ ایک کھلا ہال تھا، جہاں شہریوں کو حکام سے سوال کرنے، جواب سننے اور اختلاف درج کروانے کا موقع ملتا تھا۔

دیوار کے اوپر ایک مختصر عبارت کندہ تھی:

’’یہاں چہرے نہیں، فیصلے دیکھے جائیں گے اور ہر فیصلے کا حساب سب کو دینا ہو گا۔‘‘

افتتاح کے روز حارث ملک بھی وہاں موجود تھا۔ اس نے اپنے کاروباری اداروں میں مزدوروں کے واجبات کی ادائیگی اور بے دخلی کے بعض معاملات کی تلافی کے اقدامات شروع کر دیے تھے۔ لیکن یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا تھا، اور شہر کے کچھ لوگ اب بھی اس کے ماضی کو یاد رکھتے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ چند اچھے فیصلے برسوں کے نقصان کو فوراً ختم نہیں کر سکتے۔

تقریب کے دوران ایک نوجوان نے اس سے سوال کیا:

’’آپ نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا ہے۔ لیکن ہم کیسے جان جائیں کہ یہ تبدیلی مستقل ہے؟‘‘

حارث نے چند لمحے توقف کرنے کے بعد یوں لب کشائی کی۔

’’تمہیں میرے الفاظ پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں۔ میرے فیصلوں کا جائزہ لو، میرے اداروں کے حسابات دیکھو اور جہاں میں غلط ہوں، مجھے جواب دہ ٹھہراؤ۔ اگر میں واقعی بدلا ہوں تو یہ نگرانی مجھے کمزور نہیں، بہتر بنائے گی۔‘‘

مجمع میں مکمل خاموشی تھی۔ کسی نے تالیاں نہیں بجائیں، مگر اس بار خاموشی بے بسی کی نہیں تھی۔ لوگ سن رہے تھے، پرکھ رہے تھے اور اپنے ذہن میں سوال محفوظ کر رہے تھے۔

تقریب کے بعد ایک چھوٹی بچی دیوار کے سامنے آ کر رک گئی۔ اس نے اپنے استاد سے پوچھا:

’’سر، کیا اب شہر میں کوئی جھوٹ نہیں بولے گا؟‘‘

سلیم مسکرایا۔

’’بولے گا، بیٹا۔ انسانوں سے غلطیاں بھی ہوں گی، جھوٹ بھی بولا جائے گا۔ کوئی دیوار یا آئینہ ہمیں فرشتہ نہیں بنا سکتا۔ لیکن اب کوشش یہ ہے کہ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے کسی کی آواز نہ چھینی جائے، اور غلطی کرنے والے کو اپنی غلطی چھپانے کے بجائے اسے درست کرنے کا موقع ملے۔‘‘

بچی نے دیوار پر درج اعداد و شمار کی طرف دیکھا، پھر اپنے بستے سے پنسل نکالی اور ایک خالی کونے میں لکھ دیا،

’’اگر ہم سب دیکھنا سیکھ لیں تو کیا شہر بدل سکتا ہے؟‘‘

سلیم نے اس جملے کے نیچے ایک اور سطر لکھ دی،

’’بشرطیکہ دیکھنے کے بعد ہم عمل کرنا بھی سیکھ لیں۔‘‘

شام اتر رہی تھی۔ فوارے کا پانی اب بھی بہہ رہا تھا، مگر اس کے سامنے تعمیر کی گئی نئی جگہ پر اب ایک قبیلے کی صورت بیٹھے تھے ۔ کوئی پانی کے مسئلے پر بات کر رہا تھا، کوئی اسکولوں کی حالت پر، اور کوئی اس بات پر کہ شہر کی ترقی کا حساب صرف بلند عمارتوں سے نہیں، ان لوگوں کی زندگیوں سے بھی لیا جانا چاہیے جو ان عمارتوں کے سائے میں پناہ گزین ہیں۔

چوک کے ایک کنارے پر سلیم نے بابا رحمت کے صندوق سے بچا ہوا ایک ننھا سا شیشے کا ٹکڑا نصب کر دیا۔ وہ پورا چہرہ نہیں دکھاتا تھا۔ اس میں صرف دیکھنے والے کی ایک آنکھ نظر آتی تھی۔

اس کے نیچے کوئی نصیحت درج نہیں تھی۔

شاید اس لیے کہ بعض سوالوں کا جواب پتھر پر لکھ دینے سے نہیں ملتا، انہیں انسانوں کے ضمیر میں جگہ دینا پڑتی ہے۔

ایک شخص اس ٹکڑے کے سامنے رُکا۔ اس نے اپنی آنکھ دیکھی، پھر دیوار پر درج شہری منصوبے کے حسابات کی طرف دیکھا۔ کچھ دیر بعد وہ آگے بڑھا اور متعلقہ دفتر میں ایک سوال درج کروا آیا۔

اس کے پیچھے ایک اور شخص رکا۔

پھر ایک اور۔

شہر کا پرانا آئینہ واپس نہیں آیا تھا۔ اس کی جگہ کوئی جادوئی شے بھی نصب نہیں ہوئی تھی جو ایک نظر میں ہر جھوٹ بے نقاب کر دیتی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب کچھ لوگوں نے اپنے عکس کو آخری حقیقت سمجھنے سے انکار کر دیا تھا۔

اور شاید کسی شہر کی تعمیرِ نو کا آغاز بھی یہی ہے۔ جب انسان اپنے چہرے کی حفاظت سے زیادہ اپنے کردار کی اصلاح کو اہم سمجھنے لگے، جب اختلاف کو پتھر نہیں بلکہ سوال سمجھا جائے، اور جب سچ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے بجائے اپنے خلاف سننے کا حوصلہ پیدا ہو۔

اس رات شہر کی روشنیاں پہلے کی طرح جگمگا رہی تھیں۔ عمارتیں اپنی جگہ کھڑی تھیں، بازار کھلے تھے، اور سڑکوں پر گاڑیوں کا شور بھی معمول کے مطابق تھا۔

مگر چوک میں ایک معمولی سی تبدیلی آ چکی تھی۔

لوگ اب بھی اپنے اپنے آئینے رکھتے تھے، لیکن پہلی مرتبہ شہر میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہو گئے تھے جو آئینہ خریدنے سے پہلے یہ پوچھنے لگے تھے کہ اس میں کیا دکھائی دے گا، اور کیا چھپا رہ جائے گا؟

مگر اس کے ٹکڑوں نے شہر کو ایک نیا سبق دے دیا تھا۔ حقیقت کو مکمل دیکھنے کے لیے صرف شیشہ نہیں، کھلی نگاہ، منصفانہ فکر اور اپنے حصے کی غلطی تسلیم کرنے والا دل بھی درکار ہوتا ہے۔

اور جس دن کسی معاشرے میں یہ تینوں چیزیں جمع ہونے لگیں، اس دن ٹوٹے ہوئے آئینے کا عکس بھی ایک نئی تعمیر کی بنیاد بن سکتا ہے۔