غزل ، خوابیدہ شب ہوئی جو ذرا گل ہوے چراغ،شاعر :صفدر بھٹی
نقطہ نظر
غزل
خوابیدہ شب ہوئی جو ذرا گل ہوے چراغ
اُبھرے، تھا قلب جن سے مزین، تمام داغ
حالت چمن کی کرتی ہے پانی ہمارا خون
بلبل کہیں کہیں ہے سوا غوغا ہائے زاغ
بخشو جمالِ رخ کی زیارت مہِ تمام
اس کارِ زندگی سے جو پاؤ اگر فراغ
ہر شاخ خواب ہائے لطافت سے زرنگار
ممکن نہیں فرار رفیقو بہ سیرِ باغ
چکر ہے تیرے پاؤں میں کیسا یہ گل عذار
ڈھونڈا تمام عمر نہ پایا مگر سراغ
اک رات جبکہ ٹھن گئی میرے عدو کے بیچ
پھر یار میرے سامنے رکھ کے اُٹھا ایاغ
کلیاں ہیں تیرے ہونٹ صنم گال ہیں گلاب
سرمے سے تیز آنکھیں تری سرپھری بُداغ
آتش محبتوں کی رہی اس قدر شدید
آخر کو کر دیے ہیں یہ قلب و جگر اُجاغ
صفدر لہو لہو ہے تہِ خنجرِ فراق
اُس کو شتاب جا کے کرے کوئی تو بلاغ
...................................
ماڈرن سوسائٹی
جب نئے نئے آئے
یاں کواڑ شیشے کے
صاف ہم نے بولا تھا
غرق ہو گئے لوگو
راز راز اب کیسا اب کھلی نمائش ہے
خواہشوں کے زندانی لوگ کب یہ سنتے تھے
ہر کواڑ شیشہ ہے سب برہنہ گھر باہر
کون اب رہا طاہر
ہو گیا ہے باطن بھی صاف صاف اب ظاہر
کیمرے کی آنکھیں تو
کس کا پاس رکھتی ہیں
دیکھ دیکھ ست رنگی ہنستی نکھرتی ہیں
سلفیاں بناتی ہیں
شوق سے دکھاتی ہیں
ساق سینہ ساعد بھی ران بھی شکم یارو
دوستوں عزیزوں کو اجنبی کو محرم کو
ہر طرف ہی شیشہ ہے
سب نظر میں آتا ہے
پھر بھی یار لوگوں کو کچھ نظر نہیں آتا
کوئی تو یہ میجک ہے اور بڑا ٹریجک ہے
روح کانپ اٹھتی ہے
دیکھتا ہوں جب لوگو
گوگلیں لگا کر کے اس سکوپ کے اندر
صرف بس اندھیرا ہے
اور اس اندھیرے کے کلچرل کیسینو میں
تتلیاں بھی جگنو بھی
میڈیائی لہروں پر ڈوبتے ابھرتے ہیں
لڑکھڑاتے پھرتے ہیں
مزید پڑھیں




